محترم بھائی اعجاز اعوان کی خدمت میں

wm-blog

بھائی اعجاز اعوان کے ساتھ خیالات کے ایک تبادلے میں کچھ اور احباب بھی شامل ہو گئے۔ خاکسار کی معروضات کے جواب میں بات کسی قدر تلخی کی طرف نکل گئی۔ اگرچہ تلخی لہجے میں تھی ، فریقین کی نیت کے بارے میں حسن ظن موجود رہا۔ ہوا بس یہ کہ دلائل کی وہ فہرست ایک بار پھر سے دیکھنے میں آئی جو میجر ابن الحسن نے 1958ءمیں تیار کی تھی۔ تفصیلات اور شخصی اشاروں کے بیان کا یارا نہیں ہے ۔ خاکسار نے اپنا اصولی موقف ذیل کی سطروں میں لکھنے کی کوشش کی ہے۔ سپردم بتو مایہ خویش را۔۔۔

انسانی معاشرہ ایک پیچیدہ مظہر ہے اور حکومت چلانا تنے ہوئے رسے پر چلنے کے مترادف ہے۔ اس میں جہاں حکومتی وسائل عوام کے مسائل حل کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں وہاں حکومتوں سے غلطیاں بھی سرزد ہوتی ہیں۔ اگر کسی حکومت کو ہر قدم پر پیچھے مڑ کر طاقت کے متوازن سر چشموں پر نظر رکھنی پڑے تو حکومت اپنی پالیسیوں پر مؤثر عمل درآمد نہیں کروا سکتی۔ اگر حکومت کو یہ معلوم ہو کہ ایوان صدر میں ایسی قوتیں موجود ہیں جو ہمہ وقت حکومت کو کمزور کرنے پر مستعد ہیں تو حکومت کی کارکردگی میں یکسوئی پیدا نہیں ہو سکتی۔ پارلیمانی جمہوریت میں حکومتی اختیارات کا سر چشمہ وزیراعظم کے منصب کو قرار دیا گیا ہے۔
پاکستان میں فوج اور سیاسی قیادت میں بالادستی کے لیے کشمکش کی تاریخ پرانی ہے۔ دراصل انسانی تاریخ میں کوئی معاشرہ اس کشمکش سے خالی نہیں رہا۔ تاریخ کی ابتداہی سے فوجی قوت اقتدار کا سرچشمہ رہی ہے۔ فلسفہ حکومت کا یہ زاویہ خاصا جدید ہے کہ کسی معاشرے میں عسکری قوت پر علمی، پیداواری اور تمدنی قوتوں کی بالادستی قائم کیے بغیر امن، ترقی، استحکام اور خوش حالی کی بنیاد نہیں رکھی جا سکتی۔
واقعہ یہ ہے کہ سیاسی قیادت اور پیوستہ مفادات کی حامل ہیئت مقتدرہ کا تضاد شخصی ٹکراؤ نہیں ہوتا۔ بات یہ ہے کہ آئین میں فوج کے کسی سیاسی کردار کا کوئی ذکر نہیں ہے بلکہ فوجی اہلکاروں کے لیے سیاست میں دخل اندازی کی کڑی ممانعت ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم کو صدر مملکت پر ادارہ جاتی بالا دستی حاصل ہے۔ جب آئین کے اس منشا کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو سیاسی بحران جنم لیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آخر ایک ہی قوم سے تعلق رکھنے والے دومختلف اجزا میں کشمکش کی یہ نوبت کیوں آتی ہے۔ اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ فوج اور معاشرہ اپنی نوعیت، کردار اور طریقہ کار کے حوالے سے دو مختلف مظاہر ہیں۔ جو مہارتیں اور طریقہ کار فوج میں اختیار کیے جاتے ہیں، انہیں معاشرے پر لاگو کیا جائے تو معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ادھر جو مہارتیں اور عملی اصول معاشرے کے لیے کارآمد ہیں انہیں فوج میں رائج کیا جائے تو فوج اپنے فرائض منصبی ٹھیک طریقے سے ادا نہیں کر سکتی۔
فوج میں تمام کارروائیوں کو خفیہ رکھا جاتا ہے۔ انہیں نہ صرف یہ کہ دشمن سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے بلکہ غیر متعلقہ افراد کو بھی لا علم رکھا جاتا ہے۔ دوسری طرف سیاسی عمل میں پارلیمنٹ ہوں یا عدالتیں، ان کی کارروائیاں طے شدہ ضابطوں کے مطابق اور شفاف طریقے سے ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ فوج میں قیادت کی وحدانیت کا تصور پایا جاتا ہے جس میں اختلاف رائے کی گنجائش نہیں ہوتی۔ دوسری طرف سیاسی عمل میں قوم کی اجتماعی فراست اور مشاورت کو بروئے کار لایا جاتا ہے۔ اختلاف رائے جو عسکری اداروں کے لیے زہر قاتل ہے، جمہوریت کے لیے لازمی امر ہے۔ اسی طرح فوجی کارروائی میں مخالف قوتوں کو حیران کرنے کی حکمت عملی اپنائی جاتی ہے تاکہ وہ اچانک حملے کی تاب نہ لا کر پسپا ہو جائیں دوسری طرف سیاسی عمل میں ایک نامیاتی ارتقا پایا جاتا ہے جس میں تسلسل اور تواتر کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ سیاسی عمل میں حیران کرنے کی حکمت عملی عارضی جب کہ طے شدہ منزل کی طرف پیش قدمی تسلسل رکھتی ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کو مخالف کی نیت پر شک کرنے کی تربیت دی جاتی ہے۔ اسے خود کو ہر طرح کی ہنگامی صورت حال کے لیے تیار رکھنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف سیاست اعتماد کے پل باندھنے کا عمل ہے۔ مسلسل شکوک شبہات کی فضا میں سیاسی عمل فساد اور تفرقے کی طرف لے جاتا ہے۔ سیاست مختلف گروہوں، طبقات اور خطوں میں باہم اعتماد پیدا کرنے کا عمل ہے۔ فوجی حکمت عملی میں دو رخی چالوں کو بنیادی اہمیت حاصل ہے لیکن سیاسی عمل میں یہی دو رخی دھوکا دہی اور موقع پرستی شمار ہوتی ہے۔ ایک فوجی کمانڈر کے لیے اپنے ارادوں پر پردہ ڈالے رکھنا جائزہے لیکن سیاسی رہنما کو عوام کے سامنے اپنی رائے بیان کرنا ہوتی ہے۔ جنگ ایک ہنگامی صورت حال کا نام ہے لیکن کوئی صحت مند معاشرہ مستقل جنگ کو اپنا نصب العین قرار نہیں دے سکتا۔ سیاسی عمل کا نصب العین امن کا قیام ہے جب کہ عسکری قوتوں کا فرض جنگ کی تیاری ہے۔ عسکری قوت اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قوت کے استعمال پر یقین رکھتی ہے جب کہ سیاسی عمل پیداوار، تجارت اور علم کے سہارے آگے بڑھتا ہے۔ فوجی ذہن اپنی فتح اور مخالف کی مکمل شکست کے سوا کچھ سوچنے کی صلاحیت نہیں رکھتا جب کہ سیاسی طریقہ کار ایسی حکمت عملی اختیار کرنے کا نام ہے جس میں جملہ فریقین کے مفادات کا زیادہ سے زیادہ تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔ عسکری قوت اور سیاسی عمل ایک ہی دریا کے دو مختلف دھارے ہیں لیکن اس دریا کی روانی کا تقاضا ان دھاروں کو الگ الگ رکھنا ہے۔
چنانچہ جدید ریاست میں عسکری قوت کو سیاسی اداروں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ علمی، تمدنی اور سیاسی قوتوں کو فوج پر بالا دستی دی جاتی ہے اور قومی سطح پر یہ فیصلہ کیا جاتا ہے کہ فوج جغرافیائی سرحدوں کی محافظ ہے، قوم کے سیاسی نصب العین ٗ تمدنی رجحانات اور معاشی امکانات کی محتسب نہیں۔ جن قوموں میں سیاسی اور جمہوری قوتیں یہ اصول نافذ کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہیں، وہ معاشرے جمہوریت اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو جاتے ہیں۔ جن معاشروں میں سیاسی قیادت کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر عسکری قوت اپنی بالا دستی قائم کر لیتی ہے وہ معاشرے مستقل بحران ٗ پسماندگی اور اجتماعی ناکامی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *