حامد میر پر حملے کی تحقیقات کو شفاف بنایا جائے: صحافتی ادارے

70080میڈیا کی آزادی اور اظہار رائے کی تحفظ کے لیے سرگرم کئی پاکستانی اور بین الاقوامی تنظیموں نے چیف جسٹس پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ معروف اینکر حامد میر پر اپریل سنہ 2014 کے حملے کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے کمیشن کی پیش رفت کے بارے میں ابہام دور کریں۔ یہ مطالبہ کرنے والوں میں پاکستان کولیشن آن میڈیا سیفٹی، نیویارک کی کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ (سی پی جے)، پیرس میں قائم رپورٹرز ودآو¿ٹ بارڈرز (آر ایس ایف) اور میڈیا سپورٹ الائنس جس میں فریڈم نیٹ ورک، ارادہ، میڈیا میٹرز فار ڈیموکریسی اور پاکستان پریس فاوینڈیشن شامل ہیں۔
ان اداروں کے مشترکہ بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ حامد میر پر حملہ کرنے والوں کو بے نقاب نہ کرنے سے پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں پر حملے کرنے والوں کا سراغ نہ ملنے کی پرانی روایت برقرار رہے گی۔
کمیشن کی جانب سے کسی فیصلے پر نہ پہنچنے اور اسے عام نہ کرنے سے پاکستان میں مجرموں کی سزا سے استثنٰی اور میڈیا کی آزادی متاثر ہوگی۔ یہ بیان دو نومبر کو دنیا بھر میں صحافیوں پر حملوں کے خلاف منائے جانے والے دن سے قبل جاری کیا گیا ہے۔
حامد میر پر حملہ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کے رکن اب چیف جسٹس آف پاکستان بن چکے ہیں چنانچہ ان سے استدعا کی گئی ہے کہ وہ اس معاملے میں ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے کمیشن کو اپنی ذمہ داری جلد از جلد مکمل کرنے کا حکم دیں۔
معروف صحافی حامد میر کو 19 اپریل 2014 ءکو کراچی میں نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد وفاقی وزارت داخلہ کے ایک خط کی بنیاد پر سپریم کورٹ نے تین رکنی عدالتی کمیشن قائم کیا تاکہ ’حقائق معلوم کیے جاسکیں، مجرموں کی نشاندہی ہوسکے ارو حامد میر کو زخمی کرنے کی ذمہ داری کا تعین ہوسکے۔‘ کمیشن کی تشکیل کو ڈیڑھ سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن بیان کے مطابق کمیشن نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ہے اور اس کمیشن میں ہونے والے پیش رفت کے بارے میں عوامی سطح پر کچھ معلوم نہیں ہو سکا۔

حامد میر پر حملے کی تحقیقات کو شفاف بنایا جائے: صحافتی ادارے” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *