روسی مسافر طیارے حادثہ، تمام مسافر ہلاک

asteroideامدادی کارکنوں کے مطابق مصر کے علاقے جزیرہ نما سینا میں گر کر تباہ ہونے والے روسی طیارے میں سوار تمام 224 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ روسی حکام کے مطابق طیارے میں سوار 214 مسافر روس اور تین یوکرین کے شہری تھے۔ جاں بحق ہونے والوں میں عملے کے ساتھ ارکان اور 17 بچے بھی شامل ہیں۔ ایئر بس A321 جہاز نے بحیرہ احمر کے کنارے پر واقع سیاحتی مقام شرم الشیخ سے روس کے شہر سینٹ پیٹرز برگ کے لیے پرواز کی تھی۔ ایک اہلکار نے بتایا ہے کہ حسانا کے علاقے سے طیارے کا ملبہ مل گیا ہے جہاں ’خوفناک مناظر‘ دیکھنے کو ملے ہیں۔ طیارے کے ملبے سے لاشیں ملی ہیں۔ حکام کو طیارے کا بلیک باکس بھی مل گیا ہے۔

روسی صدر ولا دی میر پوتن نے طیارہ حادثے کی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے اور روس کے ٹرانسپورٹ کے وزیر کی قیادت میں حادثے کی تحقیقات کے لیے بنایا گیا کمیشن مصر جانے کے لیے روانہ ہوگیا ہے۔ روس کے خبر رساں ادارے ریا کے مطابق طیارے کی مالک فضائی کمپنی کولوماویا کے خلاف فضائی قوانین کو نظر انداز کرنے کے حوالے سے مقدمہ درج کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ کپمنی کی ترجمان اوکسانہ گولوون کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایسے شوہد نہیں ہیں جو انسانی غلطی کی طرف اشارہ کریں۔ ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ کپمنی کو حادثے کی وجہ کے بارے میں علم نہیں ہے، طیارے کا پائلٹ تجربہ کار تھا اور طیارے میں بھی کسی قسم کا کوئی نقص نہیں تھا۔‘

اطلاعات کے مطابق پولیس نے کمپنی کے دفاتر پر چھاپہ مارا ہے۔ صدر پوتن نے اتوار کے روز قومی سوگ منانے کا اعلان کیا ہے۔ ابتدائی طور پر طیارے کے لاپتہ ہونے کے بارے میں متضاد اطلاعات تھیں تاہم مصر کے وزیرِاعظم کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق روسی طیارہ جزیرہ نما سینا کے وسطی علاقے میں گر کر تباہ ہوا ہے۔ روسی ایوی ایشن اتھارٹی روساویاتسیا نے بیان جاری کیا ہے کہ فلائٹ 9268 ماسکو کے وقت کے مطابق چھ بج کر 51 منٹ (تین بج کر 51 منٹ جی ایم ٹی) پر شرم الشیخ سے روانہ ہوئی اور اسے سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکوو ہوائی اڈے پر 12 بج کر دس منٹ پر پہنچنا تھا۔ روسی ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق طیارے پرواز کے 23 منٹ بعد قبرص کے ایئرٹریفک کنٹرول کے ساتھ طے شدہ رابطہ نہیں کرسکا اور ریڈار سے غائب ہوگیا۔ روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق سینٹ پیٹرز برگ حکام نے پلکوو ہوائی اڈے پر مسافروں کے رشتے داروں کی معلومات کے لیے ایک مرکز قائم کر دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *