محترم ارشاد احمد عارف کا موقف ....

irshad ahmed arifگزشتہ روز ’دنیا پاکستان‘ میں ایک کرم فرما شکیل چودھری صاحب کا میرے نام خط پڑھنے کا موقع ملا۔ شکیل چودھری صاحب نے فیس بک پر میرے نام پر کمنٹس دیئے تھے جن کا جواب میں نے فیس بک پر دیا۔ بعدازاں ان کا یہ ای میل ملا جس پر جواب دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ یہی ای میل انہوں نے آپ کو بھیجی مگر آپ نے مقبول تحاریر میں اسے شامل کرتے ہوئے میری مختصر معروضات کو اس طرح نمایاں نہیں کیا جس کا .... شکیل چودھری صاحب قرار پائے۔ شاید یہ آپ کی ادارتی پالیسی کا حصہ ہے۔ ویسے بھی یہ شکیل چوہدری صاحب کی اس تحریر کا جواب نہیں جو ’دنیا پاکستان‘ کے پیج پر موجود ہے۔
شکیل چوہدری صاحب نے علامہ اقبالؒ کے جس مصرعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ہندوستان سارے جہاں سے اچھا ملک ہے اور ساری برائیاں.... ، انتہاپسندی، جنونیت اور پسماندگی صرف پاکستان میں ہے۔ اس پر میں کیا عرض کرسکتا ہوں؟ یہی ہمارے صاحب کا اچھا ہندوستان تھا جہاں مسلمانوں کو ہندو اکثریت پر غیر ذہنیت اور سیکولرازم کی علمبردار کانگریسی قیادت نے اس قدر ظلم، بربریت، قتل و غارت اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا کہ اقبالؒ نے 1930ءمیں مسلمانوں کو ایک وطن کا تصور پیش کیا جہاں وہ اپنی جان و مال، عزت و آبرو، کا .... اور تہذیب و ثقافت کا تحفظ کرسکیں جہاں انہیں کوئی تنگ نظر، انتہاپسند اکثریت، غیرملکی .... کے ساتھ مل کر جبر و استحصال اور امتیازی سلوک کا نشانہ نہ بنا سکے۔ سیکولرزم کی علمبردار کانگریس کی ہٹ دھرمی‘ مسلمانوں کی حق تلفی اور عدم رواداری سے تنگ آ کر ہندو مسلم اتحاد کے سفیر قائد اعظم بالآخر اس نتیجے پر پہنچے کہ مسلمانوں کی الگ ریاست کا قیام از بس ضروری ہے ورنہ ہندو اکثریت دیگر اقوام‘ مذاہب اور ثقافتی شناختوں کی طرح مسلمانوں کو بھی ہندوستان میں ملیا میٹ کرنے کی کوششیں جاری رکھے گی اور ہندو مسلم فسادات کا سلسلہ رک نہیں پائے گا۔
بھارت نے کبھی بھی یہ تسلیم نہیں کیا کہ وہ سیکولرزم کے پردے میں دراصل ہندو مت نہ ہندو تہذیب و ثقافت اور ہندو بالادستی کا خواہاں ہے۔ عملاً اُس نے یہی کیا ہے اور آج بھی بھارتی جنتا پارٹی علانیہ اور کانگریس غیر علانیہ طور پر اس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ اس ضمن میں بھارتی حکومت کے قائم کردہ کئی کمشن اپنی رپورٹوں میں اعتراف کر چکے ہیں۔ عمران خان نے جب بھارتی اداکاروں کو شوکت خانم ہسپتال کی فنڈ ریزنگ مہم میں حصہ لینے کے لیے پاکستان بلایا تو اعتراض یہ تھا کہ ایک خیراتی ہسپتال کے لیے ثقافتی شو منعقد کرنے اور سونیا گاندھی کے بقول ”پاکستان پر ثقافتی یلغار“ کا حصہ بننے کے بجائے آپ اہل ثروت اور اہل خیر سے تعاون طلب کریں چنانچہ جب سے عمران خان نے یہ سلسلہ ترک کیا ہے شوکت خانم ہسپتال بخیرو خوبی چل رہا ہے آمدنی میں کمی ہوئی نہ ہسپتال کی کارگزاری متاثر۔ پاکستان میں بھارتی فنکاروں کی آمدو رفت کا سلسلہ جاری ہے ہمارے ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر وہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہیں اور بعض فنکار‘ سابقہ سفارت کار‘ ریٹائرڈ فوجی جرنیل اور دیگر یہاں آ کر واہگہ کی لکیر مٹانے کی باتیں بھی کر گزرتے ہیں آج تک کسی نے ان کا مُنہ کالا کیا نہ ان کے میزبانوں کا ‘ نہ کوئی حکومت کبھی جماعت الدعوة‘ جماعت اسلامی اور دیگر تنظیموں کے دباﺅ میں آ کر اپنے وعدوں سے منحرف ہوئی۔
ہمارے ہاں ہندوستان سے نفرت کو مذہب کا درجہ ہرگز حاصل نہیں ہر سال ہزاروں راسخ العقیدہ ‘ مذہبی رجحانات کے حامل مسلمان زیارات کے لیے ہندوستان جاتے ہیں البتہ ہندوستان کی مسلم و پاکستان دشمن‘ بالا دستی کے عزائم اور پاکستان کو مٹانے یا زیرنگین لانے کی خواہشات کو ناپسند کیا جاتا ہے اور اسی بنا پر بھارت کو ازلی دشمن سمجھا جاتا ہے جو لوگ کل تک یہ نہیں سمجھتے تھے آج وہ بھی سمجھنے لگے ہیں کیونکہ نریندر مودی نے بھارت کی اصل ذہنیت اور عزائم کو آشکار کیا ہے۔ بھارت کے جنگی جنون‘ جارحانہ عزائم اور بالادستی کے دعوﺅں کی بنا پر ہمارے دانشور اور سائنس دان مسلسل یہ باور کراتے ہیں کہ دو نیو کلیر پاور کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ 1971ءکی طرح پاکستان بھارت کے لیے ترنوالہ نہیں وہ ایٹمی قوت کے طور پر بھارت کو مٹانے کی صلاحیت رکھتا ہے یہ غیر ذمہ داری نہیں بلکہ بھارت کے جنون کو لگام ڈالنے اور اسے ہوش کے ناخن لینے کی ترغیب دینے کے مترادف ہے۔
شکیل چودھری صاحب! اگر حالیہ دنوں کے واقعات بھی آپ کو یہ باور کرانے کے لیے کافی نہیں کہ بھارت اصل میں .... تو میں آپ کو توازن برقرار رکھنے کی یقین دہانی کیسے کرا سکتا ہوں۔ ویسے ظالم مظلوم‘ جارح اور جارحیت کے ہدف اور قاتل و مقتول کے حوالے رائے دیتے ہوئے انسان کو غیر جانبدار نہیں، انصاف پسند ہونا چاہیے۔ توازن اسی کا نام ہے۔ جس ملک میں مہاتما گاندھی کے قاتلوں کو ہیرو کا درجہ حاصل ہو‘ گاندھی کے یوم پیدائش پر تعطیل کی مخالفت اور نتھو رام گاڈ سے کی یاد میں یوم عزم منانے‘ دیش بھگت قرار دینے اور مسلمانوں کو ایک بار پھر ہندو بنانے والوں کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہو اُسے کوئی پاکستان پر فوقیت دیتا ہے تو اس کی مرضی مگر یہ خود مذمتی کا رویہ ہے اور شائننگ انڈیا‘ ڈیجیٹل انڈیا کے پروپیگنڈے سے مرعوبیت کے مترادف جس سے اللہ تعالیٰ مجھے محفوظ رکھے۔ تنگ نظری تعصب اور کسی سے نفرت سے بھی میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں۔ اُمید ہے میری ان معروضات کو شکیل چودھری صاحب کی مقبول تحریر کے ساتھ نمایاں کر کے شکریہ کا موقع دیں گے۔

نوٹ : برادرم ارشاد احمد عارف، آ پ کے ارشادات من و عن شائع کر دیے گئے ہیں تا کہ پڑھنے والوں تک آپ کا موقف پہنچ سکے۔ اظہار کی یہی آزادی ’دنیا پاکستان‘ کی ادارتی پالیسی ہے ۔ آپ کے ارشادات کے بارے میں صرف یہ وضاحت ضروری ہے کہ ’مقبول تحاریر ‘ میں کسی تحریر کا شامل ہونا ادارتی عملے کی صوابدید پر منحصر نہیں ہے بلکہ ویب سائٹ پر کسی تحریر کے پڑھنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ فہرست کمپیوٹر کی مدد سے خود بخود مرتب ہوتی ہے اورگزشتہ 72 گھنٹے کی صورت حال بیان کرتی ہے۔ از رہ کرم کسی تحریر کا اس فہرست میں شامل ہونا ادارتی عملے کے مفروضہ تعصب پر محمول نہیں فرمائیے۔ ہم نے جہاں شکیل چودھری صاحب کا موقف شائع کیا تھا ، آپ کے قابل احترام خیالات بھی ویب سائٹ کے اسی حصے میں شائع کئے گئے تھے۔ ہمارے لئے ہر لکھنے والا یکساں احترام اور مرتبے کا حامل ہے.... مدیر

محترم ارشاد احمد عارف کا موقف ....” پر بصرے

  • اکتوبر 22, 2015 at 9:12 PM
    Permalink

    بہت عمدہ. شکیل چودھری صاحب کا نقطہ نظر میں نے پڑھا تو اس پر کمنٹ بھی کیا تھا، میں انہں نہیں جانتا، ان کی تحریر ہی سے شناسائی ہوئی، ان کا موقف کمزور محسوس ہوا،مگر ظاہر ہے یہ ان کا نقطہ نظر ہے، جس کا ہم بھی احترام کرتے ہیں. میری ذاتی رائے میں کسی اخبار میں چھپے کالم نگار کے کسی موقف کے رد میں کوئی آپ کو لکھ کر بھیجے تو اس تحریر کو صرف اسی صورت میں شائع ہونا چاہیے، جب مدیر اس استدلال کو وزنی اور غیرمعمولی تصور کرے، ورنہ وہ تحریر چھاپی تو جائے مگر کالم نگار کے نام کا ذکر کئے بغیر، تاکہ اسے کسی کمزور تحریر کے جواب دینے کے لئے اپنی انرجی نہ ضائع کرنی پڑے اور جن لوگوں کی اس بحث میں دلچسپی ہو، صرف وہی اس میں شامل ہوں. اس ویب سائیٹ کے شروع کے دنوں میں اوریا مقبول جان صاحب کے خلاف یکے بعد دیگرے کئی تحریریں شائع ہوئیں، ان کا نام لے لے کر تنقید کی گئی. میرے خیال میں یہ مناسب نہیں . اوریا صاحب کی فکرکے کئی اجزا سے ہمیں بھی اختلاف ہے، گاہے شدید اختلاف بھی، مگر بہرحال ان کا ایک خاص فکری سٹرکچر ہے، اس فکری سٹرکچر پر حملہ یا تنقید تو درست ہو سکتی ہے، مگر کسی کالم نگار کا نام لے کر اس پر حملہ آور ہوجانا مناسب نہیں. کالم نگار کے پاس اور کوئی آپشن بچتی نہیں،یا تو اسے سب چھوڑ چھاڑ کر جواب دینا پڑے گا یا اگر وہ نظرانداز کرے تو یہ تاثر پیدا ہو جائے گہ ناقدین کے اعتراضات کا اس کے پاس جواب نہیں. اس لئے اگر نام لئے بغیر اشارتآ ، بات کی جائے تو پڑھنے والے اندازہ لگا ہی لیتے ہیں کہ کس کی بات ہو رہی ہے، لیکن اس طرح کسی حد تک معاملات حدود وقیود میں رہتے ہیں. یہ میری رائے ہے. یاد رہے کہ میں دنیا پاکستان میں چھپنے والی کسی تحریر یا کمنٹ کے حوالے سے بات نہیں کر رہا. یہاں چھپنے والی کسی بھی تحریرکا جواب علمی شائستگی برقرار رکھتے ہوئے دیا جا سکتا ہے اور اسے شائع ہونا چاہیے.
    بہرحال مجھے خوشی ہے کہ ارشاد عارف صاحب نے اپنے نقطہ نظر کو واضح کر کے پیش کیا. شاہ صاحب سے اس ناچیز کا پرانا تعلق ہے، وہ ہمارے فورم سی این اے کے روح رواں ہیں، پچھلے بارہ تیرہ برسوں سے میں جس کا ممبر ہوں، اجمل شاہ دین بھی ہمارے ممبر ہی ہیں. آج کل تو خیر شاہ صاحب دنیا اخبار کے سینئر ایڈیٹر ہیں، مگر ان کے ساتھ ہمارا احترام کا رشتہ پہلے سے موجود ہے، سی این اے سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، شاہ صاھب جیسے بزرگوں سے ہی اختلاف کے باوجود دوسرے کا احترام کرنا سیکھا. ان کا یہ جواب بھی اسی علمی شائستگی کا غماز ہے، نوجوانوں کے لئے جس میں سیکھنے کی چیزیں ہیں. آپ لوگوں نے اسے الگ پوسٹ بنا کر بھی اچھا کیا ہے. دنیا پاکستان رواداری، برداشت اور علمی مکالمے کو آگے بڑھانے کے حوالے سے قابل رشک مثالیں قائم کر رہا ہے. یہ سلسلہ اسی طرح چلنا چاہیے.

    Reply
  • اکتوبر 23, 2015 at 1:13 AM
    Permalink

    جناب ارشاد احمد عارف صاحب نے شکیل چودھری صاحب کی رائے کو یکسر رد کر دینے کے انداز میں گفتگو فرمائی ہے جو کسی مہذب لکھنے والے کو زیب نہیں دیتا لیکن عین ممکن ہے میں انگریزی محاورے کے مطابق غلط درخت کی طرف منہ کر کے بھونک رہا ہوں ..........
    صاحب کے ایک اور ہمدرد بھی فورا ٹپک پڑے اورشکیل چودھری صاحب کی معروضات کو کمزور تحریر قرار دے دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    میں ایک دو جملوں میں کچھ عرض کرنا چاہوں گا
    صاحب تحریر فرماتے ہیں " یہی ہمارے صاحب کا اچھا ہندوستان تھا جہاں مسلمانوں کو ہندو اکثریت پر غیر ذہنیت اور سیکولرازم کی علمبردار کانگریسی قیادت نے اس قدر ظلم، بربریت، قتل و غارت اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا کہ اقبالؒ نے 1930ءمیں مسلمانوں کو ایک وطن کا تصور پیش کیا "
    حضور کیا ہم جہلا پر تاریخی واقعات کے حوالے سے طاری غفلت دور کرنے کی غرض سے یہ فرمائیں گے کہ سارے جہاں سے اچھا کہے جانے سے لے کر خطبہ الہٰ باد تک کے درمیانی عرصے میں کس کس موقع پر (آپ کے بقول) سیکیولرازم کی علمبردار قیادت نے ظلم بربریت قتل وغارت اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا؟ اور یہ جو آپ نے فرمایا ہے کہ " اقبالؒ نے 1930ءمیں مسلمانوں کو ایک وطن کا تصور پیش کیا جہاں وہ اپنی جان و مال، عزت و آبرو، کا .... اور تہذیب و ثقافت کا تحفظ کرسکیں جہاں انہیں کوئی تنگ نظر، انتہاپسند اکثریت، غیرملکی .... کے ساتھ مل کر جبر و استحصال اور امتیازی سلوک کا نشانہ نہ بنا سکے" یہ گرانمایہ معلومات آپ نے مذکورہ خطبہ کے کس پیراگراف یا جملے سے اخذ فرمائی ہیں ہمیں بھی بین السطور چھپے خزانوں تک رسائی کا راستہ بتا دیجیے شکر گزار ہوں گے

    Reply
  • اکتوبر 23, 2015 at 4:48 PM
    Permalink

    میں ذاتی طور پر ان لوگوں کے کمنٹس پر تبصرہ نہیں کرتا، جن میں اس قدر اخلاقی جرات بھی نہ ہو کہ وہ اپنے اصل نام سے آئی ڈی بنا سکیں اور اصل نام کے ساتھ کمنٹ کریں. تاہم یہ نقطہ ایک دو اور دوستوں سے بھی زیر بحث آیا. میرے خیال میں بات سادہ ہے، اسے اس اینگل سے دیکھنا چاہیے کہ وہی اقبال جنہوں نے سارے جہاں سے اچھا ہے ہندوستان ہمارا جیسی نظم لکھی، اسی اقبال ہی نے خطبہ الہ باد بھی دیا ، جس میں اس زمانے کے حوالے سے بڑی جرات مندانہ اور مسلمانوں کے اکثریتی علاقوں کی ایک خاص پوزیشن والی بات کہی، جو اپنے منطقی نتیجے میں الگ وطن کے مطالبے تک جا پہنچی. نذیر نیازی مرحوم نے اقبال کے آخری دو برسوں کی روداد رقم کی ہے، اقبال کی نشستوں کے وہ احوال پڑھ کر علامہ کی سوچ کا اندازہ لگانا مشکل نہیں. جہاں تک ہندوستان میں مسلمانوں پر ظلم وستم توڑنے والی بات ہے، انیس سو سینتیس کی کانگریسی وزارتوں نے جو ظلم ڈھائے ، اس کی تفصیل پیر پور رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے. کانگریسی وزارتوں نے جو رویہ رکھا، اسکے بعد ہی مسلم لیگ کو تقویت ملی اور بہت سے وہ لوگ جنہیں ابھی تک ہندو اکثریتی آبادی اور کانگریس سے حسن ظن تھا، ان میں سے بہت سے مسلم لیگ کی طرف آئے اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد موثر اور طاقتور ترین جماعت بنا دیا.

    Reply
    • اکتوبر 24, 2015 at 3:23 PM
      Permalink

      "عذرِ گناہ بدتر از گناہ"
      حضور والا! ارشاد احمد عارف صاحب کا فرمانا ہے گانگرسی قیادت کے ظلم و ستم نے 1930 میں علامہ اقبال کو الگ وطن کا مطالبہ کرنے پر مجبور کیا اور آپ اس کے ثبوت میں 1937 کی کانگرسی وزارتوں کا رونا رو رہے ہیں۔
      باقی جہاں تک پاکستان کی مٹی سے محبت کا تعلق ہے اس پر آپ سے قطعاً کوئی اختلاف نہیں، اختلاف ہے تو صرف اپنے وطن سے محبت کے نام پر نفرتوں کے پرچار سے، میری اپنے وطن سے محبت سے یہ رطعاً مراد نہیں کہ میں کسی دوسرے وطن کے باسی سے نفرت کروں یا اسے آئینہ دکھاتا پھروں۔

      Reply
  • اکتوبر 24, 2015 at 3:01 PM
    Permalink

    ارشاد احمد عارف صاحب کا موقف سر آنکھوں پر لیکن جس طرح انھوں نے خطبہ الہ آباد کے پس منظر کے حوالے سے تاریخ کی ایسی تیسی فرمائی ہے اس پر گوئبلز کی روح بھی وجد کر اٹھی ہو گی۔ جناب سے دست بستہ درخوات ہے کہ صحافت کا پلو چھوڑیں اور تاریخ پر تبع آزمائی فرمائیں، بہتوں کا بھلا ہو گا۔

    Reply
  • اکتوبر 25, 2015 at 8:57 AM
    Permalink

    سبحان اللہ. علامہ اقبال کی وہبی پیش بینی کی داد دینا پڑے گی. سن تیس میں ہی ان کی چشم مستقبل بین نے، سات برس بعد ہونے والے کانگریسی مظالم کو چشم تصور سے دیکھ کر پہلے ہی بطور حق شفع خطبہ الہ آباد دے ڈالا. بس اتنی چوک ہو گئی کہ ایک تو بنگال کا ذکر نہ کیا، دوسرے انڈین یونین کے اندر رہنے کی راہ بھی کھلی چھوڑ دی.

    Reply
  • مارچ 5, 2017 at 9:06 PM
    Permalink

    عامرخاکوانی صاحب نے ارشاد عارف صاحب سے اپنا پرانا تعلق خوب نبھایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں میرا استدلال وزنی نہیں لگا۔ انہیں افسوس ہے کہ ارشادصاحب میری کمزوری تحریر کے جواب میں اپنی انرجی ضائع کرنی پڑی۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ میری تحریر کی کسی کمزوری کی نشان دہی نہیں کرسکے ہیں۔

    اوریا مقبول جان صاحب پرتنقید بھی خاکوانی صاحب کو ناگوازگزرتی ہے۔ ان کے مطابق اوریا صاحب کی فکر کے کئی اجزا سے انہیں شدید اختلاف ہے۔ کیا انہوں نے کبھی اس اختلاف کا اظہارکیا؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انہوں نے محض خانہ پری کے لئے یہ بات کردی ہوورنہ وہ اوریا صاحب کو تنقید سے بالاترسمجھتے ہوں؟

    انہوں نے یہ بھی لکھا ہے ’انیس سو سینتیس کی کانگریسی وزارتوں نے جو ظلم ڈھائے، اس کی تفصیل پیرپوررپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے۔ کانگریسی وزارتوں نے جورویہ رکھا، اسکے بعد ہی مسلم لیگ کو تقویت ملی اوربہت سے وہ لوگ جنہیں ابھی تک ہندو اکثریتی آبادی اور کانگریس سے حسن ظن تھا، ان میں سے بہت سے مسلم لیگ کی طرف آئےاورمسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد موثراورطاقتورترین جماعت بنا دیا۔‘

    ارشاد صاحب نے لکھا ہے کہ ’مسلمانوں کو ہندو اکثریت پرغیر ذہنیت اورسیکولرازم کی علمبردار کانگریسی قیادت نے اس قدر ظلم، بربریت، قتل وغارت اورامتیازی سلوک کا نشانہ بنایا کہ اقبال نے۱۹۳۰میں مسلمانوں کے لئے ایک وطن کا تصور پیش کیا۔‘ سبحان اللہ۔ اس دعوے سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ارشاد صاحب نے تاریخ کا مطالعہ کتنی سنجیدگی سے کیا ہے۔ یہ مظالم کب ڈھائے گئے تھے؟ تعجب ہے کہ خاکوانی صاحب کواپنے ممدوح کی یہ غلطی بھی نظرنہ آئی۔ عقیدت ہوتوایسی۔

    یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جن صوبوں میں کانگریسی وزارتوں نے مسلمانوں پرظلم ڈھائے تھے انہیں مستقبل میں ایسے مظالم سے بچانے کے لئے مسلم لیگ نے کیا منصوبہ بندی کی؟ کیا تقسیم ہند سےان مسلمانوں کی پوزیشن کمزور ہوئی یا مضبوط؟ خاکوانی صاحب کانگریسی وزارتوں کے مظالم کا انیس سو اکہتر کے مظالم سے کس طرح موازنہ کرتے ہیں؟ کیا پیرپوررپورٹ غیرجانبدارانہ تحقیق پر مبنی تھی؟ کیا یہ حمودالرحمان کمیشن رپورٹ سے زیادہ وزنی دستاویز تھی؟

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *