پٹاکے پیراں دے

WISI BABAعنوان تو میں نے سوچا تھا ’"پیراں نمی پرند، مریداں می پرانند‘ یعنی پیر کہاں اڑتے ہیں، ان کے چپڑ قناتیے مرید پرواز کی کہانیاں باندھتے ہیں۔ پھر خیال آیا کہ ہمارے تقدس ماب جناز گاہ کے دروازے پر اردو میں ہدایات تو درست اردو میں لکھ نہیں سکتے۔ فارسی کیا خاک سمجھیں گے۔ آج کل کے پیربادشاہ تو جھاڑو شاہ، ڈبل شاہ، دھنکا شاہ ، مضاربہ شاہ ، ملائیشیا شاہ، دھرنا شاہ.... وغیرہ ہوتے ہیں۔ پٹاخی شاہ پہ مرتے ہیں اور بم دھماکے کو پٹاکہ کہتے ہیں۔ سو آج کا عنوان ’پٹاکے پیراں دے‘ ہی ٹھیک ہے۔ کچھ نمونہ عجمی ذوق کا اور کچھ جھلک علت مشایخ کی اور باقی قصہ اہل عقیدت کی خواری کا۔ تو ذکر ہے میرے ایک عقیدت مند یار کا۔ ارے میرا نہیں ، وہ اپنے پیر کا عقیدت مند تھا۔ اور مجھے بھی حلقہ بگوش کرنا چاہتے تھے۔ فی الحال سلوک کی اس منزل کا ابتدائی مرحلہ تھا اور ہم نے ٹانگوں کا حلقہ بنا کر گوش یعنی کان پکڑ رکھے تھے۔
ہم دونوں نے رکوع کے بل جھک کر کان پکڑ رکھے تھے۔ اب میں اس انتظار میں تھا کہ کب پیر صاحب اٹھ کر میرے ساتھی کی تشریف پر جوتے رسید کرتے ہیں۔ یار نے پوچھا کہ تم نے صرف اس لئے کان پکڑ رکھے تھے کہ تم اپنے ساتھی کو جوتے لگتے دیکھنا چاہتے تھے میں نے جواب دیا ، ’اور کیا؟‘
وہ مجھے یہی کہہ کر لے گیا تھا کہ اس کے پیر صاھب اس کے کان پکڑوا کر جوتے بھی لگاتے ہیں تو میں یہ نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر حق پر ایمان لانا چاہتا تھا۔ یار نے پوچھا پھر کیا ہوا ؟ میں نے کہا کچھ بھی نہیں ہوا ۔میں نے پیر صاحب سے بس اتنا ہی پوچھا تھا کہ جعلی پیر اور اصلی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ صرف وہی پیر کیوں جعلی کہلاتے ہیں جو ہماری یوتھ کو عشق معشوقی کی منزلیں آسان کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔
یار نے کہا پھر کیا ہوا ۔ میں نے بتایا کچھ بھی نہیں ہوا ۔ پیر صاحب شاید جوتے لگاتے اور میری بھی سوچ سجا دیتے کہ اندر سے ان کی گھر والی نے پہلے آواز دی اور پھر خود آ گئی۔ ان کے قدموں کی آواز سن کر ہم سیدھے کھڑے ہوئے جس کی وجہ سے وہ ہمیں ککڑ حال میں دیکھنے سے محروم رہ گئیں۔
پیر صاحب نے ہماری طرف دیکھ کر اپنی گھر والی سے التجا کی کہ مہمان آئے ہیں۔ گھر والی بولی تو کیا کروں؟ سر پر بٹھاو¿ں ؟ چائے پیش کروں تم کو ؟ اور ان کو؟ تمہیں تو خود سے بھی بھوکے مرید ملے ہیں ۔پیر صاھب نے حالات بھانپ کر ہمیں تتر بتر ہونے کا حکم دیا اور ہم فرار ہو گئے۔ ان کی گھر والی نے ٹھیک ٹھاک کٹ لگائی ہو گی ان کی اسی جوتے سے۔
یار بولا ، ’لعنتیا اتنی منحوس باتاں نہ سنا ۔ابھی جس پیر صاحب کی جانب جا رہے ہیں ان کی گھر والی بھی بہت ڈاڈھی ہے اور پیر صاحب کو بڑا بزت (بے عزت) کرتی ہے۔ یار نے کہا میرے خیال میں کچھ کھانے کا سامان خرید لیتے ہیں کہ پیر صاھب کے گھر ہمیں معزز سمجھ کر اچھا سلوک کیا جائے۔ ہم نے چندہ کیا اور وہ مجھے روک کر کچھ لینے چلا گیا۔ کھانے کے سامان کے ساتھ کچھ جوس بھی تھے۔
یار کی خریداری پر اکیلے جانے اور مجھے گاڑی میں چھوڑنے کی بے دریغ تعریف کرتے ہوئے میں نے اس کو یاد دلایا کہ یاد ہے دہلی میں قوال کے لئے تم نے گھٹیا ساو¿نڈ سسٹم کا بندوبست کیا تھا اور قوال کے سارے ہمنوا تالیاں بجا بجا کر تمھیں گالیاں سناتے رہے تھے گا گا کر ۔ یہ صرف اس لئے ہوا تھا کہ تم کنجوسی کرتے ہو سستی اوور نکمی شے پر گرتے ہو۔
یار رک کر مجھے گھورنے لگا اور بولا آج نہیں جاتے ان پیر صاحب کی جانب۔ تم پر آج نحوست طاری ہے اور لگاتار منحوس باتاں کئے جا رہے ہو۔ اسے اتنا ہی کہا کہ میں صرف تاریخ دہرا رہا ہوں۔ یار بولا کہ اسیں کوئی مراثی ہیں گے ۔ ہمیں کیا پتہ تھا کہ سستا ساو¿نڈ سسٹم اتنا گھٹیا ہو گا کہ اس سے خاتون قوال کی آواز بھی پھٹ کر مردانہ نکلے گی۔
یہی باتیں کرتے ہم پیر صاحب کے گھر پہنچ گئے۔ پیر صاحب یار کی دریافت تھے۔ سچی بات ہے میں انکی باتوں سے بہت متاثر ہوا ادھیڑ عمر کے سنجیدہ سے متین انسان لگے۔ یار نے وہیں بلا ضرورت درویش کا ڈائلاگ بھی سنا دیا کہ انسان جب بھی خدا کی تلاش میں نکلتا ہے اس کی ملاقات کسی بندے سے ہوتی ہے۔ پیر صاحب نہال ہو گئے۔ اندر ا?واز دی انکی گھر والی تشریف لائیں انکا ہم سے تعارف کرایا ہمارے لائے ہوئے لفافوں کو لے جانے کے اشارہ کیا اور ہمارے لئے کچھ لانے کو کہا۔
یار نے پیر صاحب سے کہا مجھے کچھ سانس کی مشقیں کرائیں ، پیر صاحب شروع ہو گئے اپنی ٹانگ اٹھا کر سر پر رکھ کے فوراً ایک واہیات پوزیشن بنا کر دکھا دی۔ اس پر جب سانس بھی کھینچ لیا تو بالکل باندری محسوس ہونے لگے۔ مجھے حیرت اپنے یار پر ہوءکہ وہ بھی اچھی خاصی نقل کر رہا تھا۔ مجھے بھی اکسایا کہ تم بھی کرو اپنے ڈیل ڈول کے ساتھ میرے لئے یہ ممکن نہ تھا لیکن اس سے پوچھا اس کا فائدہ یار بولا اس سے سٹیمنا بنتا ہے طاقت آتی ہے یعنی وہی حکیمی دعوے۔
پیر صاحب زمانہ شناس تھے۔ بات سمجھ کر بولے کہ یہ سانس کی ایسی مشقیں ہیں کہ انسان کو اپنے جسم پر اختیار حاصل ہو جاتا جسمانی قوت میں بے پناہ.... جملہ ان کے منہ میں تھا۔ جب گھر والی داخل ہوئی اور یوں لگا جیسے پیر صاھب رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ گھر والی بولی آپ یہ مشقیں زرا کم کریں جان ہی نکال دیتے ہیں۔ یہ سن کر ہمارے جو کن لال ہوئے۔بات ہرگز ویسی نہ تھی کہ پیرنی تشریح کرتے ہوئے بولیں ۔ بھائی پچھلی بار یہ ناراض ہوئے تو سانس روک کر بیٹھ گئے۔ ہم سمجھے فوت ہی ہو گئے ہیں۔ بڑا مسئلہ ہو گیا تھا۔ ہم سمجھے ان کا سانس اٹک گیا ہے کہیں لیکن یہ مسخریاں کر رہے تھے۔
پیر صاحب یہ تعریف سن کر آپے سے باہر ہو گئے ۔ شروع ہو کر لگ گئے اپنے کرتب کرنے۔ ان کی باتوں سے جو اچھا تاثر بنا تھا سب دھڑام ہو گیا۔ ہماری مہمانداری ہوئی اور ہمیں اپنا ہی لایا ہوا شربت پیش کر دیا گیا پیرنی بھی آ کر ساتھ بیٹھ گئیں۔ پیر صاحب کو شاید ایسا موقع پہلی بار ملا تھا ان کے کرتب جاری رہے ۔ تب رکے جب بڑے پیار سے پیرنی نے پیر صاحب کو بولا کہ آپ بھی شربت لے لیں۔ پیر صاحب نے ٹانگ سر سے اتاری اور بولے اچھا پی لیتا ہوں۔ ویسے میرا ٓسن ابھی مکمل نہیں ہوا۔ پیر صاحب نے ایک سانس میں تہائی گلاس مکایا اور پھر اپنی ٹانگ اٹھا کر گردن پر رکھ لی ساتھ ہمیں اک وظیفہ بتایا کہ سانس کی اس مشق کے ساتھ یہ بھی کرنا۔
پیر صاحب اب پھر باندری لگ رہے تھے۔ شربت کا پانی چینی اور پیر صاحب کے سانس والی ہواڑ کہیں غلط جگہ مکس ہوئی اور پیر صاحب نے ایک ڈکار مارا۔ ابھی ڈکار سے بدمزہ ہی ہوئے تھے کہ ایک پٹاکے کی آواز آئی ۔ہم سمجھے تھے کہ دوسری آواز آئی پھر تو پیر صاھب باقاعدہ پٹاکوں پر لگ گئے۔
انکی گھر والی نے کہا، ہائے میں مر گئی یہ پھر اپنی لت پھسا بیٹھے ۔ ہم ابھی سوچ ہی رہے تھے کہ یار کو پیرنی نے بولا ، اوئے منحوسا ٹانگ اتار پیر صاحب کی بڑی مشکل سے ٹانگ اتاری ۔پیر صاھب کی ہوائی فائرنگ جاری ہی رہی اس دوران۔ ان کا سانس الٹ گیا تھا۔ پیر صاحب نے آواز نکالی تو وہ اک لفظی گالی تھی جو انہوں نے پیرنی کو دی اور دوسری اس شربت کو۔
ہم دیر تک وہاں موجود رہے پھر بزت حال وہاں سے نکلے ۔ ہماری روانگی تک پیر صاحب پٹاکہ حال ہی رہے ۔ یار آج تک ناراض ہے اور مجھے بہت اصرار پر بھی اب کسی نئے پیر سے ملوانے پر تیار نہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *