پلاسٹک کھانے والے کیڑے دریافت

keerayایک مطالعے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جانوروں کے پیٹ میں پائے جانے والے کیڑے میل وارم کو پلاسٹک ختم کرنے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔محقیقین نے بالآخر پلاسٹک کو ٹھکانے لگانے کا حل تلاش کرلیا ہے جس کا کا ماحول پر بہت برا اثر پڑ رہا تھا۔پلاسٹک جہاں متعدد چیزیں بنانے میں کام آتی ہے وہیں اس کا ایک بنیادی نقصان یہ ہے کہ پلاسٹک بہت سست رفتار سے قدرتی انداز میں ختم ہوتی ہے۔تاہم امریکا کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور چین کی بیہانگ یونیورسٹی کے ایک مشترکہ ریسرچ میں پہلی مرتبہ یہ بات سامنے آئی ہے کہ میل وارم کے پیٹ میں کچھ خاص قسم کے ماکرورگنسمز( microorganisms) موجود ہوتے ہیں جو پلاسٹک تک ہضم کرسکتے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ میل وارم صرف پلاسٹک کھاکر بھی زندہ رہ سکتے ہیں جبکہ انہیں اس کے علاوہ کچھ اور کھلانے کی ضرورت نہیں۔یہ رسرچ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اب سائنسدان میل وارم میں موجود اس انزائم کا پتہ لگاسکتے ہیں جس کے ذریعے وہ پلاسٹک کو ہضم کرتے ہیں اور اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرکے ماحول پر پلاسٹک سے ہونے والے اثرات کو کنٹرول کیا جاسکتاہے۔ریسرچ کے رکن وی من وو نے ایک اعلامیے میں کہا کہ اس مطالعے سے عالمی آلودگی کے مسائل کی جانب نیا دروازہ کھل گیا ہے۔رسرچرز اب میل وارم میں پائے جانے والے اس بیکٹیریا پر تحقیق کررہے ہیں جس کے ذریعے میل وارم پلاسٹک ہضم کرپاتے ہیں تاہم دنیا کی گنی چنی جگہوں پر ہی اس طرح کی تحقیق کی سہولیات موجود ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *