تاریخی شعور ۔پاکستان میں مارشل لاء کیوں لگے؟

safdar mahmoodمیرا مقصد نہ کسی مباحثے کے دروازے کھولنا ہے نہ حالات کے موجودہ تناظر میں کسی تجویز کی حمایت یا مخالفت کرنا ہے ۔ میں پاکستان کی تاریخ کا طالب علم ہوں اور اسی حیثیت سے پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم ترین پہلو پر رائے کا اظہار کر رہا ہوں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان میں فوجی مداخلت اور مار شل لائوں کے نفاذ کا کوئی تعلق کمانڈر انچیف یا آرمی چیف کی ملازمت میں توسیع یا ’’ توسیعات‘‘ سے ہے ؟۔پاکستان اب تک چار مارشل لاء بھگت چکا ہے۔ مستقبل کا حال صرف ہمارا رب جانتا ہے۔ ان چار مارشل لائوں کے سربراہ یا ’’سرغُنے‘‘ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف تھے ۔ان چاروں آمروں میں سے صرف جنرل ایوب خان ایسے کمانڈر انچیف تھے جنہیں نوکری میں توسیع ملتی رہی۔ باقی تینوں جرنیلوں نے اپنی اپنی ٹرم یا میعاد کے اندر ہی مارشل لاءلگا دیئے اور حکومت پر قابض ہو گئے ۔ ہر حکمران نے اپنی اپنی بصیرت اور فہم وفراست کے مطابق بہترین اور قابل اعتماد جرنیل کو آرمی چیف بنایا اور اپنے تئیں فوجی مداخلت کے امکانات ختم کرنے کی کوشش کی لیکن اس کے باوجود ایوب خان جیسے تجربہ کار جرنیل سے لیکر بھٹو جیسے ذہین اور شاطر سیاست دان تک اور میاں نواز شریف جیسے محتاط وزیر اعظم تک سبھی اپنے ارادوں میں ناکام ٹھہرے اور فوجی مداخلت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ جنرل پرویز کیانی خوش قسمت تھے ، سروس میں توسیع بھی پائی، مداخلت کے مواقع اور جواز بھی پیدا ہوتے رہے لیکن انہوں نے سیاسی اقتدار کی خواہش سے دامن آلودہ نہ ہونے دیا۔ بظاہر جنرل راحیل شریف انہی کے سنہری نقش پا پر چل رہے ہیں لیکن مستقبل اپنے باطن میں کیا چھپائے بیٹھا ہے یہ راز صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کیونکہ میں جب پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں اور فوجی مداخلتوں کے احوال پڑھتا ہوں تو مجھے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ’’ہونی ‘‘ ہو کر رہتی ہے، انسان لاکھ تدبیریں کرلے، ہزار ’’احتیاطوں‘‘ کی دیواریں کھڑی کرلے، جب مداخلت ہونی ہوتی ہے تو پھر وہ ہو کر رہتی ہے اور حالات اسی نہج پر اور اسی سمت میں استوار ہونا شروع ہوجاتے ہیں ۔حادثے اور سانحے کے بعد ہم جیسے ان کے تجزیے کرتے رہتے ہیں، ٹامک ٹوئیاں مارتے رہتے ہیں، اندرون خانہ کے راز فاش کرتے رہتے ہیں اور وجوہ کے بخیئے ادھیڑتے رہتے ہیں۔ اقتدار والوں کا وہی حال ہوتا ہے ؎
الٹی ہو گئیں سب تدبیریں، کچھ نہ دوا نے کام کیا
جہاں تک تدبیر کا تعلق ہے جنرل ایوب خان نے ’’آئوٹ آف دی وے ‘‘ جاکر یحییٰ خان کو اپنا جا نشین مقرر کیا کیونکہ یحییٰ خان اسکا’’قابل اعتماد ترین‘‘ ساتھی تھا لیکن ہزاروں شواہد گواہی دیتے ہیں کہ ایوب خان کے خلاف عوامی تحریک اور بھاشانی کی جلائو گھیرائو مہم کو یحییٰ خان کی کھلی اشیرباد حاصل تھی ۔یحییٰ خان نے ایوب خان کے ارد گرد سازشوں کا جال بن دیا تھا اور ایوب خان کے اعصاب کو توڑنے کے لئے اسے تباہی و بربادی اور نذرآتش کی خبریں تواتر سے بھجوائی جا رہی تھیں تاکہ ایوب خان مجبور اور بے بس ہو کر اقتدار یحییٰ خان کے حوالے کردے۔محترم غلام احمد پرویز راوی ہیں کہ وہ ایوبی عہد حکومت کے آخری ایام میں صدر ایوب کے پاس بیٹھے تھے جب یحییٰ خان کی جانب سے لاہور ریلوے اسٹیشن کو بلوائیوں کے ہاتھوں نذرآتش کی تحریری خبر ایوب خان کے کانپتے ہاتھوں میں تھمائی گئی۔ یحییٰ خان ملک توڑنے کے بعد بھی اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتا تھا لیکن فوج کے اندر بغاوت اور ایئرفورس کے تیوروں نے اسے اقتدار کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ضیاءالحق جونیئر جرنیل تھا لیکن بھٹو جیسے ذہین و فطین سیاست دان نے اسے ’’قابل اعتماد ترین‘‘ جانا ۔ تاریخ کی شہادت دستیاب ہے کہ ضیاء شروع شروع میں بھٹو کو پھانسی چڑھانے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا لیکن بقول جنرل چشتی جس دن بھٹو نے لاہور کے جلسہ عام میں جرنیلوں کو پھانسی چڑھانے کا جذباتی اعلان کیا، ضیاء الحق کے چہرے کا رنگ پہلے زرد،پھر فق اور پھر غصے سے سرخ ہو گیا۔ اسی لئے قبر ایک اور لاشیں دو کے عوامی مفروضے نے شہرت پائی۔جنرل پرویز مشرف بھی جونیئر تھے لیکن ان کے مقدر میں صدر بننا لکھا تھا۔ میاں نواز شریف نے جنرل جہانگیر کرامت کو رخصت کرنے کے بعد اپنے ہر قسم کے پیاروں سےطویل مشورے کرنے کے بعد اسے قابل اعتماد ترین سمجھا اور کندھوں پر ستارے چمکا دیئے۔فرعون کی بیوی کو بھی حضرت موسیٰ جیسے بچے پر اس قدر پیار آیا کہ اسے گود بٹھا لیا۔کیا اسے خبر تھی کہ یہ بچہ جوان ہو کر ہمارے تخت و تاج کو دریا برد کر دے گا۔
ہاں جمہوری اور سیاسی ادوار حکومت کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں انہیں فرعونی اور حکومت سے تشبیہ نہیں دی جاسکتی۔جان کی امان پائوں تو تاریخ سے ہٹ کر عرض کروں کہ میرے مطالعے اور مشاہدے کے مطابق فوجی مداخلت کا نشانہ بننے والے حکمران رویے اور سوچ میں فرعونی تکبر کی علامتیں بنے ہوئے تھے اور تکبر ہی عام طور پر حکمرانوں کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ ایک ہوتا ہے تاریخی فیکٹر یا سیاسی عوامل اور دوسرا ہوتا ہے خدائی فیکٹر ...ہم تاریخی و سیاسی عوامل پر تو بہت زیادہ روشنی ڈالتے ہیں لیکن دوسرے فیکٹر کو قابل توجہ نہیں سمجھتے ۔ تاریخی حوالے سے لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد مضبوط و مقبول قیادت کے فقدان نے سول اور ملٹری بیورو کریسی کواقتدار پر حاوی کر دیا تھا ۔ غلام محمد جیسے سول سرونٹ کا گورنر جنرل کے با اختیار عہدے پر تقرر نہ صرف سیاست دانوں کی کم فہمی اور سیاسی بصیرت کے فقدان کا نوحہ تھا بلکہ اقتدار پر بیورو کریسی کے چھا جانے کا الارم بھی تھا ۔بے شک ایوب خان میں سیاسی جراثیم موجود تھے اور قائد اعظم کی دوربین نگاہوں اور بصیرت نے ان جراثیم کو محسوس کرتے ہوئے ہی ایوب خان کےمشرقی پاکستان میں ٹرانسفر کے موقع پر لکھا تھا ’’میں اس آرمی آفیسر کو جانتا ہوں۔ وہ فوجی معاملات سے زیادہ سیاست میں دلچسپی رکھتا ہے ‘‘۔(بحوالہ جرنیل اور سیاست دان ازقیوم نظامی ص22) سردار عبدالرب نشتر کی سوانح عمری میں بھی سردار صاحب کا یہ بیان محفوظ ہے کہ جنرل ایوب خان اپنی نجی محفلوں میں حکمرانوں سیاست دانوں کی نالائقیوں کے قصے بیان کرتا ہے ۔ اس کے عزائم خطرناک ہیں۔ اگر پاکستان میں مارشل لاءلگا تو مشرقی پاکستان الگ ہو جائے گا۔ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے خفیہ کاغذات جن سے اب پردہ ہٹا دیا گیا ہے ان میں ایک میٹنگ کی کارروائی سے پتہ چلتا ہے کہ جب خواجہ ناظم الدین کے دور میں گندم کی شدید قلت پھیلی اور امریکہ سے گندم لی گئی تو ایک میٹنگ میں کمانڈر انچیف نے وزیر تجارت کو خوب جھاڑا۔ صدارت وزیر اعظم کر رہے تھے ۔ چوہدری محمد علی مرحوم نے مجھے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ غلام محمد کے 1954ء میں دستور ساز اسمبلی کی منسوخی کے فیصلے کے پس پردہ ایوب خان تھے اور جب دستور ساز اسمبلی کی منسوخی کے بعد وزیر اعظم محمد علی بوگرہ کو غلام محمد وزیر اعظم کی حیثیت سے جاری رکھنے کیلئے مجبور کر رہا تھا تو چوہدری صاحب نے خود دیکھا کہ پردے کے پیچھے جنرل ایوب خان رائفل پکڑے کھڑا تھا ۔ اس کی تفصیل میری کتاب مسلم لیگ کا دور حکومت میں موجود ہے ۔ گورنر جنرل غلام محمد نے 1953ء میں وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کو کمانڈر انچیف ایوب خان کی حمایت حاصل کرکے ڈسمس کیا تھا ۔ باوجود کہ جنرل ایوب خان بری طرح اقتدار کی سیاست میں ملوث ہو چکا تھا، 1958ء کا پہلا مارشل لاءصدر مملکت اسکندر مرزا نے لگایا اور ایک دن کے لئے ایوب خان کو وزیراعظم بھی بنایا ۔ جب اسکندر مرزا کی نیت میں فتور آیا تو ایوب خان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔ ایوب خان کو اس اقدام پر ملک بھر سے لاکھوں ٹیلی گرام موصول ہوئے کیونکہ عام انتخابات نہ ہونے کے سبب اسمبلی اور سیاست دان اور حکمران عوامی نظروں میں مطعون ہو چکے تھے ، انہیں عوامی تائید حاصل نہیں تھی اسی طرح جمہوری اداروں کی کمزوری ، سیاست دانوں کا باہمی نفاق اور عوامی تحریک بھٹو کی اقتدار سے محرومی کا باعث بنے ۔ یہی اسباب ایوبی مارشل لاء اور یحییٰ خان کے مارشل لاءکے وقت نہ صرف موجود تھے بلکہ متحرک تھے ۔ البتہ پرویزی مارشل لاءکارگل کی مہم جوئی، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان نفرت کی خلیج اور وزیر اعظم کی طرف سے آرمی چیف کو غیرمعروف اور قدرے توہین آمیز انداز سے ہٹانے کا نتیجہ تھا جسے آپ حادثانی مارشل لاءبھی کہہ سکتے ہیں۔مختصر یہ کہ پاکستان میں فوجی مداخلتوں کی کہانی کا آرمی چیف کی میعاد میں توسیع سے کوئی تعلق نہیں ۔یہ الگ بات کہ اس سے جونیئر افسروں کا حق مارا جاتا ہے ۔ ہمارے ہاں فوجی مداخلت ہمیشہ جمہوری اداروں کی کمزوری، عوامی تائید کی قلت، سیاست دانوں کے باہمی نفاق، عدلیہ اور میڈیا کی ابن الوقتی اور حکمرانوں کے تکبر اور نالائقیوں کا شاخسانہ تھی۔ الحمداللہ اب حالات کافی حد تک بدل چکے ہیں ۔ میڈیا کی مضبوطی اور آزادی اور عدلیہ کی آزادی اور آئین کی حفاظت کے واضح عہد نے فوجی مداخلت کے راستے میں بلند و بالا دیواریں کھڑی کر دی ہیں ۔ جنہیں عبور کرنا بہرحال آسان نہیں باقی غیب کا علم صرف اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے پاس ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *