سعودی شہزادے کو 10 نایاب باز کی برآمد کی اجازت

Bazوفاقی حکومت نے سعودی شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز کے لیے پاکستان سے قیمتی اور نایاب اقسام کے 10 باز برآمد کرنے کا خصوصی لائسنس جاری کر دیا۔ذرائع کے مطابق حکومت کا یہ اقدام نہ صرف عالمی معاہدوں بلکہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے قوانین کی بھی خلاف ورزی ہے، جبکہ باز کی ان اقسام کو عالمی سطح پر تحفظ بھی حاصل ہے۔واضح رہے کہ شہزادہ فہد بن سلطان بن عبدالعزیز سعودی عرب کے صوبے تبوک کے گورنر ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام اٹھا کر جی ایس پی پلس کی سہولت کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے، جبکہ قدرتی وسائل کے تحفظ کے عالمی معاہدوں پر عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں ملک کو اربوں یورو مالیت کی جی ایس پی پلس کی سہولت خطرے میں پڑجائے گی۔ذرائع کے مطابق شہزادہ فہد باز کی ان نایاب اقسام کو ’تلور‘ کے شکار کے لیے استعمال کرتے ہیں۔خیال رہے کہ شہزادہ فہد گزشتہ سال اْس وقت عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے تھے، جب یہ رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ انہوں نے بلوچستان کے ضلع چاغی سے 2 ہزار ایک سو عالمی تحفظ شدہ ’تلور‘ پرندوں کا شکار کیا۔وزارت خارجہ کی جانب سے سعودی سفارتخانے کو لکھے جانے والے جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ سعودی شہزادے کو باز کی برآمد کا خصوصی اجازت نامہ جاری کردیا گیا ہے۔خط کی کاپی وائلڈ لائف کنزرویٹر امید خالد، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور وزارت خارجہ کے کراچی اور اسلام آباد میں پروٹوکول ڈپٹی چیفس کو بھی بھجوادی گئی ہے۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے گزشتہ سال بھی شہزادہ فہد کو پرندوں کی برآمد کے لیے 2 خصوصی لائسنس جاری کیے گئے تھے۔جاری کیے جانے والے لائسنس میں سے ایک، 8 باز اور دوسرا 10 نایاب پرندوں کی برآمد کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ شہزادہ فہد کو اس سے قبل، باز اور تلور کے شکار کے لیے جاری کیے جانے والے اجازت ناموں میں، وزارت خارجہ کے حکام کا نام درج ہوتا تھا لیکن حالیہ جاری کیے جانے والے لائسنس میں کسی عہدیدار کا نام درج نہیں ہے۔ذرائع کے مطابق خصوصی اجازت نامے میں، لائسنس جاری کرنے والے عہدیدار کا نام ظاہر نہ کرنے کی احتیاط سپریم کورٹ کے حکم کی وجہ سے برتی گئی ہے۔واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے نایاب پرندے ’تلور‘ کے شکار پر پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *