بڑھک لگانامنع ہے!

Yasir Pirzadaبطور قوم ہمارا حافظہ کسی نا خلف قسم کے محبوب کی طرح کمزور ہے ،ہمیں صرف وہ باتیں یاد رہتی ہیں جو ہمارے دل کے قریب ہوں یا جو ہم بار بار سننا چاہیں ،بھلے ان کا حقائق سے دور تک کا بھی تعلق نہ ہو۔ایسی ہی ایک بات آج کل دہشت گردوں سے مذاکرات کے بارے میں کہی جا رہی ہے۔فرمانا دہشت گردوں کے ’’وکلاء‘‘ کا یہ ہے کہ پہلے دن سے مذاکرات کو سازش کے ذریعے ناکام بنایا جا رہا ہے ،اپنے اس بیانئے کی حمایت میں وہ نیک محمد سے ہونے والے معاہدے کی مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ایک دن پہلے اس مرد مومن سے معاہدہ کیا جاتا ہے اور اگلے روز اسے امریکہ ڈرون حملے میں مار دیتا ہے ۔ذرا دیکھئے حقائق کیا ہیں : 1۔ اپریل 2004میں شکئی،جنوبی وزیرستان کے مقام پر پاک فوج اور شدت پسندوں کے لیڈر نیک محمد کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا ،اس معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے پانچ مطلوب جنگجوئوں نے خود کو فوج کے حوالے کیا ،یہ تقریب 24اپریل کو شکئی کے ایک مدرسے میں ہوئی جہاں نیک محمد بھی موجود تھا ،اس موقع پر فریقین نے ایک دوسرے کے بارے میں خیر سگالی کے کلمات کہے، ماضی کی غلطیوں پر افسوس کا اظہار کیا اور محبت کے درجنوں ڈونگڑے برسائے گئے۔اس معاہدے کی بنیادی شق یہ تھی کہ شدت پسند پاکستان میں کسی قسم کی مسلح کارروائی نہیں کریں گے اور علاقے میں رہنے والے غیر ملکی جنگجوئوں کی رجسٹریشن کروائیں گے اور انہیں پاکستانی قانون کا پابند بنائیں گے ،جواباً شدت پسندوں کو عام معافی دی جائے گی ۔2۔پانچ مئی 2004ء کو محسود اور وزیر قبائل کے علماء کے ایک وفد نے غیر ملکی شدت پسندوں سے ملاقات کی اور انہیں اس بات پر آمادہ کرنے کی کوشش کی کہ وہ مقامی انتظامیہ کے ساتھ خود کو رجسٹر کروائیں تاکہ شکئی معاہدے کی پاسداری کی جا سکے۔ یہ ملاقات اس وقت ہوئی جب رجسٹریشن کروانے میں دو دن باقی رہ گئے تھے ،اس کے بعد ان غیر ملکی جنگجوئوں کو فوجی آپریشن کا سامنا کر نا تھا۔3۔سات مئی 2004ء تک کوئی غیر ملکی جنگجو رجسٹریشن کروانے نہ آیا۔معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پاک فوج نے علاقے کے عمائدین اور نیک محمد (جسے عام معافی مل چکی تھی )سے دوبارہ ملاقات کی ،نیک محمدنے بتایا کہ وہ غیر ملکی جنگجوئوں سے مذاکرات کر رہا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ رجسٹریشن کی تاریخ میں توسیع کی جائے ۔دوسری جانب فوج کا کہنا تھا کہ ڈیڈ لائن گذرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اگلے دن ہی فوجی آپریشن شروع کر دیا جائے گا۔4۔آٹھ مئی 2004ء کو حکومت نے غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کی تاریخ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی تاہم اس رعایت کے باوجود علاقے میں رہنے والے عرب، افغان اور وسطی ایشائی جنگجوئوں نے معاہدہ شکئی کی پاسداری کرتے ہوئے کسی بھی قسم کی معلومات یا اپنی تصاویر انتظامیہ کو فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں کی۔ جنوبی وزیرستان کے چیف ایڈمنسٹریٹر نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ ڈیڈ لائن میں توسیع اس لئے کی گئی ہے تاکہ قبائلی علما ء غیر ملکیوں کو رجسٹریشن کے لئے قائل کر سکیں جس کے نتیجے میں انہیں عام معافی کی سہولت مل سکے۔
5۔بارہ مئی2004ء کو اچانک خبر آئی کہ غیر ملکی جنگجوئوں نے رجسٹریشن کروانے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ تاہم قبائلی عمائدین نے کہا کہ ازبک جنگجو طاہر یلدش جیسے اہم لیڈرا ن خود کو رجسٹر نہیں کروائیں گے ۔دیگر غیرملکیوں کے لئے ضروری ہوگا کہ رجسٹریشن کرواتے ہوئے اپنا اصل نام، ملک کا نام، تاریخ پیدائش اور پاکستان میں آمد کا وقت بتائیں ،اور ساتھ ہی اپنے ضمانت کنندہ کا نام بتائیں جو قبائل کا بزرگ ہو۔ایک قبائلی بزرگ زیادہ سے زیادہ دس جنگجوئوں کی ضمانت دے سکتا تھاتاہم اس وقت تک کسی جنگجو نے خود کو رجسٹر نہیں کروایا۔6۔چودہ مئی 2004ء کو قبائلی عمائدین کاایک اور جرگہ منعقد ہوا جس میں غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کے معاملے پر غور کیا گیا،ادھر نیک محمد نے اعلان کیا کہ رجسٹر کروانے کے بعد بھی کسی صورت میں وہ غیر ملکی جنگجوئوں کی کارروائیوں کے لئے ذمہ دار نہیں ہوں گے ۔صورتحال نازک ہو گئی۔7۔سولہ مئی 2004ء کو احمد وزیر قبیلے نے 4000 افراد پر مشتمل ایک لشکر تشکیل دیا جس نے جنوبی وزیرستان میں غیر ملکی جنگجوئوں سے لڑائی کرنی تھی جو رجسٹریشن کے لئے آمادہ نہیں۔اس جرگے میں نیک محمد نے شرکت نہیں کی جس سے ظاہر ہو گیا کہ اب اس معاملے کا پر امن حل ممکن نہیں رہا۔جرگے میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ غیر ملکیوں کو پنا ہ دینے والوں کا گھر مسمار کر دیا جائے گااور انہیں دس لاکھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔
8۔اٹھارہ مئی 2004ء کو نیک محمد نے پاک فوج کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا۔جب اس کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے کہا کہ گو معاہدہ شکئی میں غیر ملکیوں کی رجسٹریشن کی کوئی شق نہیں تھی تاہم اس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ’’مہاجرین‘‘ کو رجسٹریشن کروانے پر آمادہ کرے گا۔’’وہ لوگ رجسٹریشن کروانے پر راضی تھے مگر یہ عمل مقامی قبائلی عمائدین کے گھر پر ہونا تھا،بعد میںحکومت نے اچانک یہ شرط رکھ دی کہ رجسٹریشن سرکاری دفتر میں ہوگی جس سے میرے اور مہاجرین کے دلوں میں شکوک پیدا ہو گئے …۔‘‘یہ کہنا تھا نیک محمد کا۔اسی دوران 1200افراد پر مشتمل لشکر نے جرگے کے فیصلے کی روشنی میں اعظم وارسک میں جنگجوئوں کی گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کردیا،اس لشکر کے بارے میں نیک محمد کا کہنا تھا کہ اگر وہ میرے راستے میں آئے تو دفاع کی خاطر مجبوراً ان سے لڑنا پڑے گا۔ 9۔اٹھائیس مئی 2004ء۔فاٹا کے سکیورٹی چیف نے اعلان کیا کہ غیر ملکیوں کے رجسٹریشن نہ کروانے کی وجہ سے معاہدہ شکئی اب ختم ہو چکا۔انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے کی شق نمبر تین غیر ملکیوں کے پاکستان میں باعزت طریقے سے رہنے سے متعلق تھی جس کا تعین گورنر کی تین دسمبر کی وانا میں ہونے والی تقریر کی روشنی میں کیا جانا تھا اور نیک محمد اس سے پوری طرح آگاہ تھا۔10۔آٹھ جون 2004ء کو مقامی انتظامیہ نے یار گل خیل قبیلے سے مطالبہ کیا کہ نیک محمد اور چار دیگر شدت پسندوں کو چوبیس گھنٹوں میں ان کے حوالے کر دیا جائے ۔11۔نو جون 2004ء کو فوجی آپریشن کے نتیجے میں بیس غیر ملکی جنگجو مارے گئے ۔اس مہم میں پاک فوج کے جوان بھی شہید ہوئے جس کی ذمہ داری نیک محمد نے ایک اخباری نمائندے سے سیٹلائٹ فون پر گفتگو کرتے ہوئے قبول کی۔’’میرے علاوہ بھلا فوج پر کون حملہ کر سکتا ہے !‘‘ فرمانا تھا نیک محمد صاحب کا۔
اگلے چند روز تک فوجی آپریشن جاری رہا اور بالآخر سترہ جون 2004ء کو نیک محمد بھی مارا گیا ،جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ڈرون حملہ تھا۔یہ ہے ان واقعات کا مختصر ترین خلاصہ جو اپریل سے جون 2004ء تک پیش آئے اور جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک د ن پہلے نیک محمد سے معاہدہ ہوتا ہے او ر اگلے دن اسے ڈرون حملے میں مار دیا جاتا ہے اور یوں اس نیک محمد کو ہیرو بنا کر پیش کیا جاتا ہے جس نے فوج کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا۔
حقائق بعض اوقات نہایت تلخ ہوتے ہیں اسی لئے ان کا سامنا کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔’’پاکستان میں خود کش حملے ڈرون حملوں کے بعد شروع ہوئے ،پاکستان میں ڈرون حملوں اور 9/11سے پہلے کوئی دہشت گردی نہیں تھی ،دس سال سے فاٹا میں آپریشن ہو رہا ہے مگر ہم دہشت گردی ختم نہ کرسکے ،فوجی آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں… ‘‘ چند ایسے مضحکہ خیز بیانات ہیں جنہیں سن کر عوام کا خون تو جوش مارتا ہے مگر حقائق سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔المیہ یہ ہے کہ ہمارے لیڈران عوام کا موڈ دیکھ کر فیصلے کرتے ہیں اور عوام ایسی ہے جسے مولا جٹ پسند ہے،یہی وجہ ہے کہ لیڈران بڑھکیں زیادہ لگاتے ہیں اور کام کم کرتے ہیں۔ آخر عوام کو بڑھکیں ہی تو پسند ہیں!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *