اوریا مقبول جان ۔ ایک ذہین و فتین طالب علم

saleem pashaجناب شریف کنجاہی صاحب نے اپنی نظموں کی پہلی کتاب ’جگراتے‘ کو جس شخصیت کے نام منسوب کیا ،زمانہ انہیں چوہدری فضل حسین صاحب کے نام سے جانتا ہے۔زمیندار کالج گجرات کے پرنسپل رہے اور ایسی ادب پرور ہستی کہ جن کی انگلی پکڑ کر انور مسعود صاحب نے اپنی شاعری کا آغاز کیااوراس بات کا اعتراف اپنی مشہور کتاب ’ میلہ اکھیاں دا‘ کے ابتائی کلمات میں انور مسعود صاحب نے کیا ہے۔ یہ تومیرے لئے بھی اعزاز کی بات ہے کہ چوہدری صاحب کے دورِ سرپرستی میںہی زمیندار کالج گجرات سے گریجویشن کی۔ اوریا مقبول جان صاحب بھی اسی کالج میں چوہدری فضل حسین صاحب کے شاگرد رہے ہیں اور اس طالب علم کی زبان و انداز کے تیور بھانپتے ہوئے چوہدری صاحب نے ایک تاریخی لقب عنایت فرمایاتھا جس کی صداقت کا اب جاکے یقین ہوچلا ہے کہ کیا پتھر پہ لکیر بات کہہ گئے کہنے والے :’ اوریا مقبول جان،ایک ذہین و فتین طالب علم‘
چوہدری فضل حسین صاحب اپنادیا ہوا لقب دہراتے ہوئے یہ بتانا ہرگزنہ بولتے کہ یہاں ’ط‘ کی بجائے ’ت‘ استعمال کیا گیاہے۔
جوں جوں وقت گزرتا چلا گیا،اوریا صاحب اپنی تحریروں کی شعلہ انگیزیاں پھلاتے چلے گئے۔ اہل دانش پر ان کے جوہر کھلتے گئے تو چوہدری فضل حسین صاحب کے عطا کردہ لقب کی سچائی کا ڈنکا بھی بجنے لگا۔ ایک لمبے عرصے سے آپ اپنے کالم میں ہند کو فتح کرنے اور وہاں کے بادشاہ کو زنجیروں میں جکڑ کر لانے کی پیش گوئی کسی حدیث کے حوالے سے شدومد سے لکھتے چلے آرہے ہیں۔ یہ کام کسی کالی پگڑی والے گروہ کے ہاتھوں انجام پذیر ہوتا بتاتے ہیں۔ اب کالی پگڑی کا جہاں تک تعلق ہے تو ایک تو طالبان پہنتے ہیں اور دوسری جانب اہل تشیع حضرات کے علماءبھی کالی پگڑی یا عمامہ کا استعمال کرتے ہیں۔ اوریا صاحب کا اشارہ واضح طور پر تو طالبان کی جانب ہی لگتا ہے کیونکہ وہ اپنے روحانی مرشد ملا عمر مرحوم کی شان میں کافی کچھ لکھتے رہتے ہیں جن کے دور خلافت میں افغانستان نے بے مثال ترقی کی تھی اور انصاف دور دور تک پھیل گیاتھا۔ شیر اور بکری عملاً ایک ہی گھاٹ پر پانی پیتے ،عورتوں بچوں اور بزرگوں کو اتنی عزت اور احترام دیا جاتا تھاکہ لوگ عمر بن عبدالعزیزؓ کے دور کو بھول گئے۔
سود کے حوالے سے کالموں پر کالم لکھتے جا رہے ہیں،پوری دنیا کے بینکنگ نظام کو شیطانی چکر قرار دیتے ہیں۔ٹھیک ہے جناب بحیثیت مسلمان سود پر تنقید جائز ہے لیکن اس کے متبادل کے طور پر آپ جو لاعمل قسم کی تجاویز دیتے ہیں،ان کو اگر کہیں آپ نے پریکٹس کیا ہوتا،کوئی ایسا مالیاتی ادارہ یا بینک بنایاہوتا جو بلاسود بینکاری کے اصولوں کو اپناتے ہوئے جدید دور کی مادی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انسانی معاشی مسائل کو اسلامی رنگ میں حل کرتا دکھائی دیتا تو ہم مانتے کہ جناب یہ ہے وہ مثالی نظام جس کی اسلامی دنیا کو ضرورت ہے۔
ملالہ یوسف زئی پر آپ کے تنقیدی کالم دیکھے، آپ نے واقعی اپنے تمام تر علمی دریا فقط ایک چھوٹی سی بے ضرر بچی کو گناہگار ثابت کرنے کے لئے بہا دئیے۔ ایک طرف تو آپ کے مکتبہ فکر کے لوگ اس بچی پر کسی قسم کے طالبانی حملے کا سرے سے انکار کرتے ہیں،دوسری جانب آپ کے مرشد خانے کی طرف سے پریس ریلیز آجاتی ہے کہ ’ اس فاحشہ لڑکی پر حملہ ہم نے ہی کیا ہے اور پھر بھی کریں گے‘۔ پہلے تو یہ بات آپس میں بیٹھ کر طے کرلیں کہ اس مکروہ فعل کا اقرار کرنا بھی ہے یا کہ نہیں۔ ویسے تو آپ اسلامی حوالے دے دے کر ثابت کرتے ہیں کہ جنگ میں بچوں،عورتوں اور بزرگوں کو امان ہے لیکن یہ امان ہمیں طالبان کے زیر اثر پاکستانی و افغانی علاقوں میں نظر کیوںنہیں آتی؟
چلئے موضوع بدلتے ہیں،آپ ایک لکھاری ہیں اور ڈرامے وغیرہ بھی لکھتے ہے ہیں۔ منٹو کو آپ بھی جاوید چوہدری کی طرح فحش نگار ہی سمجھتے اور لکھتے ہیں، بلکہ اپنی افسری کا اظہار کرنے کیلئے فخر سے لکھتے ہیں کہ جب میں لاہور کے پاگل خانے کا انچارج بنا تو پہلی فرصت میں رجسٹر منگوا کر منٹو کا ریکارڈ دیکھا تھااور اس کے کیس کا باریک بینی سے جائزہ لیا کہ یہ گندی تحریریں لکھنے والا لکھاری پاگل کیسے ہوا؟ کبھی آپ نے مرحوم قاضی حسین احمد صاحب کا بھی ریکارڈ منگوا کے دیکھا اور ان کے کیس کا بھی اتنی باریکی سے مطالعہ کیا ؟وہ بھی تو کسی پاگل خانے میں رہ چکے ہیں ۔منٹو توصرف گندے افسانے لکھتا تھا،مگر قاضی صاحب تو کسی اور مرحلے سے گزر کر اس مقام تک پہنچے تھے۔
مذہبی سیاسی جماعتوں کا ووٹ بینک اس ملک میں کبھی نہیں رہا، حقیقت میں یہ نہ تو مکمل طور پر مذہبی ہیں اور نہ ہی سیاسی جماعتیں، بلکہ ایک قسم کا پریشر گروپ ضرور ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کے حصول میں سرگرداں رہتی ہیں۔ آج بھی آپ کسی حلقے میں دیکھ لیں ان کو بمشکل تین چار ہزار ووٹ ملتے ہیں جو ان کے اصلی ہوتے ہیں، باقی اس جماعت کی لوگوں کی جانب سے فری مل جاتے ہیں جن کے ساتھ ان کا الائنس بنتا ہے۔ اب یہ انتخابی اتحاد کسی بھی نتھو خیری جماعت کے ساتھ بن سکتا ہے، اس کے لئے مخصوص عقیدے کی قید نہیں ہے۔ جماعت اسلامی اور مولانافضل الرحمن گروپ کی مثالیں آپ کے سامنے ہیں، بات مفادات کی ہے۔ اب اس پریشر گروپ کی ایک مثال اس ٹی وی مباحثے کے حوالے سے دیتا ہوں جس میں دائیں بازو کی نمائندگی جناب اوریا مقبول جان اور انصار عباسی کررہے تھے تو دوسری جانب اکیلے پروفیسر پرویز ہود بھائی بیٹھے تھے۔جب دلائل سے یہ ڈاکٹر صاحب کو قائل نہیں کرسکے تو پریشر گروپ کی جانب سے انصار عباسی گویا ہوتے ہیں ’میں نے پہلے ہی کہہ دیا تھا مجھے کسی جاہل کے سامنے نہ بٹھانا‘۔ یہ بات کہہ کر انہوں نے اپنی جانب سے دریا کو کوزے میں بند کردیا اور اوریا صاحب کی معنی خیزمکارانہ مسکراہٹ دیکھنے کے لائق تھی۔ بے چارے ہود بھائی دو عقابوں کے درمیان پھنسے نظر آئے۔ اب بھی آپ یو ٹیوب پر یہ ویڈیو دیکھ کرخود فیصلہ کریں کہ کیسے دلائل ہارجاتے ہیں اور دھونس ،دباﺅ جیت جاتا ہے۔یاد رہے کہ اوریا صاحب کی مسکراہٹ ضرور دیکھیں اور غور بھی کریں، بے شک اس میں سمجھنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں کہ کیسے کسی سیکولر بندے کا اس معاشرے میں جینا مشکل ہو چکا ہے۔ اسلام واقعی تلوار کے زور سے نہیں پھیلایا گیا تھا لیکن اب ڈنڈے کے زور سے کیوں پھیلایا جا رہا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *