گول روٹی کی تقدیس

اب جبکہ تم زندگی کے عذاب سے نجات پا چکیں اور دنیاوی نفع نقصان سے ماورا بھی ہو چکیں‘ تو میرے پاس کیا لینے آئی ہو؟ جب aniq Najiتمہاری زندگی میں کوئی تمہارے کام نہ آیا اور تمہارا قاتل بھی تمہارا باپ ہے‘ تو میں کیا کر سکتا ہوں؟ پہلے تو تم ایک لڑکی پیدا ہوئیں۔ یہ جرم کیا کم ہے؟ اب تو جان چکی ہو نا کہ پاپولیشن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ بتاتا ہے پاکستان میں بچی کی جنس کا پتہ چلنے پر اسقاط حمل کی تعداد ایک لاکھ 17ہزارسالانہ ہے۔ یعنی ہر روز 320 کے لگ بھگ۔ الٹراساﺅنڈ ایجاد کرنے والے کافر کا مقصد کچھ بھی ہو‘ ہم نے تو اپنا مطلب نکال ہی لیا ہے۔
یہ کیا؟ تمہاری آنکھوں میں تیرتے آنسو پوچھ رہے ہیں کہ میرا جرم کیا تھا؟ تم نے روٹی گول کیوں نہیں بنائی تھی؟ تمہیں خبر نہ تھی کہ تمہارے باپ کا مزاج کتنا نفیس ہے؟ کیا گزری ہو گی حس لطافت پر؟ پھر وہی ہوا‘ جو تمہارا مقدر تھا۔ کیا؟ تمہارے ہاتھ چھوٹے تھے؟ روٹی گول کیسے بنتی؟ یہ میرا مسئلہ نہیں ہے۔پھر رو رہی ہو؟ یہ تمہاری کھیلنے کی عمر تھی؟ کیا بتاﺅں تمہیں؟ سال گزشتہ ستمبر میں بی بی سی نے بتایا تھا کہ پاکستان میں 40لاکھ بچوں سے جبری مشقت کروائی جاتی ہے۔ ان میں سے 15لاکھ بچے گلیوں میں رات گزارتے ہیں۔ دوبارہ پڑھو! میں نے یہ نہیں کہا کہ 15لاکھ بچے گلیوں میں سوتے ہیں۔ میں نے کہا رات گزارتے ہیں اور ان کے ساتھ بس ڈرائیور‘ نشئی اور سستے ہوٹلوں کے مالک کیا سلوک کرتے ہیں؟ تمہیںبتاتے شرم آتی ہے۔ جیسے ایک لڑکے کی کہانی نہ سنی ہو تو سن لو۔ کیسے اس کو ایک رات چار افراد نے اغوا کیا اور ظلم کر کے اس کو لہولہان کر دیا۔ اب وہ نشے کا عادی ہے اور خوداذیتی کا شکار ہے۔ یعنی خود کو بلیڈ مار لیا۔ پتھر مار لیا۔ غصہ ختم۔ کچھ سمجھ آیا؟ نہیں۔ اچھا تمہیں یاد ہو گا ستمبر 2013ءلاہور گنگا رام ہسپتال میں پھینکی جانے والی 5سالہ بچی۔ وہ بھی یاد نہیں‘ تو تمہاری پیدائش سے قبل اسی شہر لاہور میں جاویداقبال نامی شخص بھی گزرا ہے، جس نے 100بچوں کو قتل کرنے کا اعتراف کیا تھا۔بی بی سی کی جس رپورٹ کا ذکر میں نے کیا ہے‘ اس میں عمران خان نے اعتراف کیا کہ میں شرمندہ ہوں‘ ہم اپنے ان بچوں کو تحفظ نہیں دے سکے۔ ایک سال گزر گیا۔ ان بچوں کے لئے کچھ ہوا؟ تحریک انصاف کے جلسوں میں نعروں میں بے گھر بچوں کا ذکر کبھی ملا ہے؟ یاد رہے‘ بی بی سی کی رپورٹ میں خیبرپختونخوا کے بچوں کا ذکر خصوصی طور پہ ہے۔
میں کیا بتاﺅں؟ تمہاری طرح کے بچے کس سے پناہ مانگیں؟ کہاں جائیں؟ پولیس حکمرانوں کی حفاظت کرتی ہے۔ کم تنخواہوں کے باعث اوپر کے ذرائع بھی ڈھونڈنا ہوتے ہیں۔ ہماری مذہبی سیاسی جماعتیں ‘ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خاموش رہ کر اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ پھر انہیں قوم کی اخلاقی تربیت بھی کرنا ہے۔ کیا کہا؟ تمہارے جیسے بچوں کے لئے وہ کچھ کریں؟ مرتی مر گئی ہو‘ عقل نہ ملی تمہیں۔ پتہ ہے نا کہ صفائی نصف ایمان ہے؟ کبھی سناکہ کسی مذہبی‘سیاسی یا تبلیغی جماعت نے اعلان کیا ہو کہ ہمارے کارکن فلاں تاریخ سے گلیوںمحلوں سے کوڑا اٹھائیں گے۔ اپنے محلوں کوصاف ستھرا کریں گے۔ ان کا کام محض عبادات کی طرف متوجہ کرنا ہے۔ صفائی وغیرہ کے لئے اقلیتیں موجود ہیں۔ تبلیغی جماعت کے لائق احترام ساتھی بیان کے دوران زاروقطار روتے ہوئے تمہیں دکھائی نہیں دیتے؟ ہچکیاں بندھ جانا ایک معمول ہے۔ کیسی ایمان پرور حقیقت ہے؟ اب یہ کہ وہ تمہارے جیسے بچوں کے لئے بھی کچھ کریں‘ سنبھالیں۔ یہ ناممکن ہے۔ مسلمانوں کو دوبارہ کلمہ پڑھانا ہے۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں مغرب میں رہتے ہوئے مسلمانوں کی اخلاقی تربیت بھی کرنی ہے۔
ویسے تو مسجد بھی خدا کا گھر ہوتی ہے اور وطن عزیز میں مساجد کی کوئی کمی نہیں۔ مگرمسجد خدا کا گھر بھلے بھی ہو‘ اس کا انتظام انسان ہی تو چلاتے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہو کہ راستوں میں رات گزارنے والے بچوں کو مساجد اپنی پناہ میں لے لیں؟ یعنی عشاءسے فجر تک کا وقت۔ لیکن پھر وہی بات۔ مساجد خدا کا گھر ضرور ہوں‘ انتظام انسانوں نے چلانا ہے اور مخالف فرقوں کے بارے میں عوام کو خبردار تو کرنا ہے۔ تم جیسے بچے آتے جاتے رہیں۔ مقدس مقامات کی پاکیزگی کو برقرار بھی تو رکھنا ہے۔
کتنی این جی اوز اس ملک میں کام کرتی ہیں؟ سول سوسائٹی نامی ایک مخلوق بڑی مقبول ہے آج کل۔ کیا تم نے کبھی اپنے لئے انہیں کام کرتے دیکھا ہے؟ کیا کبھی تم جیسے بچوں کے لئے کوئی ملک گیر احتجاج ہوا؟ نہیں۔ سول سوسائٹی کے خواتین و حضرات نظریاتی بحثوں میں الجھے ہیں۔ ان کے مسائل اور ہیں۔ جیسے کچھ خواتین کا پردہ کرنا۔ جب تک حجاب کو معاشرے سے ختم نہ کیا جائے‘ تو ترقی کیسے ہو گی؟ اگر ان کے نزدیک بچوں کی صحت اور زندگی کی اہمیت ہوتی‘ تو کیا ان کے گھروں میں کم عمر بچے ملازمت کرتے؟
دانش سکول کو دیکھو۔ لیپ ٹاپ سکیم دیکھو۔ پیسہ خرچ ہو‘ ووٹ بھی تو آئیں۔ اب گلیوں میں رات گزارنے والے بے گھر بچوں کو آسرا کون دے؟کون شہروں اور قصبوں میں ہاسٹل تعمیر کروائے اور ووٹوں کے بالغ ہونے کا انتظار کرے؟ چلو! گنتے ہیںتم جیسے بچوں کے لئے کس نے مہم چلائی؟ نوازشریف‘ شہبازشریف‘ عمران خان‘ مولانا فضل الرحمن‘ آصف زرداری‘ اسفندیار ولی‘ محمود خان اچکزئی‘سراج الحق‘ حافظ سعید یا پھر ایوب خان‘ یحییٰ خان‘ ضیا الحق اور پرویز مشرف۔ حیران آنکھوں میں آنسو بھرے کیا تک رہی ہو مجھے؟ کیا کہا کہ تم تو اپنے باپ سے پیار کرتی تھیں۔ اس کا فرض تمہیںبچانا تھا اور تم اپنے خوش رکھنے کی ہر معصوم کوشش کی۔ ابھی تم سے جان چھڑوا رہا ہوں کہ سرحدپار سے خبر آئی کہ باپ نے اپنی 4سالہ بچی کو اس زور سے زمین پر دے مارا کہ وہ دم توڑ گئی۔ جانتی ہو کیوں؟ اس نے سر کا دوپٹہ درست طریقے سے نہیں اوڑھا تھا۔ مگر مجھے ایسی خبروں میں کیا دلچسپی؟ مجھے تو گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں ہلاک ہونے والے مسلمان کی موت پر دو قومی نظریہ بیچنا ہے۔ مجھے اعلان کرنا ہے کہ ہم اسلام کے قلعے میں رہتے ہیں۔ اور ہاں یاد آیا ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔
بھئی! دفاع کا مطلب سرحدوں کی حفاظت ہے۔ تمہاری زندگی اور حقوق کا ملکی دفاع سے کیا تعلق؟ یہاں ملالہ پہ شکوک و شبہات ہیں۔ اس سے زیادہ پاکستان کی کوئی بیٹی کیا کرے گی؟ اور تم نے زندہ رہ کر کرنا بھی کیا تھا؟ سنا ہے ‘ تمہاری ماں پہلے ہی گھر چھوڑ کے جا چکی تھی۔ تم تو اپنے آنسو بھی خود ہی پونچھتی ہو گی۔سچ پوچھو! لگتا یہ ہے تم موقع سے فائدہ اٹھاتے ہلاک ہو گئیں۔
افوہ!تم جانے کا نام نہیں لیتیں۔ میڈیا کیا کرے؟ شور مچاتا تو ہے۔ لیکن دوسرے کام بھی ہیں۔ سیاسی چسکے ہیں۔ مارننگ شوز ہیں۔ شادیاں ہیں۔ ساس بہو کی سازشیں ہیں۔ تم میری جان کے پیچھے پڑ گئیں۔ جاﺅ! سونا ہے مجھے۔ پھر وہی آنسو۔ پھروہی سوال۔ بند کرو بکواس۔ تمہارے باپ نے تمہیں صحیح مارا تھا۔ لگتا ہے مجھے ایک بار پھر تمہیں مارنا پڑے گا۔ اپنے قلم سے۔ اب ایک لفظ اور نہیں۔ لو!مار دیا تمہیں، پھر سے....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *