تقابل اور متبادل

farnood alamذوالفقارچیمہ صاحب گوجرانوالہ میں آر پی او رہے۔ جب تک رہے،جرائم نہیں رہے۔ ننھو گورایہ کا گینگ گوجرانوالہ کو اپنی دہشت میں لے چکا تھا۔ اغوا کاری بھتہ خوری اس کے بنیادی جرائم تھے۔ قتل کی وارداتیں اس کے علاوہ تھیں۔ تھانہ کچہری سہمی ہوئی تھی۔ قانون کا اظہار واجبی سا تھا۔ پھر یہ کہ کچھ سیاسی عناصر کی اسے پشت پناہی حاصل تھی۔ چیمہ صاحب تعینات ہوئے، تو ایک نیام اور دو تلواروں کا سوال پیدا ہوگیا۔
سینگ اڑناتھے ، سو اڑگئے۔ ننھو اپنا تمام اثر و رسوخ بروئے کار لے آیا، مگر ننھو ہی کو فرار کی راہ لینی پڑی۔ ننھو نے ملائیشیا کے ایک جزیرے پہ تخت جمالیا۔ چیمہ صاحب نے لیکن ہار نہیں مانی۔ ہولناک سا ئے کی طرح تعاقب میں رہے۔ مہینوں آنکھ مچولی رہی۔ بالآخر وہ ننھو کو کھینچ لائے۔ ایک ایک کرکے پورا گینگ لپیٹ کے رکھ دیا۔ پولیس سے ننھو کی مبینہ مڈ بھیڑ ہوئی۔ ننھو کا قصہ بھی بالآخر انجام کو پہنچا۔ کاروباری طبقے نے سکھ کا سانس لیا۔ شہریوں نے اطمینان کا دم بھرا۔ یہی دن تھا جب شہر بھر میں پولیس گاڑیوں پر پھولوں کی بے حساب پتیاں نچھاور کی گئیں۔
اگلی سنیں۔ ضمنی الیکشن کے موقع پر چیمہ صاحب کو مسلم لیگ کی صوبائی قیادت نے تعاون کے احکامات جاری کئے- جواب میں پیشہ ور سپاہی نے انکار کردیا۔ مسلم لیگ نے ٹکٹ چیمہ صاحب کے بڑے بھائی جسٹس (ر) افتخار چیمہ صاحب کو دے دیا۔ تعاون کے لئے اخلاقی دباو¿ بڑھ گیا۔ چیمہ صاحب نے مگر پیغام بھجوایا”والد صاحب بھی اگر آجائیں، آئین سے ماورا کسی تعاون کی امیدنہ رکھی جائے “نتیجہ....؟ چیمہ صاحب کا ٹرانسفر اسلام آباد ہوگیا۔
بات چلی ہے تو یاد آیا۔ پرویز مشرف نے انتخابات 2008 ءکے ہنگام میںچیمہ صاحب کو کوہاٹ میں ڈی آئی جی تعینات کروادیا۔ انتخابی مہم چلانے کے خصوصی احکامات صادر ہوئے۔ چیمہ صاحب نے پولیس آفیسرز کا اجلاس طلب کیا۔ مختصر ترین خطاب میں دو باتیں کہیں۔
”حق حلال کی کمائی میں گزارہ کر سکتے ہو تو بہت بہتر، ورنہ دروازے کھلے ہیں۔ اور ہاں، الیکشن میں آپ کا کردار سرکاری ملازم کا ہوگا۔ سیا سی کارکن بننے کی کوشش کی گئی تو گھر کی راہ لینی پڑے گی“۔
پھر....؟ حکام بالا دیکھتے رہ گئے، تعاون نہ ملا۔ بتاتا چلوں کہ ذولفقار چیمہ آئی جی موٹروے پولیس تعینات ہوئے تو موٹر وے کے پیچ و خم سدھر گئے۔ ڈی جی پاسپورٹ بنائے گئے تو چار سال سے درپیش بحران سات دن میں نمٹ گیا۔ گز شتہ برس پولیس کی تاریخ میں ویژن اور دیانت کے انمٹ نقوش چھوڑ کر وہ ریٹائرڈ ہوگئے۔
اب ایسا ہے کہ کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے کہ اگر تقابل کرنا پڑ جائے، تو چیمہ صاحب کا تقابل کس سے کروں؟ میاں شہباز شریف سے؟چوہدری پرویز الٰہی سے؟ میاں منظور وٹو سے؟ کس سے؟ اگر انہی سے کروں، تو کیا میں جان کی امان پالوں گا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ فہم اگر سلامت ہے تو ان کا تقابل پنجاب پولیس کے مشتاق سکھیرا سے بنتا ہے۔ سندھ پولیس کے شاہد حیات سے بنتا ہے۔ بلوچستان پولیس کے ہمایوں جوگزئی اور کے پی کے پولیس کے ناصر درانی سے ہوسکتا ہے۔ یہاں تک کہ شعیب سڈل سے ہوسکتا ہے۔
وجہ؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ ارسطو کا تقابل نپولین بونا پاٹ سے تو نہیں ہوسکتا۔
ایسا بھی ہے کہ کبھی کبھی میرے دل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ذولفقار چیمہ کا متبادل کون ہوسکتا ہے؟ چوہدری نثار علی خان؟ خواجہ آصف؟ اسد عمر؟ قمر الزمان کائرہ؟ رﺅف مینگل؟ حیدر عباس رضوی یا پھر زاہد خان؟ کون ہو سکتا ہے؟ اگر انہی کو متبادل قرار دے دوں تو کیا میں جان کی امان پا لوں گا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا متبادل محکمہ پولیس میں موجود کوئی سینئر پولیس آفیسر ہی بن سکتا ہے۔ وجہ؟؟ وجہ صاف ظاہر ہے کہ بل گیٹس کا متبادل حسنی مبارک نہیں ہوسکتا۔ اینٹ کہیں کی ہو اور روڑا کہیں کا، تو تقابل و متبادل کا امکان بھی ایک حد درجہ احمقانہ امکان ہے۔
کیا میں نے غلط کہا؟ اگر ہاں، تو کیسے؟ اگر نہیں تو پھر بتلایئے کہ میاں محمد نواز شریف کے متبادل جنرل راحیل شریف کیسے ہو سکتے ہیں؟ اور یہ کہ وزیر اعظم کا تقابل آرمی چیف سے کیونکر ممکن ہے؟ جنرل راحیل شریف ایک پیشہ ور چیف ہوں گے۔ بہت جینئس اور نہایت انٹیلی جنٹ ہوں گے۔ ملٹری سائنس کے غیر معمولی طالب علم ہوں گے۔ ملک کو درپیش دہشت گردی جیسے چیلنج سے نمٹنے میں ان کا کردار بھی نمایاں ترین ہوگا۔ سب ہوگا، مگر تقابل کا سوال آئے گا تو ان کے ساتھ جنرل مشرف ،جنرل کیانی، جنرل بیگ ،جنرل آصف نواز اور جنرل کاکڑ کو ہی کھڑا کرنا روا ہوگا۔ پھر اگر سوال ہو متبادل کا تو چیف کے بوٹ انہی کے جونیئرز کے پاﺅں پہ ناپنے پڑیں گے۔ بھاشن تو پورے ہیں، مگر زید حامد کا پاﺅں کسی کیپٹن تک کے بوٹ میں بھی دینے کی جسارت اگر ہوئی تو کیسا لگے گا؟
کیا کہا؟ نواز شریف کارِ حکمرانی کے اہل نہیں.؟ جی آپ کی بات ٹھیک ہوسکتی ہے۔ وہ امن و امان تعلیم صحت روزگار دینے میں ناکام ہوں گے۔ جو وعدے وفا ہونے تھے، رہ گئے ہوں گے۔ کرپشن کے الزامات بھی ہوں گے۔ اقربا پروری کے داغ دھبے بھی ہوں گے۔ مانا کہ وہ ہر بدی کا محور ہوں گے، مگر اس سب کچھ کے باوجود ان کا متبادل عسکری اداروں میں کیسے ڈھونڈا جا سکتا ہے۔ ان کا مقابل عدلیہ کا کوئی جج کیسے ہو سکتا ہے۔ آپ تنقید کا جائز حق رکھتے ہیں، کہ اقتدار کے سنگھاسن پہ آپ ہی نے بٹھایا۔ یہ تخت اب آپ ہی کھینچ سکتے ہیں۔ مگر کیسے؟ وہ ایسے کہ سیاست دانوں کی کھیپ میں سے ہی ان کا کوئی متبادل ڈھونڈ نکالئے۔ نہیں مل رہا تو تلاش جاری رکھئے۔ پچاس نان بائیوں میں سے کوئی ایک بھی معیار کا نہ ملے تو کسی ماہر ترین ترکھان کی خدمات نہیں لی جا سکتیں۔ کیا ایک منتخب عوامی نمائندے کی ناکامی کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ اقتدار کا ہما ملک ریاض کے سر پہ رکھ دیا جائے ؟ وہ بھی صرف اس لیے کہ تعمیرات اور فلاحی اعلانات میں وہ اپنی مثال آپ ہیں؟ بھئی رکھتے ہیں، تو رکھتے ہوں گے۔ نظم کائنات بھی تو آخر کوئی چیز ہوتی ہے نا صاحب۔ سماجی توازن کے بھی تو کوئی معنی ہوتے ہوں گے حضور۔
دلِ ہنگامہ جو! کدھر کوچلئے....

تقابل اور متبادل” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 5, 2015 at 9:06 PM
    Permalink

    اتنا فلسفہ جھاڑنے کی کیا ضرورت تھی؟صرف یہ ایک لائن لکھتے کہ نواز شریف کا پاکستان کی تاریخ کے کس وزیر اعظم سے کرنا ہے؟ اس کی ہر حکومت کی کارگردگی تمام وزراء اعظم میں سب سے نیچے ہوتی ہے۔ تو کرتے رہوں نواز شریف کا مقابلہ سول حکمرانوں سے اسکی پوزیشن سب سے نیچے ہی رہیگی۔ قصہ ختم

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *