شہبازشریف کے جذبہ شہادت کوسلام

razi ud din raziبعض اوقات پانچ کالمی خبر کے مقابلے میں اسی موضوع پر شائع ہونے والی سنگل کالمی خبر زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے۔ہفتے کے روز شہبازشریف کے طیارے کے بارے میں ایک جہازی سائز کی خبر اخبارات کی زینت بنی جس میں بتایاگیا تھا کہ وزیراعلی پنجاب کاطیارہ کس طرح ایک بڑے حادثے سے بال بال بچ گیا۔اتوار کے روز اسی موضوع پر ایک سنگل کالمی خبربھی اخبارات میں شائع ہوئی جو اپنے متن کے حوالے سے پہلی خبر کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔خبر کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سیفٹی انویسٹی گیشن بورڈ نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کے جہاز میں کوئی فنی خرابی نہیں تھی۔رپورٹ کے مطابق یہ جہاز جمعے کے روز ایک بجے کے قریب لاہور سے اسلام آباد کے لئے روانہ ہوااور چند منٹ بعد پائلٹ نے جہاز کو واپس لاہور ایئرپورٹ لانے کا فیصلہ کیا۔پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیا جس پر کنٹرول ٹاور کے عملے نے پائلٹ سے کسی قسم کی مدد کے لیے پوچھا تو پائلٹ نے نفی میں جواب دیا۔رپورٹ کے مطابق پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کے عملے سے ایمرجنسی لینڈنگ کے لیے بھی درخواست نہیں کی تھی۔ایک روز پہلے اخبارات میں شائع ہونے والی جہازی سائز کی خبر میں جو نقشہ بیان کیاگیاتھا سول ایوی ایشن کی رپورٹ اس سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ایک روز پہلے کی خبر کے مطابق طیارے نے پرواز کے دس منٹ بعد شدید ہچکولے کھانا شروع کردیئے اور یک دم موڑ لے لیا۔ ایک بارایسا بھی ہوا کہ طیارے کو لینڈ کرانے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اس کا اگلا حصہ اوپر کی طرف اٹھ گیا۔وزیراعلی شہبازشریف نے پائلٹ سے پوچھا تو اس نے جواب دیاکہ ایک انجن زور نہیں پکڑ رہا۔ سرکاری پریس ریلیز کے مطابق وزیراعلی نے اونچی آواز میں کلمہ طیبہ اور آیت الکرسی پڑھنا شروع کردی اور اپنے ساتھ موجود افسروں سے کہا کہ ’’لگتا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں شہادت کارتبہ دینے والا ہے۔‘‘ اسی دوران پائلٹ نے کمال مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے طیارے کو کامیابی سے لینڈ کرا دیا۔
سچ پوچھیں تو خبر کے یہ مندرجات پڑھتے ہوئے خود ہمارے دل کی دھڑکنیں بھی بے ترتیب ہوگئی تھیں۔یہ دھڑکنیں سول ایوی ایشن اتھارٹی کی رپورٹ پڑھنے کے بعد ترتیب میں آئی ہیں۔ تاہم اب تک ہم اس نتیجے پر نہیں پہنچ سکے کہ اگر ایسی ہی خوفناک صورت حال تھی تو پائلٹ نے کنٹرول ٹاور سے رابطہ کیوں نہ کیا؟ اور ہنگامی لینڈنگ کے لئے مدد کیوں نہ طلب کی؟ ہمیں تو اس صورت حال میں 12 اکتوبر 1999ء والی طیارہ کہانی بھی یاد آگئی جس کا معما آج تک حل نہیں ہوسکااور لوگ آج تک یہ سوال کرتے ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کاطیارہ ’ہائی جیک‘ بھی ہوا تھا یا نہیں؟ اس طیارے کوبھی کنٹرول ٹاور کی جانب سے بعض مسائل کاسامنا کرناپڑاتھا اور وہ بھی بحفاظت لینڈ کر گیا تھا۔ خیر کچھ بھی ہو، اس کے نتیجے میں وزیراعلی شہبازشریف کا جذبہ شہادت یقیناً ابھر کرسامنے آیا ہے جسے ہم سلام پیش کرتے ہیں۔ہمیں ان کی سلامتی کی دعا کرنی چاہیے اور ایسے ماہرپائلٹ کے لیے بھی کسی قومی اعزاز کا مطالبہ کرناچاہیے جو اتنے مشکل حالات میں بھی کنٹرول ٹاور سے کوئی مدد طلب نہیں کرتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *