جنگ آزادی کا ہیرو .... رائے احمد خان کھرل شہید

rai mohd hussain Kharl1857 کی جنگ آزادی کے عظیم ہیرو رائے احمد نواز خان کھرل نے 21ستمبر کو حالت سجدہ میں یوم شہادت نوش کیا۔ 1776ء کو جھامرہ میں رائے نتھو خاں کے گھر پیدا ہونے والے کھرل قبیلے کے سردار رائے احمد نواز خاں نے 80سال کی عمر میں "ساوی" (رائے احمد خان کی گھوڑی کا نام) کی لگام تھامی اور انگریز سامراج پر ہلا بول دیا۔
راوی بار میں آباد سیال، فتیانہ، وہنی وال اور وٹو قبائل نے وطن کے اس عظیم بوڑھے سپوت کی قیادت میں عشق و وفا کی انمٹ داستانیں رقم کیں۔ جون کی ایک صبح، گوگیرہ میں تعینات انگریز افسر برکلے نے علاقے کے معتبر سرداروں کو طلب کیا اور بغاوت سے نپٹنے کے لئے ان سے گھوڑے اور جوان مانگے۔ رائے احمد نواز خان کھرل نے برکلے کو جواب دیا، کہ ”صاحب، یہاں کوئی بھی اپنا گھوڑا، عورت اور زمین نہیں چھوڑتا‘۔
تہی دست قبائل کا یہ 80 سالہ سردار جس وقت قومی غیرت کا نشاں بنے سامراج کے سامنے سینہ سپر کھڑا تھا. عین اسی وقت کچھ درگاہوں کے سجادہ نشین جاگیروں اور نقدی مال و زر کے عوض قومی غیرت و حمیت انگریز سامراج کے قدموں میں نچھاور کئے جا رہے تھے۔
وکیل انجم اپنی کتاب "سیاست کے فرعون" میں رقم طراز ہیں کہ 10 جون 1857ءکو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبر69کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ اور پھر تھوڑا تھوڑا کرکے تہہ تیغ کیا جائے گا۔ سپاہیوں نے بغاوت کر دی. تقریبا بارہ سو سپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیا. انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہاالدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ یہ مخدوم شاہ محمود قریشی موجودہ شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا ہے۔
کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہر سے باہر نکل رہے تھے کہ انہیں دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا۔ مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگیں لگا دیں کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور کچھ لوگ پار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پار پہنچ جانے والوں کو سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔ جلالپور پیر والہ کے دیوان عاشق بخاری انہی کی آل میں سے ہیں۔
مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کورنگا کی طرف نکل گئی، جسے مہر شاہ آف حویلی کورنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال، ہراج، سرگانہ اور ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا۔ مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔
اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد یا ایک مربع اراضی عطا کی گی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور 8 چاہات بطور معافی دوام عطا ہوئی۔ مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہندنے بیگی والا باغ عطا کیا۔
مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
حویلی کورنگا کے معرکے میں بظاہر سارے مجاہدین مارے گئے مگر علاقے میں آزادی کی شمع روشن کر گئے۔ حویلی کورنگا کی لڑائی کے نتیجے میں جگہ جگہ بغاوت پھوٹ پڑی اور حویلی کورنگا، قتال پور سے لے کر ساہیوال بلکہ اوکاڑہ تک کا علاقہ خصوصا دریائے راوی کے کنارے بسنے والے مقامی جانگلیوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک آزادی میں شامل ہو گئی۔
جانگلی علاقے میں اس بغاوت کا سرخیل رائے احمد خان کھرل تھا جو گوگیرہ کے نواحی قصبہ جھامرہ کا بڑا زمیندار اور کھرل قبیلے کا سردار تھا۔ احمد خان کھرل کے ہمراہ مراد فتیانہ، شجاع بھدرو، موکھا وہنی وال اور سارنگ کھرل جیسے مقامی سردار اور زمیندار تھے۔
جب درگاہوں کے سجادہ نشینوں کی طرف سے مجاہدین آزادی پر زمین تنگ کر دی گئی، ایسے وقت میں راوی بار میں رائے احمد نواز خان کھرل کا وجود ان کیلئے سایہ عاطفت ثابت ہوا.۔ رائے احمد نواز خان کھرل نے نہ صرف انگریز افسر برکلے کو گھوڑے اور جوان دینے سے انکار کیا، بلکہ معرکہ کورنگا سے بچ جانے والے مجاہدین کو بھی پناہ دی۔ ادھر جولائی کے پہلے ہفتے دریائے ستلج کے کنارے آباد وٹو قبیلے نے انگریز سرکار کو لگان ادا کرنے سے انکار کیا تو انگریز نے ان پر چڑھائی کر دی۔ ان کے مال مویشی ہانک کر لے گئے اور بستیوں کو آگ لگا دی۔ اسی دوران گوگیرہ کے بہت سے خاندان قید کرلئے گئے۔ انگریز کے اس اقدام کی خبر جب رائے احمد خان کھرل کو پہنچی تو ان کا خون کھول اٹھا۔ اور انہوں نے جیل توڑنے کا فیصلہ کر لیا. گوگیرہ بنگلہ کی جیل میں کھرل سردار کے مجاہدین بھی قید تھے ۔ چنانچہ 26 جولائی 1857ءکو رائے احمد خان کھرل نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جیل پر حملہ کردیا اور قیدیوں کو چھڑا لیا۔ اس معرکہ میں رائے احمد خان کھرل خود بھی زخمی ہوا۔ گوگیرہ جو اس وقت ضلعی ہیڈ کوارٹر تھا. اس کی جیل توڑنے پر سامراج کے ہاں تھرتھلی مچ گئی۔ گوگیرہ کے برکلے، منٹگمری (ساہیوال) کے مارٹن اور ملتان کے میجر ہملٹن کی نیندیں ا±ڑ گئیں۔
جون، جولائی کے مہینوں میں جنگ زوروں پر رہی۔ منٹگمری گزٹ لکھتا ہے کہ ”احمد خان کھرل ایک غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک، دلیر اور ذہن رسا کا مالک انسان تھا۔ اس کی قیادت میں ستلج اور راوی کے تمام نامور قبائل متحد ہو کر بغاوت میں شریک ہوئے ان کا ہیڈ کوارٹر راوی کے اس پار کوٹ کمالیہ تھا۔ “
اس اٹھنے والے طوفان کا پہلا نشانہ ضلعی صدر مقام گوگیرہ (موجودہ اوکاڑہ کے قریب واقع قصبہ) کے مقام پر واقع جیل بنی جس پر حملہ کر کے رائے احمد خان کھرل اور اس کے ساتھی بغاوت کے جرم میں بند کئی سو قیدیوں کو چھڑا کر گھنے جنگلوں میں روپوش ہو گئے۔ احمد خان کے پے در پے حملوں کی وجہ سے منٹگمری کا علاقہ (موجودہ ساہیوال ڈویڑن اور ضلع ٹوبہ) تقریبا تین مہینوں تک قبضے سے نکل گیا اور عملی طور پر رائے احمد خان کی عملداری قائم ہو گئی۔ رائے احمد خان کھرل نے 16 ستمبر کو کمالیہ کے تمام زمینداروں کو اکٹھا کیا اور انہیں جنگ آزادی میں شمولیت کی ترغیب دی۔
ادھر راوی بار کا یہ مجاہد وطن کی آزادی کیلئے تازہ خون کا بندوبست کر رہا تھا تو ادھر دلی میں ہندوستان کی غلامی پر مہر ثبت کی جاچکی تھی کہ میرٹھ اور دلی سے بھڑکنے والے جنگ آزادی کے شعلے بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے ساتھ راکھ ہو چکے تھے۔
اگرچہ رائے احمد خان کھرل کے بلاوے پر آنے والے زمیندار کھرل سردار کی آواز پر لبیک کہہ رہے تھے لیکن ان میں سے ہی سرفراز کھرل نامی ایک شخص میر جعفر و میر صادق کی تاریخ دہرانے کو بھی بے چین بیٹھا تھا۔
رات نے جیسے ہی سیاہ چادر اوڑھی، کمالیہ کے سرفراز کھرل نے میر جعفروں کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کے اضافہ کیلئے گھوڑی کا رخ برکلے کے بنگلے کی جانب پھیر دیا۔ رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تھے، جب سرفراز نے برکلے کو جگا کر رائے احمد خان کھرل کے اکٹھ کی روداد سنائی۔ صبح ہوتے ہی برکلے نے جھامرہ پر چڑھائی کر دی لیکن رائے احمد خان کھرل ہاتھ نہ آیا، تو انگریز نے گاﺅں کے بچوں اور عورتوں کو لیجا کرگوگیرہ جیل میں بند کر دیا۔ یہ خبر مجاہدین تک پہنچی تو موجودہ اوکاڑہ سے خانیوال تک کا علاقہ میدان جنگ بن گیا۔
ایک طرف اگر راوی بار میں آباد قبائل قومی حمیت کا نشان بنے اپنے 80سالہ کھرل سردار کی قیادت میں سینہ سپر تھے. تو دوسری طرف سجادگان و مخدومین حقِ نمک ادا کرتے ہوئے انگریز سامراج کی فوج کے ہمراہ تھے۔ جن میں دربار سید یوسف گردیز کا سجادہ نشین سید مراد شاہ گردیزی، دربار بہاالدین زکریا کا سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی، دربار فریدالدین گنج شکر کا گدی نشین مخدوم آف پاکپتن، مراد شاہ آف ڈولا بالا، سردار شاہ آف کھنڈا اور گلاب علی چشتی آف ٹبی لال بیگ کے علاوہ بھی کئی مخدوم وسجادہ نشین شامل تھے۔
21 ستمبر کے دن انگریز نے مخبری کی بنیاد پر گشکوری کے جنگل میں ”نورے دی ڈال” پر حملہ کیا۔ بار کے مجاہدین آزادی نے ایسی دادِ شجاعت دی کہ انگریز فوج توپخانے سے مسلح ہونے کے باوجود ظہر تک ڈیڑھ کوس پیچھے ہٹ چکی تھی۔ میدان قدرے صاف ہوا تو کھرل سردار نے نماز عصر کی نیت باندھ لی۔ ادھر برکلے بھی پنجابی سپاہیوں کے ہمراہ قریب ہی چھپا ہوا تھا۔ وہ دوسری رکعت تھی، جب برکلے نے گولی مارو کا آرڈر دیا، دھاڑے سنگھ یا گلاب رائے بیدی کی گولی جیسے ہی کھرل سردار کو لگی سردار سجدے میں گر گیا۔ رائے احمد خان کھرل اور سارنگ کھرل اپنے اکثر ساتھیوں کے ہمراہ اس معرکہ میں شہید ہوئے۔
انگریز رائے احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر لے گئے۔ رائے احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو ملیا میٹ کردیا، فصلیں جلا دیں اور مال مویشی ضبط کر لیے۔ رائے احمد خان کھرل کے سر کو دن کے وقت گوگیرہ جیل کے سامنے لٹکا دیا جاتا اور رات کو جیل میں کڑے پہرے میں رکھا جاتا۔
پہرے داروں میں ایک سپاہی جھامرے کا تھا۔ اس کی پہرے کی باری آ ئی تو اس نے سر کو گھڑے میں رکھا اور جھامرے پہنچ کر رات کے اندھیرے میں رائے احمد خان کی قبر تلاش کر کے کسی کو بتائے بغیر سر دفنا دیا۔ 22 ستمبر کو راوی کنارے مسٹر برکلے کا مجاہدین سے سامنا ہوا تو مراد فتیانہ، داد فتیانہ، احمد سیال اور سوجا بھدرو نے برکلے کو مار کر اپنے سردار کا حساب برابر کر دیا۔ گورا فوج نے ان مجاہدین کو گرفتار کر کے کالے پانی بھجوا دیا۔
ڈاکٹر رائے نیاز احمد کھرل (وائس چانسلر پیر مہر علی ایگری کلچرل یونیورسٹی راولپنڈی) رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعد اس علاقہ کے لوگوں کے ساتھ بیتنے والی داستان کے متعلق کہتے ہیں کہ انگریزی سرکار سے وفاداری کے صلے میں ”بالائی طبقہ“ میں شامل ہونیوالے کالے انگریزگورے انگریزوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوئے۔ جن قبائل نے تحریک آزادی میں قربانیاں دیں انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا۔
میں حیران ہوں کہ ہمارے علاقے کے لوگوں نے تعلیم کیسے حاصل کی۔
افسوس کہ 1857ءکی جنگ آزادی میں انگریزوں کی بربریت کا نشانہ بننے والی اور گذشتہ 150 سال تک ظلم کی چکی میں پسنے والی اس علاقے کی برادریوں کی کوئی تاریخ مرتب نہیں کی گئی۔ بہت سے لوگ انگریز کے مظالم سے بچنے کیلئے کھرل سے ”کھر“ اور ”ہرل“ کہلانے لگے۔ ان علاقوں کی سرحدوں پر آباد کھرل اوردوسرے قبائل کی زمینیں چھین کر انگریزوں کے مخبروں کو الاٹ کر دی گئیں۔

جنگ آزادی کا ہیرو .... رائے احمد خان کھرل شہید

رائے محمد حسین کھرل

1857 کی جنگ آزادی کے عظیم ہیرو رائے احمد نواز خان کھرل نے 21ستمبر کو حالت سجدہ میں یوم شہادت نوش کیا۔ 1776ءکو جھامرہ میں رائے نتھو خاں کے گھر پیدا ہونے والے کھرل قبیلے کے سردار رائے احمد نواز خاں نے 80سال کی عمر میں "ساوی" (رائے احمد خان کی گھوڑی کا نام) کی لگام تھامی اور انگریز سامراج پر ہلا بول دیا۔
راوی بار میں آباد سیال، فتیانہ، وہنی وال اور وٹو قبائل نے وطن کے اس عظیم بوڑھے سپوت کی قیادت میں عشق و وفا کی انمٹ داستانیں رقم کیں۔ جون کی ایک صبح، گوگیرہ میں تعینات انگریز افسر برکلے نے علاقے کے معتبر سرداروں کو طلب کیا اور بغاوت سے نپٹنے کے لئے ان سے گھوڑے اور جوان مانگے۔ رائے احمد نواز خان کھرل نے برکلے کو جواب دیا، کہ ”صاحب، یہاں کوئی بھی اپنا گھوڑا، عورت اور زمین نہیں چھوڑتا‘۔
تہی دست قبائل کا یہ 80 سالہ سردار جس وقت قومی غیرت کا نشاں بنے سامراج کے سامنے سینہ سپر کھڑا تھا. عین اسی وقت کچھ درگاہوں کے سجادہ نشین جاگیروں اور نقدی مال و زر کے عوض قومی غیرت و حمیت انگریز سامراج کے قدموں میں نچھاور کئے جا رہے تھے۔
وکیل انجم اپنی کتاب "سیاست کے فرعون" میں رقم طراز ہیں کہ 10 جون 1857ءکو ملتان چھاونی میں پلاٹون نمبر69کو بغاوت کے شبہ میں نہتا کیا گیا اور پلاٹون کمانڈر کو مع دس سپاہیوں کے توپ کے آگے رکھ کر اڑا دیا گیا۔ آخر جون میں بقیہ نہتی پلاٹون کو شبہ ہوا کہ انہیں چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں فارغ اور پھر تھوڑا تھوڑا کرکے تہہ تیغ کیا جائے گا۔ سپاہیوں نے بغاوت کر دی. تقریبا بارہ سو سپاہیوں نے بغاوت کا علم بلند کیا. انگریزوں کے خلاف بغاوت کرنے والے مجاہدین کو شہر اور چھاونی کے درمیان واقع پل شوالہ پر دربار بہاالدین زکریا کے سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی نے انگریزی فوج کی قیادت میں اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیرے میں لے لیا اور تین سو کے لگ بھگ نہتے مجاہدین کو شہید کر دیا۔ یہ مخدوم شاہ محمود قریشی موجودہ شاہ محمود قریشی کے لکڑدادا تھے اور ان کا نام انہی کے حوالے سے رکھا گیا ہے۔
کچھ باغی دریائے چناب کے کنارے شہر سے باہر نکل رہے تھے کہ انہیں دربار شیر شاہ کے سجادہ نشین مخدوم شاہ علی محمد نے اپنے مریدوں کے ہمراہ گھیر لیا اور ان کا قتل عام کیا۔ مجاہدین نے اس قتل عام سے بچنے کے لئے دریا میں چھلانگیں لگا دیں کچھ لوگ دریا میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور کچھ لوگ پار پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔ پار پہنچ جانے والوں کو سید سلطان احمد قتال بخاری کے سجادہ نشین دیوان آف جلالپور پیر والہ نے اپنے مریدوں کی مدد سے شہید کر دیا۔ جلالپور پیر والہ کے دیوان عاشق بخاری انہی کی آل میں سے ہیں۔
مجاہدین کی ایک ٹولی شمال میں حویلی کورنگا کی طرف نکل گئی، جسے مہر شاہ آف حویلی کورنگا نے اپنے مریدوں اور لنگڑیال، ہراج، سرگانہ اور ترگڑ سرداروں کے ہمراہ گھیر لیا اور چن چن کر شہید کیا۔ مہر شاہ آف حویلی کورنگا سید فخر امام کے پڑدادا کا سگا بھائی تھا۔
اسے اس قتل عام میں فی مجاہد شہید کرنے پر بیس روپے نقد یا ایک مربع اراضی عطا کی گی۔ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 1857 کی جنگ آزادی کے کچلنے میں انگریزوں کی مدد کے عوض مبلغ تین ہزار روپے نقد، جاگیرسالانہ معاوضہ مبلغ ایک ہزار سات سو اسی روپے اور 8 چاہات بطور معافی دوام عطا ہوئی۔ مزید یہ کہ 1860 میں وائسرائے ہندنے بیگی والا باغ عطا کیا۔
مخدوم آف شیر شاہ مخدوم شاہ علی محمد کو دریائے چناب کے کنارے مجاہدین کو شہید کرنے کے عوض وسیع جاگیر عطا کی گئی۔
حویلی کورنگا کے معرکے میں بظاہر سارے مجاہدین مارے گئے مگر علاقے میں آزادی کی شمع روشن کر گئے۔ حویلی کورنگا کی لڑائی کے نتیجے میں جگہ جگہ بغاوت پھوٹ پڑی اور حویلی کورنگا، قتال پور سے لے کر ساہیوال بلکہ اوکاڑہ تک کا علاقہ خصوصا دریائے راوی کے کنارے بسنے والے مقامی جانگلیوں کی ایک بڑی تعداد اس تحریک آزادی میں شامل ہو گئی۔
جانگلی علاقے میں اس بغاوت کا سرخیل رائے احمد خان کھرل تھا جو گوگیرہ کے نواحی قصبہ جھامرہ کا بڑا زمیندار اور کھرل قبیلے کا سردار تھا۔ احمد خان کھرل کے ہمراہ مراد فتیانہ، شجاع بھدرو، موکھا وہنی وال اور سارنگ کھرل جیسے مقامی سردار اور زمیندار تھے۔
جب درگاہوں کے سجادہ نشینوں کی طرف سے مجاہدین آزادی پر زمین تنگ کر دی گئی، ایسے وقت میں راوی بار میں رائے احمد نواز خان کھرل کا وجود ان کیلئے سایہ عاطفت ثابت ہوا.۔ رائے احمد نواز خان کھرل نے نہ صرف انگریز افسر برکلے کو گھوڑے اور جوان دینے سے انکار کیا، بلکہ معرکہ کورنگا سے بچ جانے والے مجاہدین کو بھی پناہ دی۔ ادھر جولائی کے پہلے ہفتے دریائے ستلج کے کنارے آباد وٹو قبیلے نے انگریز سرکار کو لگان ادا کرنے سے انکار کیا تو انگریز نے ان پر چڑھائی کر دی۔ ان کے مال مویشی ہانک کر لے گئے اور بستیوں کو آگ لگا دی۔ اسی دوران گوگیرہ کے بہت سے خاندان قید کرلئے گئے۔ انگریز کے اس اقدام کی خبر جب رائے احمد خان کھرل کو پہنچی تو ان کا خون کھول اٹھا۔ اور انہوں نے جیل توڑنے کا فیصلہ کر لیا. گوگیرہ بنگلہ کی جیل میں کھرل سردار کے مجاہدین بھی قید تھے ۔ چنانچہ 26 جولائی 1857ءکو رائے احمد خان کھرل نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ جیل پر حملہ کردیا اور قیدیوں کو چھڑا لیا۔ اس معرکہ میں رائے احمد خان کھرل خود بھی زخمی ہوا۔ گوگیرہ جو اس وقت ضلعی ہیڈ کوارٹر تھا. اس کی جیل توڑنے پر سامراج کے ہاں تھرتھلی مچ گئی۔ گوگیرہ کے برکلے، منٹگمری (ساہیوال) کے مارٹن اور ملتان کے میجر ہملٹن کی نیندیں ا±ڑ گئیں۔
جون، جولائی کے مہینوں میں جنگ زوروں پر رہی۔ منٹگمری گزٹ لکھتا ہے کہ ”احمد خان کھرل ایک غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک، دلیر اور ذہن رسا کا مالک انسان تھا۔ اس کی قیادت میں ستلج اور راوی کے تمام نامور قبائل متحد ہو کر بغاوت میں شریک ہوئے ان کا ہیڈ کوارٹر راوی کے اس پار کوٹ کمالیہ تھا۔ “
اس اٹھنے والے طوفان کا پہلا نشانہ ضلعی صدر مقام گوگیرہ (موجودہ اوکاڑہ کے قریب واقع قصبہ) کے مقام پر واقع جیل بنی جس پر حملہ کر کے رائے احمد خان کھرل اور اس کے ساتھی بغاوت کے جرم میں بند کئی سو قیدیوں کو چھڑا کر گھنے جنگلوں میں روپوش ہو گئے۔ احمد خان کے پے در پے حملوں کی وجہ سے منٹگمری کا علاقہ (موجودہ ساہیوال ڈویڑن اور ضلع ٹوبہ) تقریبا تین مہینوں تک قبضے سے نکل گیا اور عملی طور پر رائے احمد خان کی عملداری قائم ہو گئی۔ رائے احمد خان کھرل نے 16 ستمبر کو کمالیہ کے تمام زمینداروں کو اکٹھا کیا اور انہیں جنگ آزادی میں شمولیت کی ترغیب دی۔
ادھر راوی بار کا یہ مجاہد وطن کی آزادی کیلئے تازہ خون کا بندوبست کر رہا تھا تو ادھر دلی میں ہندوستان کی غلامی پر مہر ثبت کی جاچکی تھی کہ میرٹھ اور دلی سے بھڑکنے والے جنگ آزادی کے شعلے بہادر شاہ ظفر کی گرفتاری کے ساتھ راکھ ہو چکے تھے۔
اگرچہ رائے احمد خان کھرل کے بلاوے پر آنے والے زمیندار کھرل سردار کی آواز پر لبیک کہہ رہے تھے لیکن ان میں سے ہی سرفراز کھرل نامی ایک شخص میر جعفر و میر صادق کی تاریخ دہرانے کو بھی بے چین بیٹھا تھا۔
رات نے جیسے ہی سیاہ چادر اوڑھی، کمالیہ کے سرفراز کھرل نے میر جعفروں کی تاریخ میں ایک اور سیاہ باب کے اضافہ کیلئے گھوڑی کا رخ برکلے کے بنگلے کی جانب پھیر دیا۔ رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے تھے، جب سرفراز نے برکلے کو جگا کر رائے احمد خان کھرل کے اکٹھ کی روداد سنائی۔ صبح ہوتے ہی برکلے نے جھامرہ پر چڑھائی کر دی لیکن رائے احمد خان کھرل ہاتھ نہ آیا، تو انگریز نے گاﺅں کے بچوں اور عورتوں کو لیجا کرگوگیرہ جیل میں بند کر دیا۔ یہ خبر مجاہدین تک پہنچی تو موجودہ اوکاڑہ سے خانیوال تک کا علاقہ میدان جنگ بن گیا۔
ایک طرف اگر راوی بار میں آباد قبائل قومی حمیت کا نشان بنے اپنے 80سالہ کھرل سردار کی قیادت میں سینہ سپر تھے. تو دوسری طرف سجادگان و مخدومین حقِ نمک ادا کرتے ہوئے انگریز سامراج کی فوج کے ہمراہ تھے۔ جن میں دربار سید یوسف گردیز کا سجادہ نشین سید مراد شاہ گردیزی، دربار بہاالدین زکریا کا سجادہ نشین مخدوم شاہ محمود قریشی، دربار فریدالدین گنج شکر کا گدی نشین مخدوم آف پاکپتن، مراد شاہ آف ڈولا بالا، سردار شاہ آف کھنڈا اور گلاب علی چشتی آف ٹبی لال بیگ کے علاوہ بھی کئی مخدوم وسجادہ نشین شامل تھے۔
21 ستمبر کے دن انگریز نے مخبری کی بنیاد پر گشکوری کے جنگل میں ”نورے دی ڈال” پر حملہ کیا۔ بار کے مجاہدین آزادی نے ایسی دادِ شجاعت دی کہ انگریز فوج توپخانے سے مسلح ہونے کے باوجود ظہر تک ڈیڑھ کوس پیچھے ہٹ چکی تھی۔ میدان قدرے صاف ہوا تو کھرل سردار نے نماز عصر کی نیت باندھ لی۔ ادھر برکلے بھی پنجابی سپاہیوں کے ہمراہ قریب ہی چھپا ہوا تھا۔ وہ دوسری رکعت تھی، جب برکلے نے گولی مارو کا آرڈر دیا، دھاڑے سنگھ یا گلاب رائے بیدی کی گولی جیسے ہی کھرل سردار کو لگی سردار سجدے میں گر گیا۔ رائے احمد خان کھرل اور سارنگ کھرل اپنے اکثر ساتھیوں کے ہمراہ اس معرکہ میں شہید ہوئے۔
انگریز رائے احمد خان کھرل کا سر کاٹ کر لے گئے۔ رائے احمد خان کھرل کے قصبہ جھامرہ کو ملیا میٹ کردیا، فصلیں جلا دیں اور مال مویشی ضبط کر لیے۔ رائے احمد خان کھرل کے سر کو دن کے وقت گوگیرہ جیل کے سامنے لٹکا دیا جاتا اور رات کو جیل میں کڑے پہرے میں رکھا جاتا۔
پہرے داروں میں ایک سپاہی جھامرے کا تھا۔ اس کی پہرے کی باری آ ئی تو اس نے سر کو گھڑے میں رکھا اور جھامرے پہنچ کر رات کے اندھیرے میں رائے احمد خان کی قبر تلاش کر کے کسی کو بتائے بغیر سر دفنا دیا۔ 22 ستمبر کو راوی کنارے مسٹر برکلے کا مجاہدین سے سامنا ہوا تو مراد فتیانہ، داد فتیانہ، احمد سیال اور سوجا بھدرو نے برکلے کو مار کر اپنے سردار کا حساب برابر کر دیا۔ گورا فوج نے ان مجاہدین کو گرفتار کر کے کالے پانی بھجوا دیا۔
ڈاکٹر رائے نیاز احمد کھرل (وائس چانسلر پیر مہر علی ایگری کلچرل یونیورسٹی راولپنڈی) رائے احمد خان کھرل کی شہادت کے بعد اس علاقہ کے لوگوں کے ساتھ بیتنے والی داستان کے متعلق کہتے ہیں کہ انگریزی سرکار سے وفاداری کے صلے میں ”بالائی طبقہ“ میں شامل ہونیوالے کالے انگریزگورے انگریزوں سے بھی زیادہ ظالم ثابت ہوئے۔ جن قبائل نے تحریک آزادی میں قربانیاں دیں انہیں تعلیم سے محروم رکھا گیا۔
میں حیران ہوں کہ ہمارے علاقے کے لوگوں نے تعلیم کیسے حاصل کی۔
افسوس کہ 1857ءکی جنگ آزادی میں انگریزوں کی بربریت کا نشانہ بننے والی اور گذشتہ 150 سال تک ظلم کی چکی میں پسنے والی اس علاقے کی برادریوں کی کوئی تاریخ مرتب نہیں کی گئی۔ بہت سے لوگ انگریز کے مظالم سے بچنے کیلئے کھرل سے ”کھر“ اور ”ہرل“ کہلانے لگے۔ ان علاقوں کی سرحدوں پر آباد کھرل اوردوسرے قبائل کی زمینیں چھین کر انگریزوں کے مخبروں کو الاٹ کر دی گئیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *