عمران خان چاہتے کیا ہیں؟

asifکل جب این اے 154 کے ضمنی انتخابات کے بارے میں سپریم کورٹ سے حکم امتناعی آیا تو اس کے جلو میں نظام تعزیر کی فعالیت اور افادیت کے بارے میںبہت سارے سوالات بھی تھے جنہیں میں نے فیس بک اور ٹوئیٹر پر اٹھا کر من کا بوجھ ہلکا کرنے کی کوشش کی ۔لیکن جوں جوں سپریم کورٹ میں ہونے والی کارروائی کی تفصیل سامنے آنے لگی سوالات کا رخ بدلنے لگا۔سوالات اب بھی موجودہیں لیکن مخاطب بدل چکا ہے۔مخاطب اب نظام تعزیر یا عدالت نہیں بلکہ عمران خان صاحب ہیں۔وہ چاہتے کیا ہیں:انصاف کا حصول یا اداروں کی کامل بے توقیری اور ایک منتشر معاشرہ؟
ابھی سپریم کورٹ سے حکمِ امتناعی پر عمران خان نے آہ و فغاں کی لیکن کیا وہ بتا سکتے ہیں سپریم کورٹ میں ان کے وکیل کا اپنا رویہ کیا تھا؟ مناسب ہو گا اس حکم امتناعی پر تحریک انصاف کے سوالات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے۔
پہلا اعتراض یہ کیا جا رہا ہے کہ حکم امتناعی کیوں لیا گیا۔یہ الیکشن سے بھاگنے کی ایک کوشش ہے۔اور مسلم لیگ (ن ) حکم امتناعی کے پیچھے چھپ رہی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا غیر قانونی ہے؟ کیا عمران خان جانتے ہیں کہ خود تحریک انصاف کے کتنے لوگ حکم امتناعی کے سہارے چل رہے ہیں۔کیا سرور خان، اعجاز چودھری، قیصر جمال اور راجہ عامر زمان حکم امتناعی پر نہیں چل رہے۔یہ کہاں کا انصاف ہے کہ تحریک انصاف حکم امتناعی لے تو ٹھیک ، دوسرے لیں تو غلط؟
تحریک انصاف کے فاضل وکیل نے سپریم کورٹ میں اعتراض کیا کہ صدیق بلوچ اتنے دنوں بعد حکم امتناعی لینے کیوں آ ئے؟جان کی امان پاﺅں تو عرض کروں کہ قانون اور دلیل کی دنیا میں اس اعتراض کا وزن شاید ایک چھٹانک بھی نہ ہو۔کسی فیصلے کے خلاف اعلیٰ فورم پر جانے کی مدت قانون میں طے کر دی گئی ہے اور صدیق بلوچ نے اس مدت کے اندر سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔سپریم کورٹ میں قانون کی زبان میں بات کرنی چاہیے۔انوکھا لاڈلا وہاں اگر کھیلن کو چاند مانگے گا تو وہ کیسے مل سکتا ہے۔
تیسرا اعتراض یہ ہے کہ حکم ِ امتناعی دیا ہی کیوں گیا؟اس سوال میں وزن ہے لیکن تحریک انصاف کے وکیل کو اپنا رویہ ملحوظ خاطر رہنا چاہیے۔جسٹس ثاقب نثار نے تحریک انصاف کے وکیل مخدوم علی خان سے پوچھا آپ تیار ہوں تو ہم اس کیس کو آج ہی سن لیتے ہیں۔مخدوم علی خان میدان سے بھاگ گئے اور کہا کہ ان کی تیاری نہیں۔وہ میدان میں رہتے، اپنا موقف پیش کرتے تو شاید معاملہ اسی روز نمٹ جاتا لیکن صاحب کی تیاری نہ تھی۔اس پر جسٹس ثاقب نثار نے فاضل وکیل کو دوسری پیش کش کی کہ آپ تیاری کر کے آ جائیں ہم اس کیس کو اگلے ہفتے سن لیتے ہیں۔لیکن تحریک انصاف کا وکیل یہاں بھی میدان چھوڑ کر پیچھے ہٹ گیا ۔اور صرف ہٹا نہیں بلکہ یہ حیران کن استدعا کر دی کہ یہ کیس اگلے ہفتے نہ سنا جائے بلکہ اس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی جائے۔اس پر جسٹس ثاقب نثار نے کہا: ہم تو آج ہی آپ کو سننے کو تیار بیٹھے ہیں لیکن آپ کی تیاری نہیں ہے ، پھرعدالتوں پر حکم امتناعی جاری کرنے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔تحریک انصاف کے وکیل نے پھر بھی اپنا موقف نہ بدلا اور یہی کہتے رہے کہ سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کی جائے۔عدالت میں یہ موقف اختیار کر کے جب تحریک انصاف باہر آئی تو جہانگیر ترین فرمانے لگے۔ مسلم لیگ (ن) الیکشن سے بھاگ رہی ہے۔اور سرشام عمران خان نے پریس کانفرنس کی تو حکم امتناعی کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
تحریک انصاف کے اس رویے کا سنجیدہ مطالعہ ہونا چاہیے۔جب متعلقہ فورم پر بات کرنے کا وقت آتا ہے تحریک انصاف خاموش ہو جاتی ہے اور جب باہر نکلتی ہے ہاتھ سر پر رکھ کر رونا شروع کر دیتی ہے۔افتخار چودھری پر الزام لگایا، سپریم کورٹ نے بلا کر کہا ثبوت دیجیے، وہاں تحریک انصاف معذرت کر کے باہر آ گئی۔باہر آ کر پھر وہی الزام لگانا شروع کر دیا۔پینتیس پنکچر کا الزام لگایا،جب جوڈیشل کمیشن بنا تو وہاں اس کا ذکر ہی نہ کیا۔بعد میں ارشاد فرمایا وہ تو صرف ایک سیاسی بیان تھا۔اسمبلی کے اندر کوئی ایک قرارداد بتا دیجیے جو عمران خان صاحب نے پیش کی ہو جس کا مقصد آئندہ الیکشن کے لیے اصلاحات کی کوئی بامعنی بات کی گئی ہو ۔سڑکوں پرالبتہ ایک شور اٹھا رکھا ہے۔ ابھی سپریم کورٹ میںبحث کرنے سے بھی خود انکار کیا اور سماعت بھی غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنے کی درخواست کی لیکن باہر آ کر ٹسوے بہانا شروع کر دیے کہ اتنا عرصہ ہو گیا ہے، انصاف نہیں مل رہا۔
تحریک انصاف کے یہ تضادات اس کے اخلاقی وجود کے بارے میں سوالات اٹھا رہے ہیں۔آ خر وہ چاہتی کیا ہے۔ہم جیسے اس کے خیر خواہ تو ابھی تک مان کر نہیں دیتے لیکن اس کے ناقدین یہ سوال اٹھا رہے ہیں کیا اس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ پاکستان کے جملہ ریاستی اداروں کو اس حد تک بے توقیر کر دو کہ سماج کے تار پور ہل جائیں۔
یاد رہے کہ داعش اور طالبان انہی معاشروں میں کامیاب ہوتے ہیں جہاں سماج کے تار پور ہل چکے ہوں اور ادارے بے تو قیر ہو چکے ہوں۔ قانون اگر وقت پر بروئے کار نہ آئے تو اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔میرا مشاہدہ یہ ہے کہ سائلین انصاف کے حصول کے لیے وکیل سے رجوع کرتے ہیں تو یہ مطالبہ ان کے ہمراہ ہوتا ہے کہ معاملہ سول کورٹ میں نہیں بلکہ ہائی کورٹ میں لے جایا جائے ۔اکثریت ماتحت عدالتوں میں جانے سے گھبراتی ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ انصاف ملتے ملتے جانے کتنی نسلیں وکیل صاحب کے چیمبر میں بوڑھی ہو جائیں۔ایک مایوسی ہے جو بڑھتی جا رہی ہے۔ انتخابات سے متعلق کیسز تو مزید سرعت کے ساتھ فیصلہ چاہتے ہیں کیونکہ اسمبلی کی کل مدت مبلغ پانچ سال ہے۔ان پانچ برسوں میں اڑھائی سال گزر جائیں اور قانون یہ بھی طے نہ کر سکے کہ صدیق بلوچ صاحب کی ڈگری اصلی ہے یا جعلی تو آدمی سوچتا ہے کس دیوار گریہ سے لپٹ کر روئے۔ نظام سے لوگ پہلے ہی مایوس ہو رہے ہیں۔نظام کے اندر رہتے ہوئے تبدیلی کی خواہش کا نام تحریک انصاف ٹھہرا۔چنانچہ جب عمران خان یہ شکوہ کرتے ہیں کہ ان جیسے بااثر آدمی کو بھی انصاف نہیں مل رہا تو ایک کمزور آدمی کا اس نظام میں کیا حشر ہوتا ہو گا تو میں سوچتا ہوں کسی روز عمران خان نے اس نظام سے اپنی مکمل مایوسی کا اعلان کر دیا تو سماج پر اس کے اثرات کیا ہوں گے۔تبدیلی کے خواہشمند جو نوجوان عمران کے ساتھ کھڑے ہیں ، جمہوری نظام میں کسی خیر کے امکان سے مکمل مایوس ہونے کے بعد ان کی منزل کیا ہو گی؟اس سے آگے سوچتا ہوں تو دماغ سائیں سائیں کرتا ہے۔
عمران خان نے اپنی تازہ پریس کانفرنس میں بھی یہی سوال اٹھایا کہ دیکھ لیجیے، میں وقت اور پیسے کو برباد کر کے انصاف لینے نکلا لیکن میرے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟یہ سوال جذبات میں آگ لگا دیتا ہے۔اب نفسیات کا کوئی ماہر ہی روشنی ڈالے کہ اس سے تحریک انصاف کے وابستگان کے اندر کس طرح کی نفسیات تشکیل پا سکتی ہیں اور کیا آگے چل کر یہ نفسیات نوجوانوں کو انتہاکی طرف دھکیل سکتی ہے؟دوسری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ متعلقہ فورمز پر ان کے وکیل موقف ہی پیش نہیں کرتے،کرتے ہیں تو اتنا کمزور جس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا،بحث سے انکار کر دیتے ہیں،غیر معینہ مدت تک التوا بھی یہی مانگتے ہیں لیکن فورمز سے نکل کر جب باہر آتے ہیں توپھر مظلوم بن کر آہ و بکا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ عمران خان آخر چاہتے کیا ہیں؟ وہ حقیقی تبدیلی کے متمنی ہیں یاوہ صرف ہیجان پیدا کر کے تمام ریاستی اداروں کے درپے ہیں؟ نیز یہ کہ ایسا وہ محض اپنی افتاد طبع کے تحت کر رہے ہیں یا پاکستان کے سماج کے تار پور بکھیر دینا ان کا ایجنڈا ہے؟میرے جیسا عمران خان کا خیر خواہ بھی اگر یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہے تو یہ بلاوجہ نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *