راولپنڈی: فرقہ وارانہ فساد، آٹھ ہلاکتوں کے بعد کرفیو نافذ

riotsراولپنڈی کے علاقے فوارہ چوک کے مقام پر نماز عصر کے وقت ماتمی جلوس کے قریب دو گروہوں میں تصادم اس وقت ہوا جب دس محرم کا جلوس اس راستے سے گزر رہا تھا۔ اسی دوران نامعلوم افراد کی فائرنگ سے بھگدڑ مچ گئی اور نامعلوم افراد نے ماتمی جلوس کو روک کر پتھراؤ کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

پولیس نے ابتدائی بیان میں کہا تھا کہ جلوس جائے وقوعہ سے گزر رہا تھا کہ اس دوران جلوس کے شرکا نے تضحیک آمیز رویہ اپنانے پر ایک مدرسے سے تعلق رکھنے والے تین افراد کو تشدد کر کے ہلاک کر دیا۔

حکام  کے مطابق نامعلوم مشتعل افراد نے فوارہ چوک کے قریب کپڑے کی مارکیٹ کو آگ لگا دی جس سے کروڑوں روپے مالیت کا کپڑا اور دیگر سامان جل کر خاک ہو گیا اور علاقے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق واقعہ اس وقت رونما ہوا جب 10 محرم الحرام کا ماتمی جلوس سنی مکتبہ فکر کی ایک مسجد کے پاس سے گزرا جہاں اس وقت خطبہ جاری تھا۔

راولپنڈی ڈسٹرکٹ اسپتال کے آفیشل قاسم خان کے مطابق ہلاک ہونے والوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے جبکہ واقعے میں 44 افراد زخمی بھی ہوئے۔

اے ایف پی کے مطابق اس موقع پر مشتعل نوجوانوں نے دوسرے گروہ پر حملہ کرنے کے ساتھ ساتھ پولیس اہلکاروں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا جبکہ موقع پر موجود صحافیوں کے کیمرے بھی توڑ دیے۔

ایک پولیس افسر افضل حسین نے اے پی کو بتایا کہ پولیس نے تصادم کو روکنے کی کوشش کی لیکن اس دوران دونوں جانب سے ایک دوسرے پر ہونے والے پتھراؤ سے پولیس افسران زخمی ہو گئے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے یوم عاشورہ پر راولپنڈی میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کا نوٹس لیتے ہوئے حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *