بھونچال سے پہلے اور بعد!

roshan lalبھونچال کیوں آتا ہے ؟ اس راز سے سائنس کئی پردے اتار چکی ہے مگر پھر بھی ہماری رہبری کے بعض دعویدار وں کو سائنس کے افشا رازوںکے سامنے بے حجاب ہونا پسند نہیں ہے اسی لیے وہ بضد ہیں کہ زلزلے جیسی آفات سے برپا ہونے والی تباہیاں ہم پر ہمارے گناہوں کے عذاب کے طور پر نازل ہوتی ہیں۔ جن لوگوں کو 26 اکتوبر کے زلزلے نے تباہ کیا ہے ان کی حالت زار بڑی حد تک میڈیا پر دکھائی جاچکی ہے۔ برباد ہوچکے ان کے گھروں کی باقیات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ تنکوں سے بنے ان کے آشیانے سرچھپانے کی حد تک ہی کار آمد ہو سکتے تھے ۔ کسی آفت کے ظہور پر اپنے مکینوں کی جان بچانے کی سکت مٹی گارے سے پتھروں کو جوڑ کر اور لکڑی کے بالے شہتیروں کی چھت ڈال کر بنائے گئے مکانوں میں کیسے ہو سکتی ہے۔ سمجھ لیجئے کہ زلزلے کے بعد جو ”زار“ نظر آرہے ہیں ان کی زندگی بھونچال سے پہلے بھی ”نزار“ ہی تھی۔ سوات، مالاکنڈ، دیر زیریں ، دیر بالا اور چترال جیسے جن علاقوں کے یہ لوگ باسی ہیں ان وادیوں کو جنت نظیر کہا جاتا ہے۔ عکس بہشت میں پیدا ہوکراس وقت زلزلے کی تباہ کاریوں کا عذاب الیم براداشت کرنے والوں کی زندگی پہلے بھی ناکردہ گناہوں کی سزا یاب تھی۔ زلزلے کے بعد ان علاقوں سے اب تک 300لوگوں کی اموات کی خبریں سامنے آچکی ہیں۔ زلزلے کے مبینہ عذاب سے مرنے والے ان بوڑھوں، بچوں عورتوں اور جوانوں کے متعلق کل نجی چینل پر ایک علامہ صاحب ارشاد فرما رہے تھے کہ انہیں ہلاک شدگان نہیں بلکہ شہید کہا جائے! واﷲوعالم ۔
پاکستان میں آنے والے موجودہ زلزلے کو جیالوجیکل سروے آف پاکستان نے 8.1 جبکہ امریکہ کے جیالوجیکل سروے نے 7.5 درجے شدت کا کہا ہے۔ پاکستان میں تو 8.1 یا 7.5 شدت کے زلزلے نے 300 لوگوں کو ہلاک یا شہید کر دیا ہے مگر اس بات پر شدید حیرت کا اظہار کیا جاسکتا ہے کہ جاپان میں 30 مئی 2015 کو اب تک آنے والے آخری زلزلے کی شدت 7.8 درجے تھی مگر یہ زلزلہ وہاں ایک بھی ہلاکت کا باعث نہیں بن سکا تھا۔ جاپان میں مارچ 2005 ءسے اب تک 15 ایسے زلزلے آچکے ہیں جن میں ایک شدت 9.00 ، دو کی شدت 8.00 درجے اور 12 کی 7.00 درجے سے زیادہ تھی ۔ 2011 ءمیں جاپان میں آنے والا 9.00 درجے شدت کا زلزلہ اپنے ساتھ سونامی بھی لے کر آیا تھا۔ اس زلزلے کی وجہ سے پیدا ہونے والی سونامی کی دس میٹر اونچی لہریں اپنے ساتھ سب کچھ بہا کر لے گئی تھیں جس کی وجہ سے وہاں 15893 لوگ ہلاک ہوئے ۔دنیا میں ریکارڈ کیے گئے اب تک کے پانچ بڑے زلزلوں میں شمار ہونے والے اس زلزلے علاوہ گذشتہ دس برسوں میں جاپان میں آنے والے 14 بڑے زلزلوں کے دوران یا تو کوئی ہلاکت نہ ہوئی اور اگر لوگ ہلاک ہوئے بھی تو ان کی تعداد ایک سے 12 کے درمیان رہی۔ ہمارے ملک میں زلزلوں کی پیمائش کرنے والے آلات اور نظام زیادہ تر جاپان سے درآمد کردہ ہے۔ اس کے علاوہ جیالوجیکل سروے آف پاکستان اور محکمہ موسمیات میں بہت سے ایسے ماہرین کام کرتے ہیں جنہوں نے جاپان سے اعلیٰ تعلیم کی ڈگریاں حاصل کی ہوئی ہیں۔ جاپان سے زلزلوں سے متعلق علم اور آلات حاصل کرنے کے باوجود ہم اس احساس اور شعور کے قریب تک بھی نہ پہنچ سکے جو انسانی زندگیوں کی اہمیت اور قدرو قیمت کو اجاگر کرتا ہے اور مجبور کرتا ہے کہ کسی معصوم اور بے گناہ انسان کو جس حد تک بھی ممکن ہے کسی عذاب میں مبتلا ہونے سے بچایا جائے۔
پاکستان میں 10 برسوں کے دوران آنے والے دوسرے بڑے زلزلے کے بعد بھی قدرتی آفات کے دوران انسانوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں ہم تقریباً اسی مقام پر کھڑے ہیں جہاںاکتوبر2005 ءکے زلزلے سے پہلے تھے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ زلزلے جیسی آفات سے نمٹنے کے انتظامات پر بے تحاشا اخراجات کرنے اور اس سلسلے میں قومی و صوبائی سطح پر نئے ڈھانچے اور نئے ادارے بنانے کے باوجود ملک میں کوئی بہتری محسوس نہیں کی جارہی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ کے تحت قومی و صوبائی سطح پر تو ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیشن قائم کر دیئے گئے ہیں مگر ضلع کی سطح پر ڈیزاسٹر مینجمنٹ یونٹس کے لیے گورننگ باڈیز بنانے کے لیے کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایکٹ آفات سے نمٹنے کے لیے ضلع کی سطح پر بھی ایک انتظامی ڈھانچہ بنانے کا حکم دیتا ہے مگر حیرت کی بات ہے کہ کسی بھی صوبے کے لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں اس حوالے سے کچھ بھی درج نہیں ہے۔ زلزلے جیسی آفات سے پیشگی تحفظ فراہم کرنے کے لیے جو اقدامات بہت ضروری ہیں ان میں سے ایک بلڈنگ کوڈ کی تشکیل بھی ہے۔ اس حوالے سے ہماری صوبائی حکومتیں ہی نہیں بلکہ وفاقی حکومت بھی کس قدر کوتاہ اندیش ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ زلزلوں کو برداشت کرنے والی عمارتوں کی تعمیر کے لیے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی اسلام آباد جیسا ادارہ 2005 ءکے زلزلے کے بعد سے ابتک کوئی نیا بلڈنگ کوڈ تیار نہیں کر سکا۔ 18 مارچ 2015 ءکو جاپان کے شہر سینڈائی میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ایک بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں شریک پاکستان سمیت تمام ملکوں نے اس بات پر رضامندی ظاہر کی تھی کہ آفات کی وجہ سے پیدا ہونے والے خطرات اور تباہیوں کو ہر ممکن حد تک کم کرنے کے لیے تمام تر ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔ جن اقدامات کی تفصیل جاری کی گئی تھی اسے ” سینڈائی فریم ورک “ کا نام دیا گیا تھا۔ اس سلسلے میں جو اقدامات بھی کیے جانے ضروری ہیں وہ اٹھارویں ترمیم کے بعد اب صوبوں کی ذمہ داری ہے۔ غریب اور پسماندہ ملک ہونے کی وجہ سے پاکستان کے لیے اس سلسلے میںبیرونی مالی امداد بھی مختص ہے مگر اس کے باوجود سینڈائی فریم ورک پر عملدآمد کے لیے صوبائی حکومتیں اپنا کردار ادا کرنے میں سنجیدہ نظر نہیں آرہی ہیں۔
اکتوبر 2005 ءمیں آنے والے زلزلے کی شدت 7.6 تھی جس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کے دوران87,350 لوگ فوت اور 138,000زخمی ہوئے تھے۔ اب اکتوبر 2015 میںآنے والے 8.1 درجے زلزلے کی شدت اگرچہ گذشتہ زلزلے سے زیادہ ہے مگر نقصانات صرف اس وجہ سے کم ہوئے کیونکہ سابقہ زلزلہ 15 فٹ گہرائی میں آیا تھا جبکہ موجودہ زلزلے کی گہرائی 193 کلومیٹر تھی۔ اس مرتبہ اگر نقصانات کسی قدر کم ہوئے ہیں تو اس کو صرف اور صر ف قدرت کی مہربانی کہا جاسکتاہے۔ یاد رکھا جائے کہ قدرت ہر مرتبہ مہربان ثابت نہیں ہو سکتی ۔ انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور انہیں زلزلہ جیسی آفات سے ہر ممکن تحفط فراہم کرنے کے لیے ان انسانوں کو بھی اپنے اندررحم پیدا کرنا ہوگا جو صاحب اختیار و اقتدار ہیں اور عام لوگوں کے جان ومال کے تحفظ کے ذمہ دار بھی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *