طالبان میں مخالف دھڑے نے ملا رسول کو امیر چن لیا

A former Taliban fighter looks on after joining Afghan government forces during a ceremony in Herat province on March 26, 2012. Twelve fighters left the Taliban to join government forces in western Afghanistan. The Taliban, ousted from power by a US-led invasion in the wake of the 9/11 attacks, announced earlier this month that they planned to set up a political office in Qatar ahead of talks with Washington. AFP PHOTO / Aref KARIMI (Photo credit should read Aref Karimi/AFP/Getty Images)

اطلاعات کے مطابق افغانستان میں ملا اختر منصور کی قیادت سے اختلاف رکھنے والے دھڑے نے ملا محمد رسول کو اپنا امیر چن لیا ہے۔ کم از کم دو طالبان رہنماﺅں نے تصدیق کی ہے کہ طالبان کے دونوں دھڑوں میں کئی مہینوں پر محیط مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں۔ اس دوران افغان علماءنے بھی فریقین میں مصالحت کی کوشش کی تھی۔ ملا محمد رسول ان طالبان رہنماﺅں میں شامل تھے جنہوں نے ملا اختر منصور کو طالبان کا سربراہ ماننے سے انکار کیا تھا۔ ملا اختر منصور کو اگست کے ابتدائی ہفتوں میں ملا محمد عمر کی وفات کی تصدیق کے بعد امیر چنا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق اگرچہ ملا منصور نے تحریک پر کافی کنٹرول حاصل کر لیا ہے تاہم مخالف دھڑے کی موجودگی میں ان کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *