قریب جانے سے ڈر رہے ہیں ....

11071610_10200388575232447_2237826649691104143_nچوتھی شام ہے کہ اکیلے بیٹھنا دو بھر ہے اور جب کمرے میں موجودگی ہو تو حالت یوں ہوتی ہے دیواریں پیسنے آتی ہیں،دم گھٹنے لگتا ہے، سانس میں تنگی اور دماغ میں بے بسی چھا جاتی ہے۔کمرہ چھوڑنے یا گھر سے باہر نکلنے پر کچھ نجات حاصل کرپاتا ہوں۔ستائیس اکتوبر کی شام میں دیکھے گئے کراچی کے شاپنگ مال میں ایک عورت کو چور قرار دینے اور اس پر سر عام تشدد والی ایک ویڈیو نے مجھے لاچار بنا دیا ہے۔ویسے اسے صرف ویڈیو کہنا درست نہیں۔یہ تو میرا،آپ کا ،ہم سب کا عکس ہے۔ہماری بدلتی اخلاقیات،تھذیبی اقدار،بول چال،رویہ۔سب اس ویڈیو میں ظاہر ہوتا ہے۔اس میں دکھایا جانے والا پولیس کے لباس میں ملبوس وہ شخص اکیلی حیثیت میں نہیں بلکہ وہ ہمارے پورے معاشرہ کا نمائندہ ہےجو ایک عورت کو اپنے سامنے بٹھائے،اس کو چور قرار دیے،اس کا جسمانی،جذباتی،روحانی استحصال کیے جا رہا ہے۔زیادتی،بد زبانی اور بدتھذیبی کی آخری حدود و قیود کو روندتا ہوا،اپنے آپ کو منصف بنائے وہ شخص اس عورت کو اس طرح مجرم بلکہ شیطان قرار دے رہا ہے جیسے اس پر وحی نازل ہو چکی ہو۔جب وہ شخص چور قرار دیے جانے والی عورت کو تھپڑ مارنے کے بعد اس کی چادر اتارتے اس کو گالیاں دینے لگتا ہے تو عورت کے ساتھ بیٹھا اس کا معصوم بچہ آنکھیں اٹھاکر ماں کو دیکھے چلاجاتا ہے۔ان میں خوف سے زیادہ حیرت نظر آتی ہے۔ استعجاب کی کیفیت۔ یہ چیز میرے دماغ کو ایک برچھی کی طرح چھیل دیتی ہے۔ میرے پاس کوئی مرہم نہیں۔ کیا کروں؟ میں آپ کے سامنے یہ سوال نہیں رکھوں گا کہ اسے تفتیش کا حق حاصل تھا یا ملزم سے اس طرح پیش آیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ سوال ایک ہمدرد صاحب کے سامنے رکھا۔ ان کی باتوں کے بعد میں خود پر سوال کئے جا رہا ہوں۔ہمدرد صاحب فرمانے لگے یہاں تفتیش کرنے کایہی رواج ہے۔ وہ وہی کر رہا ہے جو اسے کرنا چاہیے۔ نہیں؟ کیوں بھائی؟ یہاں تو ایسا ہی ہوتا ہے۔ آپ ہوتے تو کیا کرتے؟ یہی کرتے۔ اس کے علاوہ بھلا اور کیا کیا جا سکتا ہے؟ آپ ہی رہنمائی کر دیں۔ خاموش ہو کر ہمدرد صاحب کے ہاں سے اٹھ آیا۔ یہ ہماری تہذیب کو کیا ہو گیا؟ ہمارا اخلاق اس پستی پر کیوں جا پہنچا؟ ہماری طبیعتیں ایسی کیوں بن گئیں کہ جس کسی کو اختیار حاصل ہوا، وہ درندہ بن گیا؟ انسانی اوصاف اس میں سے نکل کیوں جاتے ہیں؟ یا یہاں کے انسانوں کے ایسے اوصاف ہیں؟ اگر ایسا ہے تو پھر یہ انسانی اوصاف نہیں۔ ہماری مٹی میں کسی نے زنگ ملادیا ہے۔کیوںکہ مٹی کے اوصاف ایسے نہیں ہوتے۔ کبیر کہتا ہے۔
کھود کھاد دھرتی سہے کاٹ کوٹ بن رائے
ترجمہ :زمیں ہرطرح کی کھود کھاد برداشت کرتی ہے اور جنگل کاٹ کوٹ کو سہتا ہے
یہ ہماری مٹی میں کیا مل گیا کہ ہم سب کو زنگ لگ چکا۔ اپنی فطرت تبدیل کر چکے ہیں ہم سب۔سب کے سب۔ دیکھا نہیں آپ نے کہ اس شخص کے دگرد کھڑے سینکڑوں پتلے کھڑے یہ ظلم دیکھے جا رہے ہیں۔ جیسے کوئی پتلی تماشا ہو۔دیکھنے والوں کی کیفیت یہی کہہ رہی ہے کہ سب نے اپنی باگیں اس کو تھمائی ہوئی ہیں۔سب اس کا حق پر ہونا تسلیم کیے پتھر بنے کھڑے ہیں۔کسی میں حرکت تک نہیں۔چلیں آواز نہ اٹھائیں لیکن کیوں کسی شخص کے آنکھوں میں احتجاج نہیں؟کیوں کسی کے چہرے کے تاثرات ایسے نہیں کہ وہ شخص اپنے جامے میں رہنے پر مجبور ہوجائے؟اس شخص کو اتنے ہجوم کے سامنے عورت کے ساتھ ایسے پیش آتے مشکل محسوس نہیں ہوئی؟ کیا یار؟ کیا یہ ہم ہیں؟ ہم یہ ہیں؟اب یہی ہماراحال اور یہی مستقبل ہے؟ خود سے پوچھ لیں۔ میں بھی یہی کرنے لگا ہوں مگر ڈر لگ رہا ہے کہ جواب "ہاں" میں نہ ہو۔ظہور نظر کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔
سنا ہے وہ بحر خود پرستی سے ڈھونڈ لایا ہے خود کو لیکن
قریب جانے سے ڈر رہا ہے کہ لاش بے حد گلی سڑی ہے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *