اسرائیل: مذہب کے نام پر سیاہ کو سفید کیا جا رہا ہے!

asad muftiہالینڈ کے ایک ہفت روزہ نے اسرائیلی وزارت صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ ایک سال کے دوران اسرائیل میں اقدام خودکشی کے آٹھ ہزار واقعات رجسٹرڈ کئے گئے ہیں جو ایک خطرناک رجحان کا نیا ریکارڈ ہے۔
میرے حساب سے ان دنوں اسرائیل کو اندرونی دھماکہ خیز مسائل کا سامنا ہے جس میں سماجی طور پر خودکشی کا رجحان ایک اہم مسئلہ ہے۔ اسرائیل میں اقدام خودکشی کرنے والوں میں تمام طبقات کے لوگ شامل ہیں تاہم سب سے زیادہ اقدام خودکشی کے واقعات میں ایتھوپیا اور سابق سوویت یونین کے ممالک سے لائے گئے یہودی شامل ہیں جو اپنے ملک، معاشرے اور جڑوں سے کٹے ہوئے ہیں۔ ایک سال میں آٹھ ہزار سے زائد خودکشی کے واقعات یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ اسرائیل میں خودکشی کی کوششیں اسی رفتار سے بڑھتی رہیں تو یہ خطرناک حدود سے تجاوز کر سکتی ہیں۔ ادھر اسرائیلی پارلیمینٹ (کیبنٹ) میں کہا گیا ہے کہ ایتھوپیا سے لائے گئے یہودی آبادکاروں میں خودکشی کا رجحان دس فیصد بڑھ گیا ہے۔ گزشتہ سال کے دوران صرف ایتھوپیا سے لائے گئے چھیاسٹھ یہودیوں نے خودکشی کی ہے، ان میں سے بیشتر کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان ہیں۔ دوسرے ممالک سے لائے گئے یہودیوں میں خودکشی کے اضافے کی کئی وجوہ ہیں۔ ان میں ایک بڑی وجہ یہودیوں کو جس طرح کے سنہری خواب دکھا کر لایا جاتا ہے اور اسرائیل میں لائے جانے کے بعد انہیں سفید فام یہودیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے اس پالیسی نے نئے اور کالے یہودیوں (ایتھوپیا وغیرہ) میں سخت مایوسی پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے یہ امتیازی سلوک اور رویّے کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس پر اسرائیل کا مخدوش مستقبل دیکھ کر یہ لوگ خودکشی پر اتر آئے ہیں۔
ان مسائل کے علاوہ بھی اسرائیل کو دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ کچھ عرصہ قبل پورے اسرائیل میں عوامی احتجاج کی لہر دوڑ گئی تھی۔ زبردست مظاہرے ہوئے تھے اور سرکاری محکموں و کھلی عمارات کے لانوں میں خیمہ زن ہو کر عوام دھرنا دے رہے تھے اور حکومت سے مطالبہ کر رہے تھے کہ وہ عوام کی غربت میں اضافہ کرنے والی پالیسی بند کرے۔ ان میں اسرائیل کے بااثر طبقات بھی شامل تھے جن کا کہنا تھا کہ اسرائیلی باشندوں کی اکثریت مفلس اور غریب ہے، اس کے مقابلے میں تھوڑی تعداد میں مالدار اور دولت مند ہے اور ان دونوں طبقات میں زبردست فرق ہے۔ مالدار اور امیر لوگ غریبوں کا خون پی کر اپنی دولت میں اضافہ کر رہے ہیں ادھر غالب اکثریت کے حامل غریب طبقات میں فقر و افلاس میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے، اس سے مفلس و نادار لوگوں میں خودکشی کا رجحان پیدا ہو رہا ہے۔
اس بات کی نشاندہی بین الاقوامی اقتصادی تنظیم نے بھی اپنے ایک حالیہ مضمون میں کیا ہے اور یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل تیزی سے تنہائی کا شکار ہو رہا ہے۔ اسرائیل میں حقوق انسانی سے تعلق رکھنے والے شہریوں کی یونین نے سال رواں کی اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ نے اسرائیل کا پول کھول کر رکھ دیا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا میں اس رپورٹ کی گونج سنائی دے رہی ہے جسے ’’چہار دانگ عالم‘‘ بھی کہتے ہیں۔ یہ اسرائیل کے ارباب اختیار، فیصلہ سازوں اور ذمہ داروں کے لئے گویا ایک وارننگ ہے۔ وہ آزادی جس کا راگ اسرائیل الاپتا رہتا ہے اس کا دائرہ حد درجہ محدود اور تنگ ہو چکا ہے اور اسرائیل کی سرکاری پالیسیوں کی مخالفت کرنے والے مظاہرین پر مظالم و تشدد میں بے حد اضافہ ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی حکومت، ایجنسیاں، پولیس اور ارباب اختیار مختلف غیر قانونی حربوں اور وسائل کے ذریعے مظاہرین کو تنگ کر رہے ہیں، بازپرس کر رہے ہیں، پکڑ دھکڑ کر رہے ہیں، سزائیں دے رہے ہیں اور آزادی سلب کرنے کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور اسرائیل کو مزید جہنم میں دھکیل رہے ہیں۔ میں یہاں فلسطینیوں کی بات نہیں کر رہا کہ فلسطینیوں کو چھوٹی جیلوں اور مغربی کنارہ جیسی بڑی جیلوں میں جس طرز عمل کا سامنا ہے وہ جمہوریت اور انسانی حقوق کے جذبوں کا تو کیا الفاظ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وہ انسانی حقوق اور جمہوریت کے تقاضوں سے کوسوں دور ہے۔
آزاد خیال اسرائیلیوں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں نسلی امتیاز بہت واضح طور پر نظر نہیں آتا لیکن یہ پھر بھی معاشرے میں موجود ہے۔ ان مسائل کے علاوہ بھی اسرائیل کو دیگر مسائل کا سامنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی ہٹ دھرمی اور بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے اقوام عالم کی سطح پر الگ تھلگ اور تنہا ہوتا جا رہا ہے۔ اسرائیل اس لئے بھی فکرمند ہے کہ عرب دنیا میں اٹھنے والی تحاریک جو آمر حکمرانوں کے خلاف اٹھ رہی ہیں اب کہیں یہودی ریاست پر حملہ میں تبدیل نہ ہو جائیں اور میرے حساب سے اسرائیل کی یہ پریشانی بے جا بھی نہیں ہے۔ ترکی اور مصر کے ساتھ اس کے تعلقات بے حد کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے پر حملہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے۔ اس سے پہلے ترکی نے اسرائیلی سفارت کار کو اپنے ملک سے نکال دیا تھا۔ حالیہ دنوں بین الاقوامی برادری کے انتباہ کے بعد توقع کی جاتی ہے کہ اس کی تنہائی اور ساتھیوں کے ساتھ تعلقات کی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا اور اس کے بعد دیکھنے والی آنکھیں تو مشرق وسطیٰ بالخصوص اسرائیل کا پورا منظرنامہ ہی بدلتا ہوا دیکھ رہی ہیں۔ کہنے والے (یہ کہنے والا میں بھی ہو سکتا ہوں) تو یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عرب دنیا میں برپا ہونے والی تحاریک کے بعد اسرائیل مشرق وسطیٰ میں تیزی سے الگ تھلگ ہوتا جا رہا ہے اور کمزور سفارتی پوزیشن میں اس کی فوجی طاقت بھی کسی کام نہیں آ سکے گی۔ کالونیوں کی تعمیر، منظم دہشت گردی کو ہوا دینا، مظاہرین پر گولیاں برسانا، امتیازی سلوک روا رکھنا، مقدّس مقامات کی بے حرمتی کرنا، غزہ کی پٹّی کی ناکہ بندی جاری رکھنا، ناجائز تجاوزات کی تعمیر و توسیع کرنا، مغربی کنارے کو الگ تھلگ کرنا، فلسطینی ریاست کے قیام کو مسترد کرنا اور فلسطینی سرزمین کو جنوبی افریقہ کی نسل پرستانہ تنہائی و جدائی کی طرح الگ تھلگ علاقہ بنا دینا، یہ سب کچھ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔
اسرائیل پر مسائل کا پہاڑ دھرا ہوا ہے، اس پر بھی اس نے پارلیمینٹ (کیبنٹ) میں اذان پر پابندی کا بل پیش کر کے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف طبل جنگ بجا دیا ہے۔ یہ ایک ایسا جرم اس نے اپنے نام لکھوا لیا ہے جس کا صاف مطلب ہے ’’آ بیل مجھے مار‘‘ کیونکہ اذان پر پابندی کا بل جمع کرانا دراصل دینی کاموں میں مداخلت، سماجی کاموں میں رخنہ، اخلاق باختہ حرکات اور ثقافتی دہشت گردی کے مترادف ہے۔ صہیونی سوچ کے حامل اسرائیلی بتدریج مقبوضہ فلسطین کی دینی اور ثقافتی شناخت ختم کرنے کے درپے ہیں۔ اسرائیلی متعصبانہ رویّہ، امتیازی سلوک اور غیر انسانی اقدامات ملکی قوانین اور جنیوا کنونشن کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ ایسے اقدامات کو فلسطینی اسلام میں مداخلت اور دعوت جنگ کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بنیادی دینی احکام اور مذہبی اساس پر حملہ کر کے انتہاپسند اور متشدد اسرائیل نے عالم اسلام کے خلاف مذہبی لڑائی کا ڈول ڈال دیا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اسرائیلی ارباب اختیار نے مسلمان اور عیسائی دانشوروں جن کی تعداد 319 بتائی جاتی ہے کو شہر بدر کرنے کا منصوبہ بھی تیار کر لیا ہے۔ شاید اسے ہی جلتی پر تیل کہا جاتا ہے۔ میں بھی سوچتا ہوں، آپ بھی سوچئے:
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہ گئی
نادان کو الٹا بھی تو نادان ہی رہا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *