پاکستان کی بازیابی

babar sattarدہشت گردی کے خلاف ہمارے سیاسی نمائندوں کی کارگردگی کا تذکرہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آجاتی ہے کہ پاکستانیوں کی زندگی اور تحفظ یا تو امریکیوں کے ہاتھوں میں ہیں یا پھر تحریک طالبان پاکستان کے رحم و کرم پر۔اگر ٹی ٹی پی پر تھوڑی سختی کی جاتی ہے تو عوام ان کے نشانے پر ہوتے ہیں اور اگر ان کو کھلی چھوٹ دی جائے تو کسی حد تک سکون رہتا ہے۔اس صورتحال میں کوئی اس بات کی وضاحت کیسے کر سکتا ہے کہ سیاستدانوں کی ذمہ داری کیا ہے اور وہ اس سے رو گردانی کیوں کر رہے ہیں؟
کیا کسی اور ملک میں یہ ممکن ہے کہ وہاں کے حکمران اپنے ہزاروں عوام ، پولیس اور فوجیوں کے قتل کے ذمہ دار کسی دوسرے ملک کو ٹھہراکر خود آرام سے بیٹھ جائیں؟( سوائے افغانستان کے جہاں ہر کام کی ذمہ داری آئی ایس آئی پر ڈال دی جاتی ہے)۔امریکہ عالمی خونخوار بھیڑیا ہے تو یہ بات اپنی جگہ درست لیکن وہاں کے حکمران پاکستان کے مفاد کی حفاظت کا حلف نہیں لیتے ،ان کے اپنے مفادات ہیں۔اور محفوظ اور مستحکم پاکستان کے لیے ہمارے حکمران امریکہ کے خلاف نفرت کے لیے ایک قوم بن کرکس سیاسی بصیرت کا اظہار کررہے ہیں؟
امریکی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے سازشی ذہن رکھنے کی ضرورت نہیں۔ نائن الیون کے بعد امریکہ نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کے دشمنوں کو تیاری کا موقعہ دیئے بغیر ان کا خاتمہ کیا جائے ۔ یہ بات اپنی جگہ کہ اس میں امریکہ کس حد تک صحیح ہے لیکن وار سے پہلے دشمن کو زیر کرنے کی ان کی حکمت عملی امریکہ کو محفوظ بنا نے میں کامیاب رہی ۔القاعدہ کی مثال سامنے ہے اور ٹی ٹی پی بھی القاعدہ کی اتحادی ہے جو پاکستان پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش میں ہے۔
جب تک پاکستان کے اندر ایسے علاقے موجود رہیں گے جو دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ مہیا کرتے ہیں، امریکہ پاکستان پر ڈرون گراتا رہے گا چاہے پاکستان اس پر خاموش رہے یا احتجاج کرے۔ہم چاہے چیخیں چلائیں دنیا کو ہم پر رحم نہیں آئے گا ۔ کیونکہ ایک ایسے دور میں جب غیر ریاسی قوتیں دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنی ہوئیں ہیں ، ہم نے ایسی طاقتوں کو اپنے پہلو میں جگہ دے رکھی ہے جو کسی بھی وقت پاکستان سے باہر بھی کاروائی کر سکتے ہیں۔دنیا میں ہوئے چند بڑی دہشت گردی کی کاروائیوں کے تانے بانے کسی نہ کسی صورت میں پاکستان میں ملتے ہیں۔
اگر دہشت گردی ہمارا اندرونی مسئلہ ہوتا اور صرف ہم ہی ان کا ہدف بنتے تو کسی حد تک دنیا ہمارے موقف کی حمایت کرتی کہ ہم اپنے اندرونی مسئلے کو اپنے طور پر حل کرنا چاہتے ہیں ۔تب ہم ڈرون حملوں کو اپنی قومی خودمختاری کے منافی گردانتے ہوئے اس کے خلاف احتجاج بھی کرتے تو کسی حد تک دنیا کی ہمدردی حاصل کر سکتے تھے۔لیکن اسامہ بن لادن جیسا مطلوب ترین شخص ہمارے ملک میں چھپاہوا ملا اور حکیم اللہ محسود پر ہمارے ملک میں ڈرون حملہ ہو جائے پھر یہ ہمارا اندرونی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ عالمی مسئلہ بن جاتا ہے۔اب ہمارے لیڈر کافر امریکہ کے خلاف لوگوں کواکسا کر نفرت پیدا کریں تو ہم دنیا کے سامنے اس کی وضاحت کرنے سے قاصر رہیں گے۔
ہم عجیب قوم ہیں جہان منور حسن ان فوجیوں کی مذمت کرتے ہیں جو اس ملک کے لیے اپنی جان قربان کرتے ہیں اور دہشت گردوں کے سرغنہ کو شہید قرار دیا جاتا ہے ۔فضل اللہ کو اپنا نیا لیڈر بنا کر ٹی ٹی پی نے ان لوگو کی غلط فہمی دور کر دی جو یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ تحریک صرف قبائلی علاقوں پر ڈرون کے رد عمل کے طور پر وجود  میں آئی ہے اور افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ختم ہو جائے گی۔
ہمارے ہاں یہ ہو رہا ہے کہ ملک کے اندر ہی ایک شخص کے لیے کوئی دہشت گرد ہے تو دوسرے کے لیے وہ مجاہد ہے۔ ہم کنفیوژ قوم ہیں کیونکہ ہم یہ فیصلہ نہیں کر پاتے کہ جو ہماری فوج اور عوام کو اسلام کے نام پر قتل کرتے ہیں وہ دہشت گرد ہیں یا مجاہد؟اس کے مقابلے میں ٹی ٹی پی میں ایسی کوئی الجھن نہیں ہے۔ان کے مطابق ہر وہ شخص جو ہمارے آئین کو مانتا ہو اور ہمارے ریاستی نظام کے حامی ہو وہ کسی بھی صورت رحم کے حقدار نہیں۔اگر ہم ایک قوم کی صورت میں قائم رہنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان دہشت گردوں یا ’’مجاہدوں ‘‘کے بتائے ہوئے طریقے پر زندگی گزرانا پڑے گا۔
اب ہمیں اس بات پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان کا مطلب کیا ہے؟ پاکستان کے مفاد پر ڈٹے رہنا، چاہے وہ امریکی مفاد کے خلاف کیوں نہ ہو، یہ اپنی جگہ درست ہے لیکن اپنی اوقات سے بڑھ کرامریکہ کی تباہی میں اپنی بقا تلاش کرنا بالکل الگ چیز ہے۔کیا ہم چاہتے ہیں کہ ایک سنی مذہبی ملک بناکر عظیم اسلامی سلطنت کے قیام کی بنیاد ڈال دی جائے یا ہمیں چاہیے کہ اپنے شہریوں کی قابلیت کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہوئے ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیے جائیں۔ کیا ہم ایسا پاکستان چاہتے ہیں جہاں مسلم، ہندو اور عیسائی مساوی طور پر پاکستانی کہلائیں یا پھرایسا ملک جہاں شعیوں کو زندہ رہنے کے لیے جزیہ دینا پڑے۔ منور حسن اور ان جیسے دوسرے لوگ تو اپنی راہ پر چل رہے ہیں۔ اب وقت ہے کہ ہم اپنے لیے الگ راستہ اپنا لیں یا پھر ان کے ساتھ لائن میں لگ جائیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *