جنرل کیانی اور ان کا جانشین

OLYMPUS DIGITAL CAMERAاِدھریہ سطور رقم کی جارہی ہیں ، اُدھر پاک فوج میں کمان کی تبدیلی کی تقریب جاری ہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے نئے آرمی چیف کے حوالے سے پتّے اپنے سینے سے لگائے رکھے اور سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کے ریٹائرمنٹ سے ایک دن قبل اس کے جانشین کا اعلان کیا۔ ستمبر کے پہلے ہفتے جناب آصف زرداری کی ایوانِ صدر سے رخصتی کے بعد اگلی بڑی تبدیلی آرمی چیف کی تھی۔ مہذب ملکوں میں یہ معمول کی بات ہوتی ہے لیکن اپنے ہاں کیوں کہ آزادی کے بعد کاتقریباً نصف حصہ فوج اقتدار میں رہی۔ اکثر و بیشتر سویلین ادوار میں بھی پردے کے پیچھے ڈوریاں ہلانے کا عمل جاری رہا ۔ چنانچہ سیاسی جماعتوں، تجزیہ کاروں اور سیاست سے دلچسپی رکھنے والے عام شہریوں میں بھی فوجی قیادت کے حوالے سے تجسس ایک فطری بات تھی۔ ہمیں یاد ہے ، اخبارات میں صدر، وزیر ِ اعظم اور آرمی چیف کی ملاقات کی خبر ’’تین بڑوں کی ملاقات‘‘ کی سرخی کے ساتھ شائع ہوتی تو نوابزادہ مرحوم دن بھر بدمزہ رہتے اور اپنے ملاقاتیوں کو یاد دلاتے رہتے کہ پارلیمانی نظام میں ایک ہی بڑا ہوتا ہے، عوام کا منتخب وزیرِ اعظم جسے آئین ملک کا چیف ایگزیکٹو قرار دیتا ہے۔ ادھر جنرل کیانی کی ریٹائرمنٹ قریب آرہی تھی، اُدھر قیاس آرائیوں کا سلسلہ پھیلتا جا رہا تھا۔ 11 مئی کے انتخابات کے بعد ابھی نئی حکومت نہیں بنی تھی کہ جناب ِ نواز شریف سے ملاقات کے لئے جنرل کیانی ماڈل ٹاؤن آئے اور چند روز بعد عنانِ حکومت سنبھالنے والے وزیرِ اعظم کیساتھ سکیورٹی کے حوالے سے داخلی اور خارجی مسائل پر تبادلہ خیال کیا (شہباز شریف بھی اس موقع پر موجود تھے)۔ ان پانچ، چھ ماہ میں جنرل کیانی کی وزیر اعظم سے جِتنی ملاقاتیں ہوئیں، ماضی میں اس مختصر وقت میں اتنی ملاقاتوں کی شاید ہی کوئی مثال موجود ہو۔ دہشت گردی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر اتفاق رائے بھی انہی ملاقاتوں کا ثمر تھا۔ اس دوران جنرل کیانی کے نئے رول کے حوالے سے بھی قیاس آرائیاں جاری رہیں۔ ایک دلیل یہ تھی کہ دریا کے درمیان میں گھوڑے تبدیل نہیں کئے جاتے۔ اب کہ افغانستان میں نیٹو (اور امریکی ) فوج رخت ِ سفر باندھ رہی ہے۔ جنرل کیانی کی موجودگی بہت مفید ہو سکتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی اور پھر گزشتہ چھ سال سے آرمی چیف کی حیثیت سے وہ ان معاملات سے براہِ راست متعلق رہے ۔ چنانچہ آرمی چیف کے طور پر ایک اور ایکسٹینشن، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی (اختیارات میں اضافے کے ساتھ) یا پھر پرائم منسٹر کے سیکیورٹی ایڈوائزر کے طور پر ان کے تقرر کی قیاس آرائیاں ہوتی رہیں۔ وزیرِ اعظم کی طرف سے نئے آرمی چیف کے اعلان میں ’’تاخیر‘‘ بھی زیرِ بحث رہی، جس کے جواب میں پرویز رشید کی اس بات میں وزن تھا کہ وزیرِ اعظم چاہتے ہیں کہ سبکدوش ہونے والے آرمی چیف اپنی ملازمت کے آخری دن تک ’’مکمل اختیارات‘‘کے ساتھ موجود رہیں۔ نئے آرمی چیف کے اعلان کے بعد سبکدوش ہونے والے آرمی چیف کی حیثیت باقی ماندہ دنوں کے لئے Lame Duck کی رہ جاتی ہے۔ میاں صاحب کے پہلے دور میں جنرل اسلم بیگ کے بارے میں یہ افواہیں عام ہوئیں کہ وہ شرارت کر سکتے ہیں۔ خلیج کی جنگ کے حوالے سے وزیرِ اعظم اور جنرل بیگ میں اختلافات ڈھکے چھپے نہیں رہے تھے۔ اپوزیشن جماعتیں بھی اس صورتحال کو غنیمت جان کر آرمی چیف کو منتخب حکومت کے خلاف اکسا رہی تھیں۔ ایسے میں حکومت نے حفظِ ماتقدم کے طور جنرل بیگ کی ریٹائرمنٹ (16 اگست 91) سے ڈیڑھ ماہ قبل (29 جون) کو جنرل آصف نواز کی نئے آرمی چیف کے طور پر نامزدگی کا اعلان کر دیا۔ آصف نواز کراچی سے راولپنڈی آکر بیٹھ گئے۔ اب جرنیلوں کی وفاداریاں جانے والے چیف کی بجائے آنے والے چیف کے ساتھ تھیں۔
جنرل کیانی 6 سالہ مدت (دو ٹرمز) پوری کر کے اس حالت میں روانہ ہوئے کہ ان کے لئے تحسین آفرین کے پھولوں کے ڈھیر لگے ہوئے تھے۔ وہ پاک فوج کے ایک نان کمیشنڈ افسر کے صاحبزادے تھے جو اپنی محنت، لگن اور پروفیشنل ازم کے باعث پاک فوج کی قیادت کے منصب تک پہنچے۔ بطور آرمی چیف ان کی نامزدگی پر نیوزویک نے انہیں ایک سمارٹ، سخت کوش، باصلاحیت کمانڈر اور ’’پروویسٹ‘‘ قرار دیا تھا۔ دسمبر 2003 میں راولپنڈی میں جنرل مشرف پر دو قاتلانہ حملوں کی انوسٹی گیشن جنرل کیانی کے سپرد ہوئی۔ ان حملوںمیں مسلح افواج کے اہلکار ملوث تھے۔ جنرل کیانی نے چند ہی ماہ میں ان دونوں سازشوں کا سراغ لگا لیا۔ ان میں ملوث بیشتر افراد گرفتار کر لئے گئے۔ شاید یہ اسی کا انعام تھا کہ 2004 میں انہیں آئی ایس آئی کا سربراہ بنا دیا گیاجس کے بعد القاعدہ کے سینئر رہنما ابوفرج اللیبی کی گرفتاری آئی ایس آئی کی ایک اور بڑی کارروائی تھی (وہ مشرف پر قاتلانہ حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا)۔ کیانی کی خدمات کا اعتراف مشرف نے اپنی کتاب ’’ان دی لائن آف فائر‘‘ میں بھی کیا ہے۔ پرویز مشرف اور محترمہ بینظیر بھٹو میں این آر او کے حوالے سے بھی جنرل کیانی کا کردار بہت اہم تھا۔ کہنے والے انہیں این آر او کا مصنف (اور ضامن) بھی کہتے ہیں۔ وہ آرمی چیف بنے تو ذرائع ابلاغ میں یہ بھی چھپا کہ چین اسموکر کیانی عموماً دھیمے لہجے میں بات کرتے ہیں جیسے بڑبڑا رہے ہوں ۔ لیکن صدر مشرف سے وہ جس لہجے میں بات کرتے ہیں ، دوسرے سینئر افسروں میں بہت کم اس کی ہمت کر پاتے ہیں۔ تب یہ بات بھی پڑھنے سننے میں آئی کہ انہوں نے مشرف سے کہہ دیا تھا کہ وہ آرمی میں ٹاپ جاب کے سوا کوئی عہدہ قبول نہیں کریں گے۔ پاک فوج کی قیادت سنبھالنے کے بعد ان کے لئے سب سے بڑا چیلنج فوج کی عزت و وقار کی بحالی تھا جسے ان کے پیش رو پرویز مشرف نے پست ترین سطح پر پہنچا دیا تھا۔ چنانچہ فوجی افسروں کے لئے ان کا ’’فرمانِ امروز‘‘ یہ تھا کہ وہ سیاستدانوں سے دور رہیں۔ کوئی افسر کسی سیاستدان سے رابطے میں نہ رہے۔ انہوں نے سول محکموں میں خدمات انجام دینے والے فوجی افسروں کی واپسی کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے 2008 کے الیکشن میں مشرف کی خواہشات کی تکمیل سے انکارکر دیا۔ انتخابات کے بعد انہوں نے منتخب پارلیمنٹ سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں رہنمائی کی درخواست کی۔ یہ الگ بات کہ جناب ِ زرداری اور گیلانی نے یہ حساس ترین مسئلہ فوج ہی کے سپرد کئے رکھا اور اپنے دھندے میں مصروف رہے۔ جنرل کیانی سول حکومت کے اطاعت گزار تھے لیکن آئی ایس آئی کو رحمان ملک کی وزارتِ داخلہ کی تحویل میں دینے اور کیری لوگر بل کی مزاحمت کے علاوہ انہوں نے میمو کیس میں بھی سول حکومت سے مختلف موقف اختیار کیا۔ یہی وہ موقع تھا جب وزیرِ اعظم گیلانی نے اعلان کیا کہ ریاست کے اندر ریاست نہیں چلنے دی جائے گی اور کچھ ہی روز کے بعد اپنا تھوکا چاٹ لیا۔
اب عالمِ اسلام کی سب سے بڑی فوج کی قیادت جنرل راحیل شریف کے سپرد ہوئی ہے۔ 1965 اور 1971 کی جنگوں میں نشانِ حیدر کا اعزاز پانے والے خانوادے کا یہ چشم و چراغ خود بھی شاندار فوجی کیریئر رکھتا ہے۔ انہیں جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ کی ماتحتی میں بھی کام کرنے کا موقع ملا۔ جنرل موصوف گوجرانوالہ میں ان کی کارکردگی سے اتنے متاثر ہوئے کہ کوئٹہ ٹرانسفر ہونے کے بعد بھی انہیں ساتھ رکھا۔ ان کے بقول راحیل شریف ایک میچور اور ڈاؤن ٹو ارتھ پروفیشنل کمانڈر ہیں۔ جنرل بلوچ سے ان کا تعلق چھوٹے بھائیوں جیسا ہے۔ اتنے گہرے ذاتی تعلق کے باوجود انہوں نے گزشتہ دو سال میں جنرل سے کبھی رابطہ نہ کیا۔ وہ لابنگ کا نہیں محنت اور دیانت کا آدمی ہے۔ پاک فوج کو نیا سربراہ مبارک ہو۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *