محمد علی بلوچ اور دستور کا آرٹیکل 25 (الف)

azhar mushtaqپاکستان کے ہر بڑے، چھوٹے ریستوران یا ڈھابے پر ہمیں ”چھوٹے“ دیکھنے کو ملتے ہیں، ا±ن کا اصلی نام جو بھی ہو مگر ریستوران یا ڈھابے پر آنے والے مرد وزن ا±نہیں چھوٹے کہہ کر ہی بلاتے ہیں اور وہ بڑی سعادت مندی سے ہر حکم پر جی صاحب یا صاحبہ کہتے ہوئے انتہائی چابک دستی سے کبھی کسی کے سامنے چائے، کسی کے سامنے کھانا، کسی کے آگے پانی سے بھرا جگ اور گلاس رکھتے ہیں ، کبھی کسی ”چھوٹے“ کو میز صاف نہ ہونے پر جھاڑ بھی پلا دی جاتی ہے اور جھاڑ کھانے کے بعد ”چھوٹا“ ایک کپڑا لے کر بڑی مستعدی سے میز کی صفائی کر کے ، میز کے گرد بیٹھے لوگوں سے ”اور صاحب؟“ کہہ کر استفہامی نظروں سے دیکھتا ہے۔ چھوٹے ریستورانوں اور ڈھابوں پر کام کرنے والے یہ چھوٹے اپنی عمر کے ا±س حصّے میں ہوتے ہیں جہاں اوسط درجے اورمتمول گھرانوں میں پلنے والے ا±ن کے ہم عمر سکول کے کپڑے پہنے، کتابوں سے بھرا بستہ کاندھے سے لگائے صبح سکول جاتے ہیں اور سہ پہر کو واپس اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں جہاں مائیں کھانا بنا کر اپنے بچوں کی واپسی کی منتظر ہوتی ہیں اور حتیٰ الامکان کوشش کی جاتی ہے کہ بچے کی صحت اور صفائی کا مناسب اہتمام کیا جائے۔ شاید بچوں کی یہی وہ عمر ہوتی ہے جب شعوری اور لاشعوری طور پر ا±نہیں سماجی اور مذہبی اخلاقیات کی بنیادی چیزوں کی تربیت دی جاتی ہے-
پاکستان کے بیشتر تعلیمی اداروں کے اندر چلنے والے کیفے ٹیریاز اور باہر کے اداروں سے ملحقہ کینٹینوں میں کئی ”چھوٹے“ کام کرتے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں پڑھنے والے طلبا کو سماجیات، سماجی قدروں، اخلاقیات اور حقوق و فرائض پر طویل لیکچر دئیے جاتے ہیں اور زیرِ تعلیم طلبہ کی مذہبی، سماجی، اخلاقی اور معاشی شیرازہ بندی کی جاتی ہے۔ یہ روایتی تعلیم وتربیت ہی ہے جو ایک نوجوان کو سائنسی علوم، فلسفہ، عمرانیات، معاشیات، سیاسیات، ٹیکنالوجی، طب اور دیگر علوم کے ذریعے اپنے مستقبل کا تعین کرنے میں مدد دیتی ہے مگر تعلیمی اداروں کی چار دیواری کے اندر موجود ”چھوٹے “ اداروں کے باقاعدہ طالب علموں کے برعکس ایک مخصوص کام سر انجام دیتے ہوئے جوان ہوتے ہیں اور شاید بوڑھے بھی۔ شاید ا±ن کے ذہن سازی اس خود ساختہ اصول پر کی جاتی ہے کہ ا±ن کا کام ہی یہی ہے یا وہ اسی کام کے لئے موزوں ہیں۔
محمد علی بلوچ بھی پاکستان کے ایک بڑے تعلیمی ادارے کی کینٹین پر کام کرنے والا ایک ”چھوٹا“ہے۔ اس کا اصلی نام شاید ادارے کے بہت کم طلبہ جانتے ہیں لیکن محمد علی کو اس کے لقب ’بلوچ‘ سے جانا جاتا ہے۔ ادارے سے تعلیم حاصل کر کے وہیں تدریسی فرائض سرانجام دینے والے کچھ اساتذہ سے اگر بلوچ کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ بتاتے ہیں کہ بلوچ جب کینٹین پر کام کے لئے آیا تھا تو بہت چھوٹا تھا، اکثر کینٹین کا مالک جب بلوچ کواس کی کسی غلطی پر ڈانٹ پلاتا تو بلوچ مایوس نظروں سے ادھر ا±دھر دیکھ کر آنسو بہانے لگتا، پھر کینٹین پر بیٹھے طلبامیں سے کوئی نیک دل اٹھتا اور کینٹین کے مالک سے بات کرتا کہ اتنے چھوٹے بچے کو ڈانٹنا غیر مناسب ہے۔ کئی بار ایسا بھی ہوا کہ بلوچ سخت گرمیوں کی سہ پہر کو کینٹین کے سٹور میں تھکن سے چور ننھے بدن کو اوڑھ کر سو جاتا اور مالک زبردستی ا±ٹھا کر ا±س سے کینٹین کا سب سے مشقت طلب کام کرواتا۔ وقت پر لگا کر ا±ڑتا رہا اور بلوچ کا بچپن لڑکپن میں تبدیل ہوتا گیا۔ چند سال گزرنے کے بعد بلوچ اپنے دوسر ے بھائی کو بھی کینٹین پر کام کرنے کے لئے لے آیا۔ ادارے کا ایک طالب علم جس کے ساتھ بلو چ مانوس تھا نے بلوچ کو بٹھا کر پوچھا کہ وہ ”چھوٹے بلوچ“ کو کینٹین پر کام کرنے کے لئے کیوں لایا ہے؟ بلوچ نے اطمینان سے کہا، ” صاحب یہ سکول نہیں جاتا۔ میں اسے یہاں اس لئے لایا ہوں کہ یہ نصیحت پکڑے اور واپس سکول جائے“۔
وقت کا بے لگام گھوڑا آگے کی جانب رواں ہے مگر ”چھوٹے بلوچ“کو آج تک نصیحت نہیں ہوئی اور نہ ہی وہ واپس پلٹ کر سکول گیا۔ کینٹینوں کے ٹھیکے ایک ٹھیکے دار سے دوسرے ٹھیکے دار کو منتقل ہوتے رہتے ہیں مگر بلوچ، اس کا بھائی اور اس جیسے کتنے ہی دوسرے بچے (جو اب جوان ہو گئے ہیں) برسوں سے وہیں کام کر رہے ہیں۔
حکومت پاکستان نے اپریل 2010 ءمیں 1973 ءکے آئین میں اٹھارہویں ترمیم کی جس کے نتیجے میں تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ دیگر شعبے وفاق سے صوبوں کو منتقل کر دیئے گے۔ آئین کے آرٹیکل 25 الف کی رو سے پانچ سے لیکر سولہ سال کے بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کو ریاست کی ذمہ داری قرار دیا گیا۔ آرٹیکل 25 الف کو ’تعلیم کا حق‘ کے نام سے منسوب کیا گیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اب بھی 25 ملین یعنی ڈھائی کروڑ ایسے بچے موجود ہیں جو سکول جانے کی عمر میں ہیں مگر سکول نہیں جا رہے۔ انہیں سکول نہ جانے والے بچوں میں بلوچ اور چھوٹا بلوچ بھی ہیں۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 11(3) کے مطابق چودہ سال سے کم عمر کا کوئی بھی بچہ کس فیکٹری یا کام کرنے والی کسی دوسری جگہ پر جبراً یا اپنی مرضی سے کام نہیں کر سکتا اور بچہ مزدوری کے 1991 اور 1992 کے قوانین کے تحت بھی کم عمر بچہ تعلیم، ٹرانسپورٹ اور دیگر شعبوں میں کام نہیں کر سکتا لیکن اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف کی 2015ءکی رپورٹ کے مطابق تمام قوانین کے موجود ہونے کے باوجود پاکستان بچوں سے مزدوری کروانے والے ملکوں کی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے اور یونیسیف کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ایک کروڑ بچے مزدوری کرتے ہیں جبکہ اقوامِ متحدہ کے ہی ایک اور ذیلی ادارے بین الاقوامی تنظیم برائے محنت (انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن) کا موقف ہے کہ مزدور بچوں کی تعداد ایک کروڑ کی بجائے ایک کروڑ بیس لاکھ ہے۔
یہ ایک کروڑ یا ایک کروڑ بیس لاکھ وہ بچے ہیں جو کسی جامعہ، کالج یا سکول کی کینٹین، کسی ریستوران ، کسی شاپنگ بیگ، کھیلوں کا سامان، کپڑے یا کوئی اور ضرورتِ زندگی کی چیز بنانے والے کارخانے میں کا م کرتے ہوئے زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں سے آشکار ہوتے ہیں، بلوچ اور اس جیسے کتنے بچے جنسی تشدد کا سامنا کرتے ہیں اور نشے کی لت میں پڑ جاتے ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیامحمدعلی بلوچ اور ا±س جیسے کئی دوسرے بچوں کے والدین اپنی مرضی سے اپنے جگر گوشوں کو جسمانی مشقت کے لئے بھیج دیتے ہیں؟ کیا وہ اپنے بچوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی نہیں کرتے یا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ ا±ن کا بچہ پڑھ لکھ کر اچھا انسان بنے؟ کیا انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہوتا کہ وہ اگر بچوں کو کام پر بھیج رہے ہیں تو وہاں ان کے ساتھ ذہنی، جسمانی اور جنسی تشددکے واقعات ہو سکتے ہیں؟
ایک تحقیق کے مطابق بڑھتی غربت اور بے روزگاری کی وجہ سے والدین اپنے معاشی اور سماجی حالات کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو سکولوں کی بجائے کام پر بھیجنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ شاید اسی لئے 2010ءمیں آرٹیکل 25 اے کو آئین کا حصّہ بنایا گیا تھا لیکن ریاست اور حکومتیں بنیادی اور لازمی تعلیم پر جامع پالیسی مرتب نہیں کر سکیں۔ موجودہ ریاستی نظام، اربابِ اختیار کی مسائل کے حل میں عدم دلچسپی ،موروثی سیاست اور بیورو کریسی کی من مانیوں کو دیکھتے ہوئے اس بات کا اندازہ لگانا بالکل مشکل نہیں کہ محمد علی بلوچ کے بچے بھی شاید نصیحت نہ پکڑ سکیں....

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *