آج مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم پیدائش ہے

wajahatآج مولانا ابوالکلام آزاد کا ایک سو ستائیسواں یوم پیدائش ہے۔ آج بھارت میں انتہا پسندی سر اٹھا رہی ہے اور پاکستان کے رہنے والے انتہا پسندی کے انجام سے اچھی طرح واقف ہیں۔ آج مولانا ابوالکلام آزاد کے افکار پر غور و فکر کا ایک اچھا موقع ہے۔
برطانوی ہند کے سیاسی افق پر ابوالکلام آزاد ، تحریک خلافت اور محمد علی جناح قریب قریب ایک ساتھ نمودار ہوئے ۔ مصطفی کما ل کے ہاتھوں عثمانی خلافت کا بستر لپٹنے کے بعد تحریک خلافت کی بنیاد جاتی رہی۔ چندے کی حد تک کچھ برس تحریک کا نام باقی رہا اور پھر یہ شیرازہ بھی بکھر گیا۔ البتہ ابوالکلام آزاد اور محمد علی جناح دو قطبی ستاروں کی مانند اگلے چالیس سال تک مسلم ہند کی سیاست پر چھائے رہے۔ دونوں کی شخصیت میں قطبین کا بعد تھا ۔ دونوں کی سیاست کے دھارے بھی کبھی مل کر نہیں دیے ۔
لیکن پاکستان بہرحال قائم ہو چکا تھا اور کانگریس نے اس کے قیام کی منظوری دی تھی۔ ظاہر ہے مولانا کے لیے اسے ماننے کے سو کوئی چارہ نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے پاکستان کو عملی طور پر تسلیم کر لیا ۔ اور جہاں تک ممکن تھا اہل پاکستان کو اچھے مشورے دیتے رہے۔
47کے قتل و غارت کے بعد حالات قدرے معمول پر آئے تو مولانا ابوالکلام آزاد جامع مسجد دہلی تشریف لے گئے اور مسلمانوں سے خطاب کیا۔ ”میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ تم حاکمانہ اقتدار کے مدرسے سے وفاداری کا سرٹیفیکٹ حاصل کرو اور کاسہ لیسی کی زندگی اختیار کرو ۔ میں کہتا ہوں جو اجلے نقش و نگار تمہیں اس ہندوستان میں ماضی کی یادگار کے طور پر نظر آرہے ہیں وہ تمہارا ہی قافلہ لایا تھا۔ انہیں بھلاﺅ نہیں  انہیں چھوڑو نہیں  ان کے وارث بن کر رہو اور سمجھ لو کہ اگر تم بھاگنے کے لیے تیار نہیں تو پھر تمہیں کوئی طاقت بھگا نہیں سکتی۔آﺅ عہد کرو کہ یہ ملک ہمارا ہے اور اہم اس کے لیے ہیں۔ اس کی تقدیر کے بنیادی فیصلے ہماری آواز کے بغیر ادھورے رہیں گے۔“
27دسمبر 47ءکو لکھنو میں کل ہند مسلم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد نے کہا ” اس ملک میں ایک بڑی تعداد ان عزیزوں کی ہو گی جو مجھ سے اختلاف 21TH_AZAD_1764887fرکھتے تھے۔ لیکن میں آج کسی مسلمان کی ملامت کے لیے نہیں آیا۔ ملامت کس کو کریں؟ اپنے بھائیوں کو  اپنے عزیزوں کو  آخر کس دیوار سے ٹکرائیں اور کیوں؟“
پاکستان بن گیا تو اس کے بارے میں بھی مولانا کا یہی رویہ رہا۔ وہ اس ملک اور اس میں بسنے والے مسلمانوں کا ہمیشہ بھلا چاہتے رہے۔
اوائل 58ءکا ذکر ہے  مغربی پاکستان اسمبلی کے سپیکر چودھری فضل الٰہی (بعد ازاں صدر پاکستان )  کسی کانفرنس میں دہلی گئے۔ واپسی پر انہوں نے مولانا غلام رسول مہر کو مولانا سے اپنی ملاقات کا واقعہ سنایا۔
میں نے مولانا سے ملاقات کا وقت لیا۔ ان کی علمی عظمت اور بلند شخصیت کا دل پر رعب تھا۔ اسی شش و پنج میں بیٹھا تھا کہ مولانا اوپر سے اترے اور بیٹھتے ہی فرمانے لگے کہ بھائی  میں تو ملک کی تقسیم کے خلاف تھا۔ بہرحال اب جو پاکستان بن گیا ہے  اسے ٹھیک کیجئے اور اچھی طرح چلائیے۔پھر کہنے لگے کہ تقسیم کے بعد سہر وردی یہاں رہنا چاہتے تھے میں نے انہیں مشورہ دیا کہ ہندوستان میں آپ کچھ نہیں کر پائیں گے۔ آپ کے بارے میں یہاں بڑی غلط فہمیاں ہیں۔ پاکستان جائیے  وہاں کچھ کیجئے ۔ پھر فرمایا: آپ نے سکندر مرزا کو صدر مملکت بنا کر اچھا نہیں کیا۔ آج کی دنیا میں سرکاری افسروں کا مملکت کے اعلی پبلک مناصب پر فائز ہونا اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔
Maulana Abul Kalam Azad1ان دنوں پاکستان میں آئے دن وزارتیں بدلتی تھیں۔ اصلاح احوال کے متعلق چودھری فضل الٰہی کی مایوسی دیکھ کر مولانا نے فرمایا کہ نہیں نہیں انتخابات کرائیے۔ حالات ٹھیک ہو جائیں گے۔ مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔ حالات کوسدھارنے کا صرف ایک طریقہ ہے۔ ملک میں انتخابات کرائیے۔ بار بار کرائیے ۔ اس سے عوام میں سیاسی شعور پیدا ہو گا۔ اور ان میں اچھے برے کی تمیز پیدا ہو گی۔
اس واقعہ سے چند سال پہلے مولانا غلام رسول مہر دہلی گئے اور مولانا آزاد کے ہاں ٹھہرے۔ مولانا نے ان سے کہا کہ آپ پاکستان واپس جا کر وہاں کے ارباب اقتدار کو میری طرف سے پیغام دیں کہ میری ساری عمر کلکتہ میں گزری ہے۔ میں جانتا ہوں کہ بنگال والے بنگالی زبان کے معاملے میں کس قدر حساس ہیں۔ آپ مشرقی بنگال میں اردو کو قومی زبان بناتے بناتے کہیں اس حصہ ملک سے ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔ مہر صاحب نے لاہور آ کر گورنر پنجاب سردار عبدالرب نشتر کو مولانا آزاد کا پیغام پہنچایا لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔ گو سردار نشتر نے مولانا کی بات بڑی توجہ سے سنی۔
پاکستان کے دیگر اصحاب مثلا نوابزادہ خورشید علی خاں کو بھی مولانا نے اسی قسم کے مفید مشورے دیے تھے ۔ ایس ایم اکرام ( سیکرٹری اطلاعات حکومت پاکستان) نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔ پاکستان اور اس کے لیڈروں کے متعلق مولانا ابوالکلام آزاد کا رویہ پر وقار اور ایک مدبر سیاست دان کا تھا۔
عبدالماجد دریا بادی کسی اعتبار سے بھی مولانا آزاد کے مداح نہیں تھے۔ 1948ءمیں اپنی ایک نجی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔
Azad48ء میں آل انڈیا ریڈیو مشاورتی کمیٹی کے ممبر کی حیثیت سے دہلی جانا ہوا۔ مولانا آزاد پرانے تپاک اور گرم جوشی سے ملے ۔ اس روز پشاور کے خان عبدالغنی (فرزند خان عبدالغفار) بھی مدعو تھے۔ گفتگو میں وہی جامعیت خوش خلقی ۔ شرافت نفس اور عالی ظرفی کا یہ عالم کہ اپنے مخالفین خصوصا مسلم لیگ کے لیے گلہ شکوہ کاشائبہ بھی زبان پر نہیں۔ سب کا ذکر یکساں خوش دلی سے بلکہ پاکستان کے حق میں بجائے شکایت یا طنز و تعریض کے الٹا کلمہ خیر اور کچھ اس قسم کے الفاظ کہ اب جب کہ پاکستان بن چکا ہے  ہم سب کی فلاح و بہبود اسی میں ہے کہ وہ طاقت ور بنے۔ سیاسی لیڈروں میں اس ظرف کی مثال نادر ہی ملے گی "( "صدق جدید "لکھنو 14مارچ 1958ء)۔
[مولانا آزاد اپنی کتاب India wins freedomکا اختتام ان الفاظ پر کرتے ہیں۔ "مسٹر جناح اور ان کے ساتھی یہ سمجھنے سے قاصر رہے کہ جغرفیائی صورت حال ان کے لیے ناموافق ہے۔ مسلمان سارے برصغیر میں کچھ اس طرح بکھرے ہوئے تھے کہ ایک سمٹے ہوئے علاقے میں ان کی الگ ریاست بنانا غیر ممکن تھا۔ مسلمانوں کی اکثریت کے علاقے شمال مشرق اور شمال مغرب میں تھے اور کسی مقام پر بھی باہم متصل نہیں تھے ۔ یہاں کے باشندے مذہب کے سوا ہر لحاظ سے ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ یہ کہنا عوام کو فریب دینا ہے کہ صرف مذہبی یگانگت دو ایسے علاقوں کو متحد کر سکتی ہے۔ جو جغرافیائی  معاشی  لسانی اور معاشرتی اعتبار سے ایک دوسرے سے بالکل جدا ہوں۔ اس میں شک نہیں کہ اسلام نے ایک ایسے معاشرے کے قیام کی کوشش کی جو نسلی لسانی اور معاشی سیاسی حد بندیوں سے بالا تر ہو  لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ابتدائی برسوں کو چھوڑ کر اسلام کبھی سارے مسلمان ممالک کو صرف مذہب کی بنیاد پر متحد نہیں کر سکا۔"
جہاں تک ہندوستان اور پاکستان کے باہمی تعلقات کے بارے میں مولانا کا موقف بڑا واضح اور مثبت تھا  لکھتے ہیں:۔
"پاکستان ایک حقیقت ہے۔ اب دونوں ریاستوں کا مفاد ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ تعلقات اور اشتراک عمل میں ہے ۔ اس کے خلاف کوئی پالیسی نئے مصائب و آلام کا باعث بن سکتی ہے۔ "مولانا کی کتاب "ہماری آزادی" کے مرتب ہمایوں کبیر دیباچہ میں لکھتے ہیں:۔ مولانا آزاد دل سے چاہتے تھے کہ ہندوستانی اور پاکستانی ایک دوسرے کو دوست اور پڑوسی سمجھیں۔"
برصغیر کی آزادی کے بعد اس سر زمین پر کشت و خون کے ہولناک واقعات کیا اس امر کا ٹھوس ثبوت نہیں کہ ہندوستان کے ہندو اور مسلم رہنماﺅ ں میں مولانا ابو الکلام آزاد ہی واحد شخصیت تھے جنہوں نے مذہبی منافرت کا عظیم نقصان بھانپ لیا تھا ۔ مولانا نے آخر وقت تک اس خوفناک تصادم کو روکنے کی پوری کوشش کی۔

آج مولانا ابوالکلام آزاد کا یوم پیدائش ہے” پر بصرے

  • نومبر 11, 2015 at 10:56 PM
    Permalink

    bohat khoob...maulana jese mudabir syasatdaan se he aisi baton ki tawakah ki ja sakti ha. Kash Pakistan ne un ki baseerat se kuch seekha hota. Maulana k yom-e-paydaish pe column likhnay ka bohat shukria...Wajahat sahib ap ki reading habit ka hume khasa faida hota ha. itni tehareer ko ap mukhtasir se column me samayt detay hain. Shukria!

    Reply
  • نومبر 12, 2015 at 3:25 PM
    Permalink

    wajaahat masood saahib ka farmaana hay keh Islam nay aik aisi society kay qayyaam ki koshish ki jo nasli, lisaani, mo'aashi aur siaasi had-bandion say baalaa-tar ho. jab wo yeh kehtay hain keh Islam nay aisi koshish ki to is ka kia matlab lia jaye? yahi na keh Allah ka hukkam aisa hi tha aur Rasool Paak (PBUH) ki is baab main yahi khaahish rahi aur yahi goal raha jo keh kuch arsa kay liye achieve bhi hua. baad main yeh ideal, yeh goal infiraadi mafaad ki bheent charh gia. lekin jab ham jaantay hain keh Rasool Paak (PBUH) ki is baab main yahi khaahish aur yahi koshish rahi jesa keh mohtaram dost nay bhi aitiraaf kia keh Islam nay koshish ki to phir har ehd main musalmaano ka maqsad kia hona chahiye? yahi na keh apnay Rasool Paak (PBUH) ka set kia hua goal/ideal achieve kernay ki koshish karain. yeh kia baat hoi keh indirectly/directly yeh mafhoom nikaala jaye choon keh baad main musalmaan kabhi aisa ker na sakkay, isi liye musalmaano ko Rasool Paak ki is khaahish aur goal ya (as per author, koshish) say dastbardaar ho jaana chahiye.
    baaqi rahay allama Aazaad, to aik personality ko kia discuss kerna, taa-ham itni aawaazain jo mujhay in kay baaray main bata rahi hain, to main kio na Quaid e Azam ki baat per trust ker loon keh Aazaad is a showboy of Congress jab keh main achi tarah jaanta hoon keh Quaid e Azam alfaaz kay moaamlay main extremely precise thay, alfaaz kay asraaf and exaggeration and jazbaati tarz e taqreer ko avoid kertay thay

    Reply
  • نومبر 12, 2015 at 3:38 PM
    Permalink

    Extremely Sorry, plz note it and correct it that statement about islam's effort for creation of a particular type of society was by Aazaad not by Wajaahat Saahib. I missed the quotation marks. But anyhow my attack was on the logic described in that statement.

    Reply
  • نومبر 13, 2015 at 12:37 AM
    Permalink

    In 2015 we should revisit Azad for once. Soghata Bose in the biography mentioned the allience of Azad, Mhatma and Birla against Subhas C Bose. The same Azad was supporter of A,B,C plan and discussed it with Wavel as written by pendral moon yet when jinah accepted Cabinent Mission plan, similar to A,B,C plan Azad had no Balls to stand. In his post partition bhasan Azad mentioned diversity of Pakistan but he did not accept diversity of Bharat.

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *