تحریک انصاف اور تبدیلی

Timojan Mirzaاگر یہ تحریر پہلے لکھتا تو شاید مختلف ردعمل دیکھنے میں آتا مگر میں نے کسی حد تک نتیجہ آنے کا انتظار کرنے کے بعد ہی یہ لکھنا بہتر سمجھا تاکہ شاید کچھ لوگ جذباتیت سے ہٹ کر تجزیہ کر پائیں۔ این اے ایک سو بائیس کی انتخابی مہم جب شروع ہوئی تو پاکستان تحریک انصاف کے حامیوں نے ایک دفعہ پھر بلند بانگ دعوے شروع کر دیے اور وہی سب دوہرانا شروع کر دیا جو ہر انتخابی دن سے پہلے ایک عام سی بات ہو گئی ہے۔ تحریک انصاف کی قیادت کی طرف سے جذباتی تقاریر اور زمین و آسمان کے ایک ہو جانے کے امکانات بیان کرنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ اور پھر اپنی کی گئی ہر بات کو جائز قرار دینا جبکہ مخالفین کی طرف سے کسی جگہ پر کھڑے ہو جانا بھی ناجائز ہونے کے فتاویٰ بھی سبھی پہلے سے جانتے ہیں۔ بس تحریک انصاف کے حامی بار بار اپنے قائدین کی طرف سے یہ فتاویٰ دہرانے کے مشتاق ہوتے ہیں کہ ان کی رگوں میں دوڑتا خون ٹھاٹھیں مارنے لگ جاتا ہے۔ پھر انتخابی دن قریب آنے پر کچھ مبہم سی باتیں کرنا کہ اگر ہار ہو جائے تو اس پر واویلا کیا جا سکے، یہ سب ایک ایسی ہونی ہے کہ جسے تحریک انصاف کبھی بھی انہونی نہیں ہونے دیتی۔
ہم اگر ٹھنڈے دل اور سنجیدگی سے تحریک انصاف کی کسی بھی انتخابی مہم یا تحریک کا جائزہ لیں تو اس کے قائدین کے دلوں میں واضح طور پر صرف تام جھام کے بل پر جیت جانے کا گمان غالب دکھتا ہے۔ باقاعدہ کام کرنے اور لوگوں میں عام دنوں میں موجود ہونے کے ساتھ ساتھ ان کے شانہ بشانہ چلنے کی بجاے صرف بلند بانگ دعوے، الزامات کا بار بار دوہرانا اور الیکٹرانک اور سوشل میڈیا پر ہی انحصار کرنے کی قیمت بہرحال دینا پڑتی ہے۔ سارا دن ٹی وی پر بیٹھنے یا سوشل میڈیا کا استعمال کرنے والے طبقے کے علاوہ کوئی بھی اس انداز سے زیادہ متاثر نہیں ہوتا۔ زندگی کے روز مرہ مسائل سے نپٹنے والے افراد یہ چاہتے ہیں کہ ان سے ذاتی سطح پر بات چیت کی جائے اور خاص طور پر جب تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والا مخصوص طبقہ انہیں مسلسل تحقیر آمیز انداز میں مختلف خطابات سے نوازتا ہے تو عقلی تو چھوڑئیے جذباتی طور پر ہی لوگ تحریک انصاف سے دوری محسوس کرتے ہیں۔ یہ بات اب تک واضح ہو جانی چاہیے کہ بڑے بڑے جلسوں سے انتخابات نہیں جیتے جا سکتے۔ تحریک انصاف کے جلسوں کے دوران انہی کے مختلف قائدین کی طرف سے پاکستان کے تمام علاقوں سے آے ہوئے کارکنوں کے ساتھ تصاویر بڑے فخر سے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی تھیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جلسوں کا حجم تقریباً تمام علاقوں کے کارکنوں کی شمولیت کا مرہون منت ہوتا ہے۔ شاید عمران خان اور تحریک انصاف کی باقی قیادت اسی خیال میں ہوتی ہے کہ آپ ہیجان آمیز فضا قائم کر دیجئے شاید عوام اسی کے بل پر ووٹ دے جائے۔ یا شاید وہی امید کہ مقبولیت عام دیکھ کر اقتدار کے سرچشموں کے دلوں میں تحریک انصاف کی حتمی حمایت کا کوئی خیال جاگ جائے۔
ہو سکتا ہے پاشا صاحب نے یقین دلایا ہو کہ ایسا کرنا ہی بالآخر کامیابی دلاتا ہے۔ ایک حلقے کے انتخاب کو ہر دفعہ زندگی موت کا مسئلہ بنا دینا بھی غلط رجحان ہے کہ اس سے حامی طبقہ میں مایوسی پیدا ہوتی ہے اور وہ جو امید بار بار لگاتے ہیں اس کے ٹوٹنے پر آہستہ آہستہ برگشتہ ہوتے جاتے ہیں۔ بار بار کا ہیجان اور پھر مایوسی معاشرہ میں متشددانہ جذبات کو فروغ دیتا ہے جو کسی بھی ملک کے لئے اچھا امر نہیں ہوتا۔ جلسوں میں عوام کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر دکھا دکھا کر جذبات تو انگیخت کیے جا سکتے ہیں کسی کے مسائل حل نہیں کیے جا سکتے۔ لوگ بھی چار گھڑی کی تفریح یا وفاداری نبھانے کو آن موجود ہوتے ہیں لیکن انتخاب کی رات سو کر اٹھنے کے بعد وہی مسائل ایک دفعہ پھر دکھائی دینے لگ جاتے ہیں بلکہ ان کا احساس زیادہ شدت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے قائدین کے وعدوں کے نتیجہ میں سمجھنے لگ جاتے ہیں کہ فتح انہی کی ہے اور فاتح ہونے کی صورت میں ان کے مسائل سو کر اٹھنے پر حل ہو چکے ہوں گے۔ پھر ایک تو شکست خوردگی اور انتخابی عمل میں شریک ہونے کی وجہ سے مسائل پر توجہ نہ دینے کی صورت میں ان کا مزید پیچیدہ ہو جانا ایک ایسی صورت حال کو جنم دیتا ہے جس سے کسی صورت مفر نہیں۔ ایسے افراد پھر کوئی راہ فرار نہ ہونے پر ایسی تنظیموں کے لئے قیمتی اثاثے ثابت ہوتے ہیں جو انہیں نہ صرف طاقت کا احساس دلاتی ہیں بلکہ کسی کے علم میں لاے بغیر متشددانہ کاروائیوں میں شریک ہونے پر سرمایہ کی فراہمی بھی بہم پہنچاتی ہیں۔ اگر کہا جائے کہ ہر شخص تو ایسا نہیں کرے گا اور ایسا ہونے کا امکان موجود تو ہوتا ہے لیکن انتہائی کم تو جناب کیا ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی طرف سفر اچھی بات ہے کہ جس میں ایسی تنظیموں کے لئے ممکنہ مددگار موجود ہوں؟ ہمارے معاشرہ میں پہلے بھی ایسی کیفیات کی موجودگی سے بہت فائدہ اٹھایا گیا ہے۔
علیم خان کے اس حلقہ میں کیے گئے کاموں کی وجہ سے اور اس بار بھی خرچ کیے گئے سرمایے (جس میں براہ راست لوگوں تک پیسے پہنچائے گئے) کے باوجود یہ نتیجہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تحریک انصاف کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنا ہو گی۔ عمران خان کے دھواں دھار خطبات( معافی چاہتا ہوں، خطابات) انتہائی کوشش، ایاز صادق صاحب کا اپنے حلقہ سے انتخاب جیتنے کے بعد مسلسل غائب رہنا اور بقول تحریک انصاف کے مسلم لیگ نواز کی نااہلیوں کے باوجود بھی اگر بات نہ بن سکی تو خرابی ضرور موجود ہے۔ پھر یہ مضحکہ خیز دعوے کہ سرکاری ملازمین کو دھمکیاں دی گئیں کہ ووٹ مسلم لیگ نواز کو ہی دیا جائے اور ایسی ہی مزید گل افشانیاں بھی عجیب و غریب ہیں۔ اگر لوگوں کو ایسے ہی مجبور کیا گیا اور ان کے دلوں میں تحریک انصاف ہی دھڑکتی ہے تو وہ اپنے دیوتا سمان قائد عمران خان کی موجودگی میں کھلے عام یہ کیوں نہ کہ سکے جبکہ ہر ٹی وی چینل خان صاحب کو براہ راست دکھا رہا ہوتا ہے۔ عمران خان صاحب تو کچھ نہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہیں تو کھلے عام ایسی باتوں کے ہونے پر ان کا موقف انتہائی مضبوط ہو جاتا اور حکومت کچھ بھی نہ کر پاتی۔ واضح طور پر پتہ ہوتا کہ فلاں فلاں جگہ کے ووٹ مکمل طور پر تحریک انصاف کے ساتھ ہیں اور جتنی برتری ایاز صادق صاحب کو ملی وہ ہوا ہو جاتی کیونکہ نہ صرف ان علاقوں کے مکین بلکہ دوسرے علاقوں کے لوگ بھی حکومت سے برگشتہ ہو جاتے۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کی مقبولیت بھی اس حد تک گر جاتی کہ بالآخر خان صاحب کے دیرینہ خواب یعنی ’’گو نواز، گو‘‘ کی تکمیل ہو جاتی۔
بہتر یہ ہے کہ تحریک انصاف ایک ہی راگ بار بار مختلف انداز میں الاپنے کی بجاے اقتدار نہ ہوتے ہوئے بھی عوام کے ساتھ براہ راست رابطے اور ان کے مسائل حل کرنے میں عملی کوشش دکھائے تاکہ لوگوں میں مقبولیت حقیقی معنوں میں بڑھ سکے نہ کہ صرف ایک مخصوص طبقہ میں ہی مقبول رہا جائے جو اپنے موقف سے مطابقت نہ رکھنے والوں کو بری زبان اور تحقیر آمیز انداز میں مخاطب کرنے میں ملکہ رکھتا ہے۔ اس میں ان کا بھی قصور نہیں ہے کیونکہ انہیں کئی سال سے ایسا رویہ رکھنے پر مسلسل اکسایا جاتا رہا ہے جس کے نتیجہ میں معاشرہ میں نفرت ہی فروغ پا رہی ہے۔ برسوں کے یارانے ختم ہو چکے ہیں اور کف اڑاتے ہوئے بحث کرنا ایک مقبول عام سا رجحان بن چکا ہے۔ اگر سڑکیں بنانا اور ایسے ہی کام کرنا عوام کی خدمت نہیں ہے تو کیوں نہ تحریک انصاف ایک دفعہ باقاعدہ خدمت کر کے دکھا دے؟ جتنا پیسہ تحریک انصاف کے آقا، جہانگیر ترین اور ان جیسے کئی دوسرے دھرنوں اور ایسی ہی سرگرمیوں میں روز اڑاتے ہیں کیا وہ خرچ کر کے عوام کے لئے عملی کام نہیں کیا جا سکتا یا صرف اقتدار کا حصول ہی ضروری ہے؟ یہ ایک انتہائی عجیب بات لگتی ہے کہ اقتدار کے نہ ہوتے ہوئے عوام کے لئے کچھ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یقینی طور پر ایسا نہیں ہے۔ یا دوسروں کی طرح اپنی جیب سے عوام کے لئے خرچ کرنے کی بجاے عوام ہی کی جیب سے نکلوا کر تھوڑا بہت خرچ کرنا ہی مقصود ہے؟ عمران خان اور ان کے کرتا دھرتا معاشرہ کی تشکیل کی بجائے کسی اور ہی تبدیلی کی طرف دیکھ رہے ہیں اور ایسی تبدیلی سے خدا کی پناہ ہی اچھی!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *