بارہ اکتوبر کے مقابلے میں گیارہ اکتوبر

وجاہت مسعود

wajahat masoodآج بارہ اکتوبر ہے، ہماری تاریخ کے سیاہ ترین دنوں میں سے ایک دن۔ آج سے سولہ برس قبل اسی دن آئین کو معطل کر کے قوم کو ایک مرتبہ پھر غیر منتخب، غیر نمائندہ اور غیر جواب دہ آمریت کی طویل اور مسلسل توہین میں دھکیل دیا گیا تھا۔ نو برس تک مسلط رہنے والی اس آمریت نے ہمارے قومی ادارے تباہ کر دیے۔ پارلیمنٹ کے دروازے پر تالے لگ گئے۔ سیاسی رہنماﺅں اور کارکنوں کو عقوبت خانوں میں ڈالا گیا۔ چودہ کروڑ عوام پر حکم چلانے کے لئے چیف ایگزیکٹو کے نام سے ایک ایسا عہدہ تخلیق کیا گیا جو جدید انسانی تاریخ میں کسی قوم کے حصے میں نہیں آیا۔ ملک کو کاروباری ادارہ سمجھنے والے نے جمہوریت کے نام پر ایک ایسا وزیر اعظم دریافت کیا جو چار برس تک حکومت کرنے کے بعد ملک سے ایسے غائب ہوا کہ کبھی پلٹ کر خبر نہیں لی۔ احتساب کے نام پر ایسے سیاست دان دریافت کئے گئے جو آمر کے لئے ہاتھ کی چھڑی اور جیب کی گھڑی کے طور پر کام کر سکیں۔ سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے دستور کا پارلیمانی تشخص تباہ کیا گیا۔ قابل فہم طور پر آمریت کو انتہا پسندی کے خطرے سے نمٹنے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی چنانچہ بیس برس پرانی پالیسی کو برقرار رکھا گیا ۔ خطر پسندی کا یہ کھیل نائن الیون پر منتج ہوا لیکن اس کے بعد بھی دوہرا ناٹک جاری رکھا گیا جس سے پاکستان کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ یہ نامبارک آمریت آخری دموں پر بھی اس قدر خوفناک تھی کہ ملک کی مقبول ترین سیاسی رہنما کا تاوان لے کر ٹلی۔ سوال یہ ہے کہ جب ریاست کی قوت عوام کے بالمقابل کھڑی ہو جائے تو قوم کے سامنے کیا راستہ باقی بچتا ہے۔ اتفاق سے بارہ اکتوبر کے ٹھیک سولہ برس بعد پاکستان کے رہنے والوں نے موقع ملنے پر درست جمہوری ردعمل پیش کیا ہے۔ بارہ اکتوبر کا ایک ہی جواب ہے،اور وہ ہے گیارہ اکتوبر۔ تو شب آفریدی ، چراغ آفریدم.... لاہور اور اوکاڑہ کے ضمنی انتخابات میں رائے دہندگان نے سیاسی عمل میں حصہ لے کر اپنی صوابدید کے مطابق فیصلہ کیا۔ حتمی فتح جمہوریت کے حصے میں آئی۔ ضمنی انتخاب کی گہما گہمی سے قطع نظر قومی اسمبلی کے دو اور ایک صوبائی حلقے میں نتائج نے عوام کے رجحانات کی ٹھیک ٹھیک عکاسی کی ہے۔ پاکستان کے عوام کا سیاسی شعور برحق لیکن کیا سیاسی جماعتوں کی صورت حال بھی ایسی ہی خوش آئند ہے۔ اس پر کسی قدر تفصیل سے نظر ڈالنے کی ضرورت ہے۔
تحریک انصاف کے دعوﺅں سے قطع نظر گزشتہ ایک برس میں عمران خان کی سیاست کو زک پہنچی ہے۔ پاکستان کے عوام میں ہیئت مقتدرہ کی چیرہ دستیوں کے خلاف مزاحمت کی روایت بہت مضبوط ہے۔ صحیح یا غلط ، تحریک انصاف کی سیاست پر ہیئت مقتدرہ کی حمایت کی چھاپ نمایاں ہے۔ عمران خان کی سیاست دو نکات کے گرد گھومتی ہے۔ موجودہ سیاسی قیادت کرپٹ ہے اور عمران خان کی ذات والا صفات میں مسیحائی کا جوہر موجود ہے۔ یہ قطعیت پسندی جمہوری مزاج کے منافی ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بھی اپنی سیاست ہیئت مقتدرہ کی چھتر چھایا ہی میں شروع کی تھی اور یحییٰ خانی ٹولے کے ساتھ ان کی راہ و رسم بھی کچھ ایسی خفیہ نہیں تھی لیکن انہوں نے اپنی سیاست کا تاثر پیوستہ مفادات کی مخالفت ہی پر استوار کیا۔ تحریک انصاف محض سیاسی قیادت کو لتاڑنے سے عوام دوست تشخص حاصل نہیں کر سکتی۔ دیکھئے نا ....مملکت خداداد میں مفادات اور مراعات کی صرف ایک ہی صورت یعنی منتخب رہنما ہونا ہی تو نہیں۔ ہیں اور بھی وجہیں وحشت کی.... کہ اچھا بھلا انسان ان داتا بن کر رہ جائے۔ مسلم لیگ نواز کی سیاست میں بہت سی خامیاں موجود ہیں لیکن یہ جماعت انتظامی طور پر مستعد اور معاشی طور پر فعال ہونے کی شہرت رکھتی ہے۔ پیپلز پارٹی نے پچھلے تیس برس میں ایسا تاثر پیدا کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ نواز کی معاشی امنگیں اور معاشرتی ترجیحات ایک دوسرے سے متصادم ہیں۔ پدر سری اخلاقیات، امتناعی سوچ اور تحکمانہ رویوں کی مدد سے جمہوری ثقافت مضبوط ہوتی ہے اور نہ پائیدار معاشی ترقی کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ یہ ایک المیہ ہے کہ چاروں صوبوں میں جڑیں رکھنے والی پیپلز پارٹی کا مستقبل قریب میں احیاءنظر نہیں آتا۔ موجودہ آبادی کی غالب اکثریت بھٹو صاحب کی شہادت کے بعد پیدا ہوئی تھی۔ بھٹو کے نام کی کشش پر پیپلز پارٹی قائم نہیں رکھی جا سکتی ۔ پیپلز پارٹی کا پرانا کاڈر 70 ءکی دہائی کے نیم اشتراکی آدرشوں کا اسیر ہے اور نئی قیادت نے سرد جنگ کے بعد نمودار ہونے والے معاشی حقائق کو عام فہم سیاسی نصب العین میں ڈھالنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔
اس تناظر میں دیکھا جائے تو ملک کی تینوں بڑی سیاسی قوتوں کو نئے سیاسی بیانیے کا چیلنج درپیش ہے۔ لاہور کے ضمنی انتخاب میں توقع سے کم ٹرن آﺅٹ نے تحریک انصاف کو نقصان پہنچایا ۔ اس میں غالباً ایک زاویہ یہ ہے کہ ہیئت مقتدرہ کے ساتھ تعلقات کے تاثر کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو تحریک انصاف اور مسلم لیگ کی سیاست میں کوئی فرق نہیں۔ پاکستان میں کئی عشروں سے رائے عامہ کے بارے میں قدامت پسندی کا مصنوعی تاثر پیدا کیا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بائیس برس کی اوسط عمر رکھنے والی قوم میں منافقت کا امکان تو موجود ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ نوجوان اپنی حقیقی امنگوں سے بے بہرہ ہوں۔ نوجوانوں کی دو ہی حقیقی امنگیں ہو سکتی ہیں، معاشی ترقی اور شخصی آزادی۔ یہ درست ہے کہ تحریک انصاف نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی توجہ حاصل کی ہے لیکن انہیں ایک تربیت یافتہ سیاسی قوت میں ڈھالنے کی بجائے نعروں کی مقبولیت پسند خوراک دی گئی ہے۔ حیران کن طور پہ تحریک انصاف کے حامی انتخابات میں کامیابی کے خواہاں ہیں لیکن جمہوری نظام یا اقدار کے بارے میں زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔ یہ ایک غیر حقیقی صورت حال ہے۔ تعلیم یافتہ شہری طبقہ سیاسی فیصلہ سازی میں شرکت کے حوالے سے احساس محرومی کا شکار ہے ۔ دوسری طرف روایتی ووٹ بینک دیہات کے غریب اور کم تعلیم یافتہ لوگوں پر مبنی ہے۔ چنانچہ ایک ایسے سیاسی بیانیے کی ضرورت ہے جو دیہی اور غریب طبقے کو شہری اور تعلیم یافتہ طبقے کی امنگوں سے ہم آہنگ کر سکے۔ اچھی سیاسی حکمت عملی تو یہی ہے کہ ان دو جزیروں کے درمیان پل باندھ کر حقیقی جمہوریت اور توانا معیشت کی بنیاد رکھی جائے۔ ہمارے ہاں طاقت کے موجودہ
توازن میں بہت سی اونچ نیچ ، امتیاز اور پیوستہ مفاد موجود ہے۔ پنجاب اور چھوٹے صوبوں میں اعتماد کا خسارہ دور کرنے کی ضرورت ہے۔ عورتوں کے خلاف امتیاز کے بارے میں حساس رویہ اختیار کیے بغیر معیشت اور معاشرت کے زاویے درست نہیں کیے جا سکتے۔ تعلیم میں سرمایہ کاری کیے بغیر ہموار معاشی ترقی ممکن نہیں۔ موجودہ نصاب تعلیم کارآمد افرادی قوت پیدا کرنے سے قاصر ہے۔ مذہبی اقلیتوں کو مساوی درجہ دیے بغیر احساس تحفظ نہیں دیا جا سکتا۔ خارجہ پالیسی میں چند بنیادی تبدیلیاں لائے بغیر سلامتی کے معاملات استوار نہیں ہو سکتے۔ہمارے لیے بنیادی چیلنج اپنی معیشت کا حجم بڑھانا ہے اور اس کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ سیاست میں بالائی سطح پر کچھ تحمل ضرور آیا ہے لیکن پولنگ اسٹیشنوں کے باہر دیوانوں کی طرح ایک دوسرے سے الجھتے کارکنوں کو دیکھ کر یہ تاثر نہیں ملتا کہ یہ تربیت یافتہ سیاسی کارکن ہیں۔ اگر عمران خان کے جلسوں میں کچھ بے ہنگم مناظر دیکھنے میں آئے تو ایاز صادق کے پہلو میں مونچھ آور چہروں کی موجودگی بھی زیادہ خوشگوار نہیں تھی۔ سبحان اللہ، گویا سینہ زوری میں وکیل، صحافی اور سیاسی کارکن.... ہم ہوئے ، تم ہوئے کہ میر ہوئے.... اہل صحافت کا ذکر آیا تو ایک شکوہ بھی بیان کرنا چاہیے۔ پرویز رشید وفاقی وزیر اطلاعات ہیں لیکن ان کا بنیادی تشخص ایک سیاسی کارکن اور جمہوری رہنما کا ہے۔ اس ملک میں بہت سے لوگ ہماری سیاسی ثقافت میں بہتری کے اشاروں کو رضا ربانی ، پرویز رشید، حامد خان اور میاں افتخار حسین جیسے مہذب سیاسی رہنماﺅں سے منسوب کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا ضروری ہے کہ حالیہ ضمنی انتخابات کے دوران پرویز رشید صاحب کے چند بیانات ان کی عمومی تحمل مزاجی سے لگا نہیں کھاتے تھے۔ ہمارے قد آور سیاسی رہنماﺅں کو سمجھنا چاہیے کہ ناتواں جمہوریت کے خیر خواہوں کو شرمسار کرنے سے چند در چند قباحتیں پیدا ہوتی ہیں۔ ملک کے عوام بارہ اکتوبر کا جواب گیارہ اکتوبر سے دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو ان کے رہنماﺅں کو بھی آمریت کے زیر سایہ پروان چڑھنے والی قطعیت، الزام تراشی اور دشنام طرازی کی بجائے اختلاف رائے ، رواداری اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

بارہ اکتوبر کے مقابلے میں گیارہ اکتوبر” پر ایک تبصرہ

  • اکتوبر 13, 2015 at 2:32 PM
    Permalink

    پنجاب سے شکائت کی روائت کہیں یا بڑے صوبے کے حقوق غصب کرنے کا بہانا

    اس ملک میں کونسا پنجابی وزیر اعظم 5 سال پورے کر کے گیا ہے. پنجاب نے ہمیشہ صرف پاکستانیوں کو ووٹ ڈالا ہے. کبھی سندھی لیڈر بھٹو کو اور کبھی کشمیری لیڈر نواز شریف کو. کیا یہ سندہِ, بلوچستان, اور کے پی کے میں ممکن ہے؟ 20 سال مہاجر ڈکٹیٹر کھا گئے اور 20 سال پٹھان ڈکٹیٹر

    پھر بھی یہ موقہ پرست کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے. آپ جیسے لکھاری ہی اس ملک میں فساد کی جڑ ہیں!

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *