نیا پاکستان اورلحد سازادارے

razi ud raziحبس اور گھٹن کے ماحول میں ہم جیسے عام شہری تازہ ہوا کے جھونکے کوبھی ترستے ہیں۔ حبس سے نجات کے لیے ہم جوش ملیح آبادی کی زبان میں لُوکی دعا بھی نہیں مانگ سکتے کہ تعلق ہمارا مدینۃ الاولیاء ملتان سے ہے اورہمیں بخوبی علم ہے کہ لُو ہوتی کیا ہے؟ اس خطے کے لوگ بیک وقت لُو اورگھٹن کے ماحول میں سانس لیتے ہیں اور اب تو اس ماحول میں جینے کے ہنر سے بھی آشنا ہو چکے ہیں۔ ملتان تو خیر گردوگرما اور گورستان کی پہچان بھی رکھتا ہے۔ حالت یہ ہے کہ گرد تو اب پورے ملک میں اڑ رہی ہے یا اڑائی جارہی ہے اورگورستان بھی نئی کالونیوں کی طرح تیزی سے وسیع اور آباد ہورہے ہیں۔ وطن عزیز میں لاشوں کے سوا ہر شے کی قلت ہے اور لاشیں جس تیزی سے گرائی جارہی ہیں خدشہ یہ ہے کہ مستقبل میں قبرستان بھی پلازوں کی صورت اختیار کرجائیں گے اور صحافت وکتب سازی کی طرح لحد سازی بھی باقاعدہ صنعت کادرجہ اختیار کر جائے گی۔ سرمایہ داروں اور تاجروں کو ملکی معیشت مستحکم کرنے کے لیے لحد ساز اداروں کی تشکیل کے نئے مواقع میسر آئیں گے تو پھر غیرملکی سرمایہ کاروں کی اعتماد سازی میں بھی مدد ملے گی۔ یہی وہ مرحلہ ہوگا جب ہم بہت اعتماد کے ساتھ کہہ سکیں گے کہ ہم نے نیا پاکستان تشکیل دے دیا ہے۔ ایک ایسا پاکستان جواقبال کے خوابوں کی تعبیر ہے اورجہاں جمہوریت سمیت ہرنقش کہن کو حرف غلط کی طرح مٹا دیاگیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *