پوپ اعظم (پارٹ ٹو)

zafarullah Khanحضرات شکوہ کناں ہیں کہ میں نے میاں صاحب کے سیکریٹریٹ اور بیرونی دوروں کے اخراجات کا موازنہ عالمی دنیا کے سربراہان کی تنخواہوں سے کر کے زیادتی کی ہے اور ایک جانبدارانہ موقف اپنایا ہے۔ جب کہ درحقیقت اگر مجھے موازنہ کرنا ہی تھا تو تنخواہ کا تنخواہ سے کرتا، مراعات کا مراعات سے، سیکریٹریٹ کا سیکریٹریٹ سے کرتا۔میں احباب کے اس اعتراض کو حق بجانب سمجھتا ہوں اور اپنی کج روی کو اب کی بار درست سمت میں متعین کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔
عرض یہ ہے کہ کسی بھی تحریر کے لئے ایک خبر، ایک حوالہ، ایک واقعہ، ایک کہانی یا ایک تحریک چاہیے ہوتی ہے۔میری تحریر کی تحریک غلام علی کے میٹھے ٹماٹر ہی تھے۔ مجھے یہ بات بیان کرنی تھی کہ اس ملک میں ایک غریب آدمی کیسے زندگی گزارتا ہے۔ کس کرب سے غلام علی نے کہا تھا کہ ’سائیں سڑے ہوئے پھل ٹھیلے والے بچے ہی کھاتے ہیں‘ اس جملہ کا درد سہا نہیں گیا۔ یہی جملہ تھا جس نے مجھے ایک تحریر لکھنے پر مجبور کیا کیونکہ لکھنا میرا کام ہے۔ مجھے غلام علی کا جملہ اس ملک کی سیاسی اشرافیہ کی شاہ خرچیوں سے جوڑنا تھا۔ تفصیل دیکھی تو ہوش اڑ گئے۔صرف بیرونی دوروں کی مد میں ایک ارب ستر کروڑ روپے تھے وہ بھی ایک سال کے لئے۔ اس رقم کا مجھے بریک اپ دینا تھا اور اس سے بہتر کیا بریک اپ ہو سکتا تھا کہ دنیا کے امیر ممالک کے سربراہان برسوں بلکہ کہیں کہیں صدیوں جتنی تنخواہ لیتے ہیں وہ ہمارے سربراہ مملکت ایک سال میں بیرونی دوروں پر اڑا دیتے ہیں۔
یہ موازنہ نہیں بلکہ تصویر کا ایک رخ تھا۔موازنہ بھی کرنا چاہیے اور ایسے ہی کرنا چاہیے جیسے احباب فرماتے ہیں مگر کیا کیجیے کہ ہمارے وزیراعظم تنخواہ تو لیتے ہی نہیں اب تنخواہ کا تنخواہ سے تو موازہونے سے رہا۔ لے دے کے بیرونی اخراجات کا بیرونی اخراجات ہی سے موازنہ ہو سکتا ہے مگر کہ سیکریڑیٹ کا سیکریٹریٹ سے نہیں ہو سکتا۔ کیوں؟ یہ آخر میں عرض کرتا ہوں۔
یہ بتانے کی تو شاید ضرورت نہیں ہے کہ پاکستان بیرونی قرضوں سے چلنے والا ملک ہے۔ زیادہ تفصیل میں نہیں جاتا۔ صرف اتنا عرض کیے دیتا ہوں کہ معاشی سال 2014-15 میں جولائی سے جنوری تک پاکستانی حکومت تین اعشاریہ سینتیس بلین امریکی ڈالر امداد لے چکی ہے جو پاکستانی کرنسی میں تین کھرب،تریپن ارب، پچاسی کروڑ روپے بنتے ہیں۔یہ بھی تصویر کا ایک رخ ہے۔رہا بیرونی دوروں کے اخراجات کا تقابل تو صرف ایک دو مثالیں سامنے رکھتا ہوں .... گر قبول افتد۔
برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے سال 2013 میں امریکہ، برازیل اور افغانستان کا دورہ کیا تھا جس پر پانچ لاکھ تیس ہزار برطانوی پونڈ خرچ ہوئے تھے جو پاکستانی کرنسی میں آٹھ کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے بنتے ہیں اور اس پر برطانیہ کی پارلیمنٹ میںبہت شور مچا۔اس دورے میں حیرت انگیز طور پر افغانستان کے دورے پر صرف چار ہزار ساٹھ پونڈ خرچ ہوئے تھے۔جبکہ ہمارے وزیر اعظم کا حالیہ دورہ امریکہ جس میں انہوں نے اقوام متحدہ سے خطاب فرمایا اس پر قوم کے پندرہ کروڑ روپے لگے اور اس پر بی بی سی نے سرخی جمائی ’نواز شریف کی پندرہ کروڑ میں تقریر‘۔
اکتوبر 2013ءمیں نواز شریف کے دورہ امریکہ پر اخباری اطلاعات کے مطابق تین کروڑ پچاس لاکھ روپے خرچ ہوئے جبکہ ستائیس نومبر 2014 کو وفاقی حکومت نے لاہور ہائی کورٹ میںاسی دورہ کے اخراجات تین کروڑ سات لاکھ روپیہ بتایا۔ اب ذرادوسری طرف دیکھ لیجیے۔نومبر 2014 میں آسٹریلیا میں (G20) کی نویں سمٹ ہوئی۔اس سمٹ میں جاپانی وزیراعظم شینزوابے کے دورے پر دوکروڑ چوراسی لاکھ روپے کی لاگت آئی۔ اسی سمٹ میںفرانس کے صدر فرانکس ہالینڈ کے دورے پر دوکروڑ سترہ لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ برطانیہ کے وزیراعظم کے اسی دورے میں ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ہاں یہ البتہ ماننے والی بات ہے کہ چائنا کے صدر لی کے اس دورے پر اخراجات ہمارے وزیراعظم سے زیادہ تھے جن کو یہ دورہ چار کروڑ اکیس لاکھ میں پڑا تھا۔ شاید اس یاد دہانی کی ضرورت تو نہیں ہے کہ چائنا دنیا کی دوسری بڑی معیشت ہے۔جاپان تیسری بڑی معیشت ہے۔برطانیہ پانچویں بڑی معیشت ہے اور فرانس چھٹے نمبر پر ہے جبکہ پاکستان چالیسویں نمبر پر۔مگر آپ اعتراض کر سکتے ہیں کہ ہم تو ( G20 ) میں ہیں ہی نہیں یا پھر یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ صاحب امریکہ میں آسٹریلیا سے زیادہ خرچے ہوتے ہیں۔لگتا یوں ہے کہ یہ موازنہ بھی ٹھیک نہیں ہے کیونکہ ہمارے اصل میں اخراجات زیادہ ہیں ورنہ ہمارے وزیراعظم بے چارے تو تنخواہ بھی نہیں لیتے۔ اب یہ دیکھیے کہ سال 2013-14 میں تحریک انصاف کے ممبر قومی اسمبلی لال چند کے سوال پردفتر خارجہ نے جو ریکارڈ اسمبلی بھیجا اس کے مطابق مئی 2013 ءسے جون 2014 ءتک وزیراعظم کے بیرونی دوروں پر پچیس کروڑ ستر لاکھ روپے کی رقم خرچ کی گئی۔
صاحب عرض یہ ہے کہ موازنہ بھی آپ کے سامنے ہے اور سات مہینوں میں لیا گیا قرضہ بھی آپ کے سامنے ہے۔آپ گلہ کر رہے ہیں کہ سیکریٹریٹ کا سیکریٹریٹ سے موازنہ نہیں کیا۔ ضرور کرتا اگر ہماری جی ڈی پی بھی امریکہ یا برطانیہ کے برابر ہوتی۔ہمارا کل بجٹ چار ہزار تین سو تیرہ ارب روپے تھا جبکہ برطانیہ میں ’دی ٹیلیگراف‘ کے مطابق صرف تین شعبوں ویلفیر، صحت اور تعلیم کا بجٹ پچھتر ہزار تین سو ساٹھ ارب روپے ہے۔ آپ اس پر بھی اعتراض کر سکتے ہیں کہ صاحب اب پونڈ اور روپے کا موازنہ تو جانبداری ہے جبکہ حقیقت میں برطانیہ کے تین شعبوں کا بجٹ تو صرف چار سو اکہتر ارب پونڈ تھا۔
یوں ہے کہ میں اس ملک کے ایک غریب آدمی کی مجبوری لکھ رہا تھا تو شاہ خرچیوں کا ذکر آ گیا ورنہ تو موازنہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔دنیا کے سربراہان اگر زیادہ پیسہ خرچ کرتے ہیں تو ان کی معیشت اس قابل بھی ہے۔ ہمارے یہاں ملک قرضوں سے چل رہا ہے اور شاہ خرچیوں کی داستانیں زبان زد عام ہیں۔وزیراعظم تو اپنی جگہ، صدر صاحب جیسا ہیومیوپیتھک آدمی بھی قوم کو ایک دن میں اکیس لاکھ نوے ہزار کے پڑتے ہیں کیونکہ صدر ہاﺅ س کا سالانہ خرچہ اسی کروڑ روپے الگ سے ہے۔ طرفہ تماشا کہ صدر ہاﺅس میں لگے باغ کی دیکھ بھال پر بھی سالانہ تین کروڑ تیرہ لاکھ روپے لگتے ہیں۔ ادھرمیگا پراجکٹس کے نام اندھیر نگری مچی ہوئی ہے۔ہماری میٹرو بس سروس دنیا کی مہنگی ترین میٹرو ہے۔ایسی ہی ایک میٹرو انڈیا کے احمد آباد میںبھی بنی تھی۔ احمد آباد کی میٹرو اکتیس کروڑ پچاس لاکھ روپے فی کلومیٹر کے حساب سے بنی ہے۔ ایسی ہی ایک میٹرو چائنا میں سینتالیس کروڑ پچیس لاکھ روپے فی کلومیٹر کے حساب سے بنی۔ یہی میٹرو ترکی میں نے ایک ارب روپے فی کلومیٹر کے حساب سے بنائی۔ اور ہماری میٹرو! ہماری تو کیا ہی بات ہے۔ ہماری لاہور میٹرو اس قوم کو ایک ارب پندرہ کروڑ روپے فی کلومیٹرمیں پڑی ہے۔ جبکہ اسلام آباد میٹرو دو ارب روپے فی کلومیٹر میں پڑی ہے۔ اٹھارہ ارب کا سو میگا واٹ کا سولر پاور پراجیکٹ دس سے بارہ میگا واٹ بجلی پیدا کر رہا ہے۔ ستائیس ارب کا نندی پور پاور پراجیکٹ قوم کے چوراسی ارب روپے کھا گیا اور نتیجہ کے طور پر بند ہو گیا۔اور تقاضا یہ ہے کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کے اخراجات کا موازنہ وائٹ ہاوس کے اخراجات سے کیا جائے۔
عرض یہ ہے کہ جس ملک کو چلانے کے لئے کھربوں روپے کے قرض لئے جاتے ہیں وہاں کے سربراہ قوم کا پیسہ یوں دوروں ، شاہ خرچیوں اور کھڑکی توڑ نمائش میگا پراجیکٹس پر برباد نہیں کرتے صاحب۔ یہ پیسے اس ملک کے عوام کی خون پسینے کی کمائی ہے۔انہی قرضوں کے سود چکانے کے لئے آپ عالمی امدادی اداروں کی ایما پر غریب عوام پر پٹرول، گیس اور بجلی کے بم گراتے ہیں اور ساتھ میں رونا بھی روتے ہیں کہ خزانہ خالی ہے۔ پیسے نہیں ہیں۔ عوام کو قربانی دینی ہو گی۔عوام تو سڑے ہوئے پھل کھا رہی ہے اور آپ کے وعدے بس جوش خطابت ٹھہرتے ہیں۔ اگر ایسا کرنا ہی ہے تو حاتم طائی کی قبر پر لات مارنے کی کیا ضرورت ہے؟ کم ازکم قوم پر تنخواہ نہ لینے کا احسان تو نہ کیجیے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *