بڈبیر پر دہشت گرد حملہ ۔۔۔ چند نکات

mujahid Mirza (1)روس کی قیادت کب سے کہہ رہی ہے کہ بین الاقوامی دہشت گردی اور سرحدوں کے آر پار ہونے والے جرائم سے کوئی ایک ملک اپنے طور پر نبرد آزما نہیں ہو سکتا۔ روس یہ اس لیے کہتا ہے کہ روس ان چند ملکوں میں سے ایک ہے جو سب سے پہلے دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔ روس نے اپنے انٹیلی جنس نظام کے بدنامی کی حد تک موثّر ہونے کے باوجود ایسی بات کہہ کر یہ مانا ہے کہ بعض اوقات انٹیلی جنس جتنی بھی مؤثر کیوں نہ ہو، جواب بھی دے جایا کرتی ہے۔
روس کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے کہ بڈبیر کے فضائی کیمپ میں دہشت گردی کا تازہ ترین سانحہ ہوا ہے جس میں دہشت گردوں سمیت کل تینتالیس افراد مارے گئے ہیں اور تیس کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ بڈبیر وہ مقام ہے جہاں سے ایک زمانے میں سوویت یونین کی جاسوسی کرنے کی خاطر امریکہ کے یو۔2 جاسوس طیارے اڑا کرتے تھے۔ جب ان میں سے ایک کو، جسے سی آئی اے کا پائلٹ فرانسس گیری پاور چلا رہا تھا، 1960 میں سوویت یونین والوں نے مار گرایا تھا اور پائلٹ پاور کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔ اس سے معلومات ملنے کے بعد سوویت یونین کے سربراہ نکیتا خرشچیف نے دنیا کے نقشے پر پشاور کے گرد سرخ دائرہ لگا کر امریکہ اور پاکستان دونوں کو دھمکی دی تھی اور یوں یہ فضائی اڈہ بند ہوا تھا۔
اس کیمپ میں کشت و خون کا بازار گرم ہو چکنے کے بعد کچھ اس طرح کے بیانات پڑھنے کو ملے: "دہشت گردوں کو جہنم رسید کر دیا گیا"۔ ہمارے محبوب میجر جنرل عاصم باجوہ کا بیان،" دہشت گرد افغانستان سے آئے تھے اور منصوبہ بھی وہیں بنا تھا لیکن اس میں افغانستان کی حکومت یا ریاست کا کوئی ہاتھ نہیں"۔ پھر وزیر دفاع خواجہ آصف المشہور "یہ جو ہے" کا بیان کہ "یہ جو ہے یہ انٹیلی جنس کی ناکامی نہیں"۔
دہشت گرد مارے جانے چاہییں لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے سے دوگنے یا زیادہ لوگوں کو مار دیں۔ یہ دہشت گرد لوگوں کو مارنے کے علاوہ خود بھی مارے جانے کے لیے آتے ہیں۔ جب وہ اپنی مذموم کارروائی کرنے کی خاطر روانہ ہوتے ہیں تو واپسی کا صفحہ پھاڑ کر روانہ ہوتے ہیں۔
یہ درست ہے کہ بعض اوقات انٹیلی جنس بھی کام نہیں آتی لیکن جب ’’ضرب عضب‘‘ کی کارروائی ہو رہی ہو تو قبائلی علاقے کے اتنے نزدیک اور وہ بھی ایک عسکری کیمپ میں کیا سیکیورٹی چیک کا نظام ویسے ہی ڈھیلا ڈھالا نہیں تھا جیسا عام طور پر ہوتا ہے؟ ایسے مستقروں پر دوچار چوکس مسلح جوان مورچہ بند ہونے چاہییں، چاہے کوئی بھی کسی بھی قسم کی وردی میں ہو اسے چیک کیا جانا چاہیے۔ ایسا اقدام کرنے سے اگر شہید ہوتے تو زیادہ سے زیادہ چیک کرنے والا یا اس کا معاون شہید ہوتے کیونکہ چار مورچہ بند فوجی تیرہ دہشت گردوں کو کم از کم تب تک ضرور روک سکتے ہیں جب تک باقی لوگ چوکنے نہ ہو جائیں اور ہتھیار نہ اٹھا لیں۔
دہشت گرد جہاں سے بھی آئے، منصوبہ بندی جہاں بھی ہوئی، دہشت گردی کا شکار تو لوگ بہرحال ہو گئے۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ کہاں سے آئے اور کہاں منصوبہ بنا؟ البتہ اگر اس بیان سے یہ بتانا مطلوب ہے کہ اب "طالبان پاکستان" پاکستان میں موجود نہیں تو یاد رہے کہ فوجی کارروائی کے دوران چھاپہ مار جنگجو کبھی اس علاقے میں نہیں رہا کرتے جہاں ان کے خلاف جنگی کارروائی ہو رہی ہوتی ہے تاہم اس سے یہ ضرور واضح ہوتا ہے کہ طالبان چاہے کہیں کے ہوں وہ آپس میں بھائی بند ہیں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کے مددگار اور معاون بھی۔ ان کے بیچ برے طالبان اور اچھے طالبان کی تمیز نہیں۔ اگر ان کے اختلاف ہوتے ہیں تو اختیار اور املاک پر ہوتے ہیں۔ اچھے اور برے طالبان کی تمیز کرنے والے، اس ایک اور واقعے سے اگر چاہیں تو سبق لے سکتے ہیں لیکن دعوے کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
بیان یہی ہوتا ہے کہ’’دہشت گردوں کو اب واپس نہیں آنے دیا جائے گا‘‘۔ وہ واپس آئے، انہوں نے جو چاہا تھا کیا اور مرنے کے لیے آئے تھے چنانچہ مارے گئے۔ اس پر اب کوئی بات کی جائے تو بے سود ہے۔ بات یہ ہونی چاہیے کہ جو علاقے فوجی کارروائی کے بعد کلیر قرار دیے جا رہے ہیں کیا وہاں لوگوں کو بسایا جا رہا ہے؟ کیا انہیں بنیادی سہولیات دی جا رہی ہیں کیا ان کا شعور بالیدہ کیا جا رہا ہے۔ کیا افغانستان کے ساتھ سرحد پر نگرانی سخت کی جا رہی ہے اور سب سے بڑی بات کہ اب تک سیاست دانوں کے علاوہ ماسوائے سید شبیہہ احمد کے کوئی اور سہولت کار گرفتار ہوا ہے؟ کیا مولوی عزیز اور اس قبیل کے لوگوں کی نگرانی کی جا رہی ہے؟ اگر ایسے اور ان جیسے دوسرے سوالوں کے جواب نہیں ہیں تو دہشت گردی اگر وسیع پیمانے پر نہ سہی لیکن کبھی کبھار تو ہوتی رہے گی اور پھر سے بڑھ بھی سکتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *