میں صاحبِ ایمان ہوں!

Anjum Niazوہ لوگ جنھوں نے تحریکِ طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اﷲ شاہد کو سناہے وہ جانتے ہیں کہ طالبان اسلام اور ا س کی تعلیمات، جواچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتی ہیں، کے بارے میں عام مسلمانوں سے مختلف نظریات رکھتے ہیں۔ وہ جمہوریت اور عام رسمی تعلیم کو اسلام کے خلاف سمجھتے ہیں ، چناچہ ان کے نزدیک ہر وہ شخص جو جمہوری نظام کے لیے کوشاں ہے، واجب القتل ہے۔ شاہد اﷲ شاہد کا کہنا ہے ...’’ شریعت کے سوا کوئی نظام قابلِ قبول نہیں ہے۔‘‘ ایک مقامی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں اُنھوں نے سخت لہجہ اختیارکرتے ہوئے ہر اُس شخص کو دھمکی دی جو تحریکِ طالبان کے ایجنڈے کی مخالفت کرتاہے۔
ہم سب یہ اپنے دل،دماغ اور روح کی مرضی کے مطابق سوچنے کا حق رکھتے ہیں۔ آپ اپنی مرضی کا اسلام اٹھارہ کروڑ افراد پر مسلط نہیں کر سکتے ہیں۔ پاکستانیوں کی اکثریت مسلمان ہے، چناچہ اُنہیں کسی تنظیم کی طرف سے کسی سند کی ضرورت نہیں ہے ۔ درحقیقت پاکستان میں کبھی بھی عقیدہ ایک مسلۂ نہیں رہا ہے بلکہ یہاں افراد کو امن، تحفظ اور اشیائے ضروریات درکار ہیں۔ تحریکِ طالبان کے ترجمان نے سولا سالہ لڑکی ملالہ کے بارے میں اپنی تحریک کے موقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا...’’وہ اسلامی عقائد پر تنقید کرتی ہے ۔ اگر ہمیں ایک موقع اور مل گیا تو ہم اسے ہلاک کردیں گے اور ہمیں اس فعل پر فخر ہوگا۔ اسلام عورتوں کو ہلاک کرنے سے منع کرتا ہے لیکن جو عورتیں ہمارے عقیدے کے خلاف جنگ میں کافروں کی مدد کرتی ہیں ، واجب القتل ہیں۔ ‘‘
جس دوران کچھ پاکستانی ذہنی اعتبار سے قرونِ وسطیٰ میں رہتے ہیں، مغر ب ترقی کی شاہراہ پر گامز ن ہے ۔ اُنھوں نے وہ ذرات دریافت کرلیے ہیں جو God particle کہلاتے ہیں۔ درحقیقت ان ذرات کو گزشتہ سال دریافت کرلیا گیا تھا۔ ان کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ذرات کو ’’تخلیق ‘‘ کے عمل کو سائنسی انداز میں سمجھنے کے عمل کی ایک گمشدہ کڑی قرار دیا گیا تھا لیکن اب یہ کڑی ملتی دکھائی دیتی ہے۔ ان کو دریافت کرنے کے لیے سات ہزار سائنسدانوں نے دوسال تک کام کیا اور اس پر دس بلین ڈالراخراجات ہوئے ۔ ان تجربات کو فرانس اور سوئٹزرلینڈ کے سرحدی علاقے میں کیا گیازیرِ زمین مقام پر کیا گیا۔ آخر کار سائنسدان اس توانائی کو دریافت کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو کائنات میں ہر جگہ موجود ہے۔ توانائی کا اس طرح کا ثبوت اس سے پہلے کبھی نہیں ملا تھا۔ ان کے بارے میں تفصیل کسی اور کالم میں بیان کروں گی۔
جن ذرات کو God particle کانام دیا گیا ہے، وہ دراصل Higgs Boson ہیں۔ ان کا نام دو سائنسدانوں کے نام پر رکھا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ایڈن برگ یونیورسٹی کے Peter Higgs اور دوسرے ایک بھارتی ریاضی دان ستندرا ناتھ بوس ہیں۔ ان دونوں نے 1964 میں ان پراسرار ذرات کی تلاش شروع کی۔ ذرا ٹھہریں، شاید آپ کو ہمارے سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام بھول چکے ہیں۔ Sebastian Abbot of Associated Press کے مطابق ...’’ پاکستان کے واحد نوبل انعام یافتہ سائنسدان، ڈاکٹر عبدالسلام کے اہم کام کی وجہ سے God particle کی دریافت ممکن ہوسکی۔ تاہم اس عظیم سائنسدان کو اس کے اپنے وطن میں بہت کم لوگ جانتے ہیں۔ نصابی کتب سے ان کا نام مٹا دیا گیا ہے۔ ‘‘ڈاکٹر پرویز ھود بھائی نے’’اے پی‘‘ کو بتایا...’’جس طریقے سے ڈاکٹر صاحب کے ساتھ پاکستان میں سلوک کیا گیا ، وہ ایک انتہائی افسوس ناک بات ہے۔ ان کو پاکستان میں قدم رکھنے کی اجازت بھی نہ دی گئی۔ اگر وہ آتے تو شاید کوئی اُنہیں قتل کردیتا۔‘‘کیا ہم ابھی بھی سائنس کو عقائد سے الگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ؟
چلیں ماضی کو بھول جائیں اور حال کو یاد رکھیں۔ اب وقت آگیا ہے کہ جس شخص نے God particle کی دریافت میں اہم کردار ادا کیا، اُس کا تعلق ہمارے ملک سے ہے۔ وہ نوبل انعام یافتہ پاکستانی ہے۔ ہمارے اربابِ اختیار کو سینہ تان کر دنیا کو بتانا چاہیے کہ ڈاکٹر صاحب ان کے ہم وطن پاکستانی تھے۔ تاہم ہمارے رہنماؤں کو سائنس اور اس میں ہونے والی پیش رفت سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اُنہیں یورپ یا امریکہ میں جائیداد خریدنے یا سوئس بنکوں میں بھاری بھرکم اکاؤنٹس جمع کرنے میں تو دلچسپی ہو سکتی ہے لیکن ڈاکٹر عبدالسلام اور ان کے کام کو یاد کرنا ان کی ترجیح نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے ان میں سے بہت سوں نے ڈاکٹر صاحب کا نام بھی نہ سنا ہو۔ جب ہم ملک میں پھیلی ہوئی تنگ نظری اور انتہاپسندی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں اس پر مطلق حیر ت نہیں ہوتی ہے کہ ہمارے سیاست دانوں کی ترجیح سائنسی ترقی کیوں نہیں ہے یا یہاں ڈاکٹر صاحب کا نام کیوں نہیں لیا جا سکتا؟
God particle نامی ذرات توانائی خارج کرتے ہیں۔ زندگی کو وجود میں آنے اور اپنا وجود برقرار رکھنے کے لیے توانائی کی ضرورت ہوتی ہے اور زندگی یہ توانائی الہامی ذرائع سے حاصل کرتی ہے۔ اسے بے کار کاموں میں ضائع کردینا گناہ کے مترادف قرار دیا جاسکتا ہے۔ جب ہماری نگاہ الہامی دنیا کے تقاضوں پر جاتی ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ انسانوں سے ایک دوسرے سے محبت، ہمدردی، ایمانداری اور انسانیت کے سلوک کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُنھوں نے منافقت اوردکھاوے سے اجتناب کرنا ہوتا ہے۔
مذہب کا بنیادی مقصد انسانوں کو اس دنیامیں بہتر زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہوتا ہے ۔ اسے سوچنے سمجھنے کی دعوت دی جاتی ہے تاکہ وہ کائنات اور اس کی حقیقتوں پر غور کرے۔ کائنات کے حقائق سے لا تعلق ہوکر مذہب کاحق ادا نہیں کیا جاسکتا ہے۔ جہاں تک طالبان کا تعلق ہے تو وہ ہر سائنسی حقیقت کو ’’مغربی ‘‘ قرار دے کر رد کردیتے ہیں ۔ اُن کا خیال ہے کہ کچھ عقائد کا زبان سے اقرار ہی مکمل ایمان ہے، لیکن جب ہم حقائق کی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ اتنے عجائب سے بھری ہوئی ہے کہ انسان سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ مذہب اُسے اس سے لاتعلق رہنے کی ہدایت کرتا ہے۔
جہاں تک ڈاکٹر صاحب کی دریافت کا تعلق ہے تو ہم اُنہیں اپنائیں یا نہیں، آئندہ سائنسی، خا ص طور فزکس کے میدان میں ، ہونے والی پیش رفت اور اسکے نتیجے میں ہونے والی ایجادات دنیا کو تبدیل کرنے والی ہیں۔ کیا ہم ا س وقت کے لیے تیار ہیں جب God particle کی دریافت کے کی وجہ سے دقیانوسی نظریات تبدیل ہونے والے ہیں؟ کیا حقائق سے آنکھیں چرانے سے ہم محفوظ ہوجائیں گے؟ کیاگزشتہ کئی صدیوں سے ہمارا رویہ یہ نہیں رہا ہے کہ ہم ہر نئی دریافت اور ایجاد کو رد کردیتے ہیں ... جیسے بجلی، ٹی وی، ریلوے، بناسپتی گھی، چھاپہ خانہ، وغیرہ،... اور ایسا کرتے ہوئے ہم بیرونی دنیا کو موقع دیتے ہیں کہ وہ ہمارے عقائد کا مذاق اُڑائیں لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ہم نہ صرف ان ایجادات سے استفادہ کرنے لگتے ہیں بلکہ اُنہیں ’’اپنوں ‘‘ کی تحقیق کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ افسوس، دنیا کی یادداشت اتنی کچی نہیں ہے جتنی ہم سمجھتے ہیں۔ اس وقت ہمارے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم عقائد کا اخلاقی پہلو اجاگر کریں اور سائنسی علوم کو اس سے منسلک کرنے کی کوشش نہ کریں۔ سائنسی حقائق تبدیل ہونے والے ہوتے ہیں۔ ان کی بنیاد مشاہدے ، تجربے اور مفروضوں پر ہوتی ہے جبکہ مذہب اٹل عقائد کا حامل ہوتا ہے۔ یہ دونوں دھارے متوازی خطو ط پر بہہ سکتے ہیں لیکن انہیں گڈمڈ کرنے کی کوشش درست عمل نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *