عمران خان کی سیاست کے تضادات

ذیشان ہاشم

zeeshan Hashimآپ دوستوں کو یاد ہو گا کہ گزشتہ عام انتخابات سے پہلے عمران خان صاحب نے ہی مطالبہ کیا تھا کہ پریذائڈنگ آفیسرز عدلیہ سے لئے جائیں ... اور پھر انتخابات میں شکست کے بعد انہوں نے دھاندلی کے الزامات میں انہی پریذائڈنگ آفیسرز کو نشانہ بنایا تھا-
حالیہ ضمنی انتخابات (علیم خان بمقابلہ ایاز صادق ) میں انہی کا مطالبہ تھا کہ پولنگ اسٹیشنز میں انتخابات کی نگرانی کے لیے فوجی جوان تعینات کئے جائیں۔ اب انتخابات میں شکست کی صورت میں قوی امکان یہ ہے کہ کم از کم وہ فوج پر دھاندلی کا الزام نہیں لگائیں گے جہاں سے بقول ان کے مخالفین، ان کے محسنوں کی ان کے حق میں انگلی اٹھتی ہے۔
اب خان صاحب کے پاس تین مواقع ہیں، اول یہ کہ شکست کو کھلے دل سے تسلیم کر لیں اور قومی سیاسی مکالمہ میں مہذب رجحانات کو فروغ دیں۔ دوم یہ کہ دوبارہ اسی ایمپائر کے پاس تشریف لے جائیں جس نے ان سے انگلی اٹھانے کا وعدہ کئی بار کیا اور ہر بار اگلی بار کا ”وعدہ بے مروت“ کر کے ان کے ”شارٹ کٹ عزائم“ کو کامیابی کا منہ نہ دیکھنے دیا - اور تیسری صورت یہ ہے کہ اگلے انتخابات کا انعقاد فیس بک پر کرانے کا مطالبہ کر دیں کیونکہ بقول بعض فیس بکی تجزیہ نگاروں کے ، اس صورت میں انہیں سب سے زیادہ لائکس، شیئرز، اور کمنٹس ملنے کا امکان ہے-
تحریک انصاف چونکہ عمران خان صاحب کی ملکیت خاص ہے جس میں وہ محترمہ ریحام خان صاحبہ کو بھی شریک کرنا نہیں چاہتے ، اور پارٹی میں بھی شاہ محمود قریشی یا جہانگیر ترین پر تنقید کرنا آسان ہے مگر عمران خان پر نہیں ، اس صورت میں بڑے سے بڑے سیاسی رہنما کو بھی پارٹی بدر کر کے سوشل میڈیا پر سرعام رسوا کیا جاتا ہے- عمران خان صاحب کی سیاست ان گنت تضادات کا شکار ہے، وہ جس پارلیمان کو ببانگ دہل جعلی کہتے رہے اب اسی کے معزز رکن ہیں - جس سٹیٹس کو سے لڑنا چاہتے ہیں اسی کے نمائندے ان کے اردگرد ہیں - نیا پاکستان بنانے چلے ہیں مگر جس سیاسی تمدن کا اظہار ان کی بلاغت سے ہوتا ہے وہ پرانے پاکستان سے بھی بدتر ہے- اور تو اور انتخابات جیتنا چاہتے ہیں مگر عوامی حق انتخاب کی دشمن قوتوں سے ان کی آشنائی ہے ، اور جمہوریت سے انکی وابستگی شکوک و شبہات کی گرد میں دبی ہوئی ہے-
عمران خان ہمارے قومی سیاسی مکالمہ میں اچھا اضافہ ہو سکتے ہیں ، اگر آپ عملی بصیرت ، جمہوری اقدار اور سیاسی اخلاقیات کا ثبوت دیں۔ اگر وہ انتخابی سیاست سے اقتدار حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں تو جمہوریت سے انکی وابستگی شک و شبہ سے بالاتر ہونی چاہئے۔ انہیں چاہئے کہ اپنے سیاسی کارکنوں کی تربیت کا بطور خاص انتظام کریں کیونکہ وہ سیاسی گفتگو میں اپنے لیڈر کی پیروی کرتے ہوئے اسے اس انتہا تک لے جاتے ہیں کہ جسے سن کر شاید خان صاحب خود شرمندگی محسوس کریں ۔ وہ پارٹی کے اندر اس سیاسی مکالمہ کو فروغ دیں جو پاکستان میں سیاسی و جمہوری ارتقا کے لئے ازحد ضروری ہے - وہ دوسرے سیاستدانوں سے بہتر ثابت ہو سکتے ہیں اگر وہ بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کریں ، سیاسی پختگی اور مدبرانہ قیادت کے بغیر وہ صرف دھول ہی اڑا سکتے ہیں - ایک جمہوریت پسند کبھی بھی مسلم لیگ (نواز ) اور پیپلز پارٹی کی سیاسی عمل میں تنہا اجارہ داری برداشت نہیں کر سکتا ، مگر جمہوریت پسندوں کے لئے عمران خان اس متبادل کے طور پر ہر گز قبول نہیں جب وہ اپنے سیاسی اقتدار کے لئے جمہوریت ہی پر شب خوں مارنے سے نہیں چوکتے -
خان صاحب جمہوریت کے مقدمہ میں برطانوی حکومت کی بار بار مثال دیتے ہیں مگر پاکستان میں وہ جس رجعت پسند طبقہ کی نمائندگی کرتے ہیں اس نے ہماری سماجی ترقی میں ان گنت رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں ، جیسے وہ وزیرستان میں فوجی کارروائی سے پہلے طالبان کے لئے انتہائی نرم گوشہ رکھتے تھے ، ان کے لئے دفاتر کھولنے سے لے کر انہیں اقتدار و انتظامیہ میں شامل کرنے کی خواہش اظہار کرتے رہے ، اور فوجی آپریشن کی ناکامی کا عندیہ دے کر پاکستانی ریاست کو اپنی رٹ کی مد میں کمزور باور کراتے رہے۔ جب فوجی آپریشن ہوا اور قوم کو دہشت گردوں کے خلاف کامیابی ملی ، تو ان کے ہی ذمہ دار کارکن ”شکریہ راحیل شریف مہم“ کا حصہ بن کر جمہوری عمل کو کمزور کرنے کی سازش میں بڑھ چڑھ کر شریک رہے۔ خان صاحب کو نظریاتی طور پر واضح ہونا ہو گا کہ وہ جمہوریت سے اٹل نسبت رکھتے ہیں ، دہشت گرد رجعت پسندی سے انکی دشمنی ہے وگرنہ وہ برطانوی جمہوری ماڈل کی مثالیں دینے کے بجائے کسی فوجی جرنیل کو امیر المومنین اور خود کو اس کا وزیر خاص بنانے کی جدوجہد میں شامل ہو جائیں۔ یہ تضادات کی سیاست ان کے عزائم کو بھی ناکام بنا رہی ہے اور ہمارے سیاسی مکالمہ کو بھی غیر مہذب بنانے کی کوشش لاحاصل میں شریک ہے ... اور تو اور ممتاز قادری کیس میں تحریک انصاف کے کارکنوں کی اکثریت ممتاز قادری کو ہیرو بنانے پر تلی ہوئی ہے ، یہ وہ پارٹی کلچر ہے جس کا اظہار تحریک انصاف کے کارکن اپنے سیاسی و نظریاتی نسبتوں میں کرتے ہیں -

عمران خان کی سیاست کے تضادات” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 12, 2015 at 7:02 PM
    Permalink

    میرا مسئلہ اس وقت عمران خان نہیں بلکہ موجودہ حکومت ہے۔ عمران خان کیا کرتا ہے، کیا نہیں کرتا، اس کے فیصلوں کا اثر فی الحال پاکستان کی عوام پر نہیں پڑے گا۔ ہاں حکومت جو کررہی ہے اس کا ڈائریکٹ اثر عوام کی زندگی پر پڑرہا ہے کیونکہ زمامِ اقتدار و اختیار حکومت کے ہاتھ میں ہے۔ عمران خان جب حکومت میں آئے گا اور ڈیلیور نہیں کرے گا، تب ہم اسے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔

    فی الحال مجھے یہ بتایئے کہ پہلے تو بجلی کا معاملہ گھسٹ گھسٹ کر چل رہا تھا اور حکومت نے اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے ذریعے عوام کو کسی حد تک دلاسہ دے رکھا تھا ، لیکن اب پچھلے دس پندرہ دن سے طویل غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے کہ عوام کا جینا محال کردیا ہے، چوبیس گھنٹے میں سے صرف دس ، بارہ گھنٹے بجلی آتی ہے، اس کا ذمہ دار کیا میں عمران خان کو ٹھہراؤں یا گنجوں کے سر پر طبلہ بجاؤں؟

    ان کی حکومت کے آغاز میں جس طرح ان نوٹنکی بازوں نے عوام کو بے وقوف بنانے کے لئے ملک سے لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے لئے دوڑ دھوپ شروع کی تھی، اس سے میرے جیسے ان کے شدید مخالفین کے دل میں بھی کچھ نرم گوشہ پیدا ہوگیا تھا کہ چلیں کچھ نہ کچھ تو کررہے ہیں اور شاید یہ لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ حل کربھی لیں، لیکن ان کا پول تو اب کھلا ہے جب ان کے بجلی کے پراجیکٹس دھڑا دھڑ بند ہونے شروع ہوگئے اور ن لیگ کے پانچ چھ تجربہ کار جو شلواڑیں اڑنگ کر بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرنے پر لگے ہوئے تھے، وہ بھی نندی پور میں 80 ارب اجاڑ کر بیٹھ گئے اور الزامات ایک دوسرے پر دھرنے لگے، یہاں تک کہ وہ معاملہ بھی ٹھپ ہوگیا ہے اور ان کی نااہلیت اور نکمے پن کا پول پوری طرح کھل چکا ہے کہ ڈنگروں کا یہ ٹولہ صرف سڑک، گٹر اور نالیاں ہی بنا سکتے ہیں، ان کی اتنی اوقات بھی نہیں کہ یہ ایک پاور پلانٹ تک لگاسکیں۔ یہ کریڈٹ لیتے ہیں ایٹم بم بنانے کا؟ کسی نے سچ ہی کہا ہے جب ایٹم بم بنا اس وقت تو ڈنگر برادران اپنے باپ کی بھٹی میں لوہا کوٹ رہے ہوں گے۔

    پولیس کی حالت کا ذمہ دار میں کسے ٹھہراؤں، عمران خان کو؟ یہ چھوٹا گنجا ، میٹرک فیل، جو ہر وقت کینسر کا رونا رو رو کر عوام سے مظلومیت کی بھیک مانگتا رہتا ہے، یہ پچھلے ساڑھے سات سال سے پنجاب کے ساتھ چمٹا ہوا ہے، ایمانداری سے بتائیں، اس ڈنگر نے ایک رتی برابر بھی پنجاب پولیس میں بہتری کی ہے، آج پنجاب پولیس کا حال یہ ہے کہ بیشتر جرائم میں پنجاب پولیس کی آشیرباد شامل ہوتی ہے۔

    ملک میں پچھلے سات سال سے جب بھی سیلاب آتا ہے، ہم ایک ہی ڈرامہ دیکھتے ہیں، چھوٹا گنجا لانگ شوز پہن کر سیلاب کے پانی میں کھڑا ہو کر تصویریں کھنچوا رہا ہوتا ہے، کبھی ہیلی کاپٹر میں بیٹھ کر اوپر سے سیلاب کے نظارے لے رہا ہوتا ہے، کبھی آٹے کی بوریاں پھینک کر عوام کی بے بسی کا تماشہ دیکھتا ہے؟ کیا اس نے سیلاب کی صورتِ حال سے نمٹنے کے لئے کوئی ایک اقدام بھی کیا ہے؟

    لوڈشیڈنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تو گنجے بالکل ننگے ہوکر سامنے آچکے ہیں، اب وڈا گنجا ہر جگہ یہ کہتا پھرتا ہے کہ میں نے تو کبھی نہیں کہا تھا کہ چھ مہینے یا تین سال میں لوڈشیڈنگ ختم کروں گا، اس کو خود بھی یقین نہیں کہ لوڈشیڈنگ ختم ہوگی بھی یا نہیں، اوپر سے عوام کو بجلی کے بل یوں بھیج رہے ہیں جیسے ہر کسی نے گھر میں شوگر مل لگا لی ہے، زرداری کی نچڑی ہوئی عوام کو مزید نچوڑ رہے ہیں، اس کا ذمہ دار میں عمران خان کو ٹھہراؤں، یا گنجوں کو؟

    پہلے ہی ٹیکسوں تلے دبی ہوئی عوام پر مزید ٹیکس لگانے کے لئے گنجے نے ایک ہڈ حرام منشی پال رکھا ہے جو اس کا سمدھی بھی ہے، اس کی مدد سے ٹیکسوں پر ٹیکس لگائے جارہا ہے اور ملک میں پھرنے والے کھرب پتیوں سے ٹیکس وصولنے کا نام تک نہیں لے رہا۔

    اوپر سے پورا کا پورا ڈنگر خاندان ملک کے سینے پر چڑھا بیٹھا ہے، چار ہتھنیوں کے ہم وزن ایک اکیلی ہتھنی مریم نواز کو سو ارب کے فنڈ پر یوں بٹھا دیا جیسے اس کے جہیز کا فنڈ ہو، اپنے سمدھی کو وزیرخزانہ بنا دیا، اپنی پھوپھی کے نائی کے سالے کے بیٹے عابد بکری کو وزیر بجلی بنا دیا، شہباز نوٹنکی کے لونڈے کے حوالے پورا پنجاب کردیا، ان کا رشتے دار کوئی کتا بھی نکل آئے تو اسے بھی کسی عہدے پر بٹھا دیتے ہیں، پورے ملک میں ان کے رشتے داروں کی "کُتی سوئی" ہوئی ہے، جس شاخ پر دیکھو گنجوں کا کوئی نہ کوئی رشتہ دار اٹکا ہوا ہے۔

    پورے ملک کے کاروبار پر گنجوں اور ان کے رشتے داروں کا قبضہ ہے، شوگر ملز، پولٹری، ڈیری، پاور پلانٹ، کونسا کاروبار ہے جس میں یہ نہیں گھسے ہوئے؟ کیا کوئی مہذب قوم یہ برداشت کرسکتی ہے کہ اس کے حکمران ہر کاروبار میں گھس جائیں اور ملک کا بھٹہ بیٹھا جارہا ہے، جو پلانٹ جو پراجیکٹ یہ لگاتے ہیں، اس میں قوم کو کھربوں کا چونا لگادیتے ہیں، لیکن ان کے اپنے کاروبار دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی پر جارہے ہیں، جب سے یہ اقتدارمیں آئے ہیں، کیا ان کے کسی کاروبار میں گھاٹا ہوا ہے؟ اگر ہوا ہے تو بتائیں؟

    ملک میں تعلیم و صحت کی صورتِ حال دیکھ لیں، ہسپتال میں مشینری و آلات پورے نہیں، لوگ ہسپتال میں پہنچ کر بھی مر جاتے ہیں، جگہ جگہ عطائی ڈاکٹر و حکیم اپنی ریڑھیاں اور دوکانیں کھول کر بیٹھے ہیں، ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں، وہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں، میڈیکل سٹورز سے ملنے والی ادویات کا بھروسہ نہیں، اصلی ہیں یا جعلی کچھ پتا نہیں، ہر جگہ ملاوٹ زدہ اشیا کی فروخت، پورے لاہور کو کھوتے کھلا کھلا کر آدھی آبادی کو کھوتا ہی بنا دیا۔ کیا یہ سب کچھ روکنا حکومت کا کام نہیں؟

    کہنے کو اور بہت کچھ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس حکومت نے کون سا گل کھلا دیا ہے کہ ہم یوں اتنے اطمینان سے بیٹھ جائیں ، جب تک اس حکومت کی کارکردگی درست نہیں ہوجاتی، ہمارے کیسے کسی اور کو موردِ الزام ٹھہرا سکتے ہیں۔

    یہ گنجے جو تیسری بار اس ملک کے سینے پر چڑھے بیٹھے ہیں اورتجربے تجربے کی گردان کرکرکے گنجوں کے گلے سوکھ گئے، ہن کتھے وڑ گیا اوہ تجربہ؟ پہلی فرصت میں اس عوام کو گنجوں کی گردنوں پر ہاتھ ڈالنا چاہئے کہ اڑھائی سال میں تم نے اب تک کیا کیا ہے؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *