مسلمان جدیدیت کو رد کیوں کرتے ہیں؟

KHALED AHMEDعام طور سے کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں نے اکیسویں صدی میں جدیدیت کورد کر دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں نے دراصل جدیدیت کو رد نہیں کیا بلکہ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق خود کو تبدیل کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ انسانی معاشروں میں دو طرح کی سوچ پائی جاتی ہے۔ کچھ معاشرے اپنے عصری تقاضوں کے مدنظر خود کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں دوسری طرف کچھ معاشرے اپنی اقدار اور روایات کی روشنی میں دنیا کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔معاشرے میں تبدیلی لانے کے عمل میں دو اصول کار فرما ہوتے ہیں۔ پہلا اصول یہ ہے کہ اپنے نصب العین اور طریقہ کار کی بنیاد زمینی حقائق پر رکھی جائے۔جب کہ دوسرا اصول یہ ہے کہ اپنے عقائد کی بنیاد پر اپنا نصب العین اور اس کی طرف بڑھنے کی حکمت عملی تشکیل دی جائے۔ جن معاشروں میں عقائد کو بنیاد بنا کر اپنا اجتماعی لائحہ عمل تشکیل دیا جاتا ہے وہاں جبر و تشدد ناگزیر ہو جاتا ہے۔
بیسویں صدی میں مسلمانوں نے قومی ریاست کے تصور کو قبول کرتے ہوئے جدیدیت کی طرف قدم بڑھایا تھا لیکن اکیسویں صدی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد قومی ریاست کے تصور کو رد کرتے ہوئے جغرافیائی سرحدوں اور تاریخی و ثقافتی حد بندیوں سے بے نیاز ہو کر جہاد کی طرف مائل ہے۔ اس عمل کو سمجھنے کے لیے القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری کا پاکستان کے آئین کے بارے میں 65صفحات پر محیط مقالہ پڑھیے جس کا عنوان ہے ” سپیدہ سحر اور چراغ “۔
مسلم اکثریتی معاشروں میں قانون سازی کے حالیہ رحجانات میں جدیدیت کا یہ رد بہت واضح ہے ۔ ان ممالک میں بتدریج قانون سازی اور پالیسیوں میں عقل و خرد اور عملیت پسندی کی بجائے عقائد کو ترجیح دی جارہی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ ان ممالک میں مفروضہ یا حقیقی دشمنوں کے خلاف عوام کے غم و غصے کی بنیاد یہ ہے کہ وہ دنیا کو اپنے عقائد کی روشنی میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں ۔
معروف سماجی محقق ایمن بی ساجو نے 2008ءمیں ایک دلچسپ کتاب مرتب کی تھی جس کا عنوان تھا مسلم جدیدیت : عوامی تخیل کے اظہارات ۔انہوں نے اس کتاب میں جدیدیت کے بارے میں مسلمانوں کے رویے کا تجزیہ کیا ہے اس میں یہ دلچسپ بات سامنے آئی ہے کہ کم و بیش ہر مسلم اکثریتی ملک میں جدیدیت کو رد کرنے سے پہلے خود اپنے ہی کچھ مقامی مفکرین کو رد کیا گیا ہے مثال کے طور پر پاکستان میں سر سید احمد خان اور علامہ اقبال کے خیالات کو رد کرنا ضروری قرار پایا تاکہ طالبان اور القاعدہ کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔
مغرب میں جدیدیت کی بنیاد دنیا کے استقرائی تجزیے پر رکھی گئی ہے۔ جدیدیت کی طرف اس رویے کی بنیاد عمرانیا ت کے ماہر میکس ویبر-1920) (1864 کی کلاسیک کتاب ’پروٹسٹنٹ اخلاقیات اور سرمایہ داری کی مبادیات‘ (1905)میں تلاش کی جا سکتی ہے۔ میکس ویبر نے اس کتاب میں عقلی بنیاد پر ثقافت اور سماجی روایات کے امتزاج کا تجزیہ کیا اور اس تجزیے کی مدد سے مغربی جدیدیت کے خدوخال واضح کیے۔ بعد ازاں عقل و خرد کا یہ علمی منہاج سیکولرازم یا قومی ریاست سے مذہب کی علیحدگی سے منسوب ہو گیا ۔ ریاست اور مذہب کی اس علیحدگی کو رد کرنے سے مسلمان گویا اپنی اجتماعی زندگی سے جدیدیت کو خارج کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھاتے ہیں۔ کیونکہ عقیدے میں تجربے کی گنجائش نہیں ہوتی چنانچہ ”مذہبی ریاست “کی کارکردگی کے بارے میں جتنے بھی شواہد پیش کیے جائیں ان کی روشنی میں اصلاح یا تبدیلی کی ترغیب پیدا نہیں ہوتی۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ معروف پاکستانی دانشور محمد علی صدیقی کے مطابق ہم نے پاکستان کی بطور ایک ریاست تشکیل میںسرسید احمد خان کے کن خیالات کو رد کیا ہے
1۔ قرآن پاک کے مندرجات میں سے کوئی بھی حصہ غلط یا غیر حقیقی یا غیر تاریخی نہیں ہو سکتا ۔
2۔ قرآن میں کہی گئی کوئی بات قوانین قدرت سے متناقض نہیں ہو سکتی۔
3۔ سرسید نے قرآن میں نسخ یا تنسیخ کے تصور کو رد کیا ہے۔نسخ کے اس تصور میں اگر قرآن میں بیان کردہ کوئی حصہ پہلے سے نازل شدہ متن سے متصادم پایا جائے تو قدیمی حصے کو منسوخ سمجھا جاتا ہے۔
4۔ بینک سے ملنے والے سود کو ربوا¿ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
5۔ حدود کے تحت طے کردہ سزاﺅں پربدلتے ہوئے حالات کی روشنی میں نظر ثانی کی جانی چاہیے۔
جہاں تک علامہ اقبال کے خیالات کا تعلق ہے، 25دسمبر 1986ءکو قائد اعظم محمد علی جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر ایک قومی سیمینار منعقد ہوا تھا جس کی صدارت جنرل ضیا الحق نے کی تھی۔ اس اجتماع کا موضوع یہ تھا کہ پاکستان کا اہم ترین مسئلہ کیا ہے؟ علامہ اقبال کے صاحب زادے جسٹس جاوید اقبال اس وقت سپریم کورٹ کے جج تھے ۔ انہوں نے اس کانفرنس کے دوران رائے دی کہ جنرل ضیا الحق نے جو حدود قوانین نافذ کیے ہیں انہیں علامہ اقبال اپنے چھٹے خطبے میں رد کر چکے ہیں ۔ اس کے جواب میں ضیاالحق نے اعلان کیا کہ اگر ایسا ہے تو ہمیں علامہ اقبال کو نظر انداز کرنا پڑے گا۔بعدازاں سپریم کورٹ کے شریعت بنچ نے بھی بینک کے سود کے بارے میں اس نقطہ نظر کو رد کر دیا جس پر علامہ اقبال اور سر سید احمد خان کا اتفاق رائے تھا۔ جاوید اقبال نے اپنی حالیہ کتاب ’خطبات اقبال‘ میں علامہ اقبال کے بہت سے ایسے نظریات بھی پیش کیے ہیں جنہیں ہم ردکر چکے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا کہنا ہے کہ علامہ اقبال سٹاک ایکسچینج، بیمہ کمپنیوں، عورتوں کے حق طلاق نیز انضباط حمل کے حامی تھے نیز یک زوجیت کے بارے میں ان کے خیالات روایتی علماءسے مختلف تھے ۔
آج کی دنیا میں جہاد کے تصور سے بڑھ کر جدیدیت کی مخالفت کا مو¿ثر ترین ہتھیار ممکن نہیں۔ جہاد کا تصور قومی ریاست کو تہس نہس کر دیتا ہے اور جو ریاست جہاد کی سرپرستی کرتی ہے وہ تباہ ہو جاتی ہے ۔ آج ہم پاکستان میں انتشار اور انحطاط کے جو مظاہر دیکھ رہے ہیں ان کی وجہ جہاد کا یہ تصورہی ہے۔

مسلمان جدیدیت کو رد کیوں کرتے ہیں؟” پر بصرے

  • نومبر 2, 2015 at 12:57 PM
    Permalink

    جناب زمینی حقائق کیا ہیں؟ کسی بھی نظریہ حیات کی اساس اگرتجربات کی محتاج ہے تو وہ قابل ِ تغیّر ہی رہے گی۔ زمینی حقائق تو کائنات اور زندگی کی فول پروف اور عقلی تشریح کے بعد ہی متعین ہونگے۔ جدیدیت تو خود ان سوالات کے جوابات میں سرگرداں ہی ہےتو بھلا کیسے ہمارے جدید نظریات اور افکارکی بنیاد ٹھوس ہوگی! خدا کو نظر انداز کرکے آپ کائنات اور زندگی کی عقلی تشریح کر ہی نہیں سکتے۔ تو یا تو ایک متوازی عقلی نظریہ حیات پیش کریں یا خدا کو غیر جانبداری اور کشادہ ذہن سے سمجھنے کی کوشش کریں ! تبھی ٹھوس اور متوازن معاشرتی رویّے متعین ہونگے۔ انسان اگر انسان کو ہی جواب دہ ہے تو تصادم تو ہوگا۔

    Reply
  • نومبر 4, 2015 at 3:14 AM
    Permalink

    Their have always been some secular pseudo intellectuals who don't know shit about Islam or what is happening in the world and like to comments on things they don't know any thing about. Iqbal will never supersede Mohammad SAW, constitution will never supersede Quran, contitution and the laws created by that contitution are bound be be under Quran, well for an Islamic nation that is and we are an Islamic nation founded by "Pakistan ka matlub kya, La Ilaha Illahah". So go some where else to sell your "mangen". Thank you.

    Reply
  • نومبر 4, 2015 at 3:16 AM
    Permalink

    Sorry forgot to mention the state who has the widest support in the "modern" and "civilized" wold , isreal who's constitution is based on "Torrah" their holy book.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *