میڈیا کی آزادی اور منڈی کی طاقتیں

ijaz zakaجب جھکنے کا کہا گیا، انہوں نے رینگنے کا انتخاب کیا‘ہنگامی حالات کے دوران ہندوستانی میڈیا کے آفاقی کردار سے دور ہونے کا حوالہ دیتے ہوئے، بی جے پی کے سرکردہ رہنما لال کرشن ایڈوانی نے کہا۔اپنی مخصوص فطرت کے سبب، چوتھے ستون نے حکومت کے ساتھ ہمیشہ ایک مشکل رشتہ نبھایا ہے ۔ بسا اوقات ، سہل معاملات میں بہت گرمجوش مگر بعض دوسرے معاملات میں محاذآرائی سے بھرپور۔
بتدریج، آپ مشاہدہ کرتے ہیں کہ صحافی، حکومت سے طویل قربت کے بعد، اپنے وقار کے بڑھتے ہوئے سراب کا خاتمہ کر دیتے ہیں۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مطلق العنانیت صرف طاقتور ہی کو بددیانت نہیں بناتی بلکہ یہ اہلِ اقتدار کے اردگرد موجود عناصرکو بھی بددیانت بنا دیتی ہے۔
یہ کوئی قصہ پارینہ نہیں کہ جب صحافت ذہین ترین اور دلیرترین افراد کو اپنی جانب کھینچا کرتی تھی۔یہ وہ مردوزن تھے کہ جو اعلیٰ اقدار اور بلندترنظریات سے متاثر تھے اورایک بہتر اور منصفانہ دنیا کی تخلیق پر یقین رکھتے تھے۔وہ حتیٰ کہ اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر بھی، حکومت کے سامنے حقیقت بیان کرنے اور سچ کہنے سے ہچکچاتے نہ تھے۔
کلیتاً فنا نہ ہو چکنے کے باوجود، آج یہ نسل تیزی سے کم یاب ہوتی جارہی ہے۔ ابھی بھی اس شعبے میں کئی لوگ موجود ہیں جواپنی ملازمت اور ذمہ داری کو اپنی شان اور اہداف سے بالاتر سمجھتے ہیں۔یہ انہی کی عنایت ہے کہ صحافت عزت کے کسی نہ کسی درجے پر ہنوز برقرار ہے۔
میں اوپن میگزین کے سیاسی ایڈیٹر، ہرتوش سنگھ بال کے پس منظر سے کچھ خاص آگاہ نہیں ہوں ، جسے ابھی ابھی ملازمت سے نکالا گیا ہے۔اس نے چندی گڑھ میں انڈین ایکسپریس سے اپنی ملازمت کا آغاز کیا اورایک عظیم مدیرونوڈمہتا جونئے آنے والوں کوجگہ دینے اور کندن بن جانے تک انہیں نکھارتے رہنے کے لئے اپنی شناخت رکھتا ہے، کے ساتھ کام کرنے لگا۔
یہ اوپن ہی میں ہوا کہ بال نمایا ں ہونے لگا، خود کو ایک تازہ ہوا کے جھونکے کے طور پر متعارف کروانے لگا اور ہندوستانی میڈیا کی پرہجوم دنیا میں ایک مسلسل باحوصلہ آوازکے طور پر جاناجانے لگا۔
ہفتہ در ہفتہ، وہ اعلیٰ ایوانوں میں ناانصافی اورطاقت کے ناجائزاستعمال سے لڑنے لگا۔ ’گجرات ماڈل ‘کی حقیقت کے ذریعے ہندوانہ ایجنڈے کو آشکار کرکے، کانگرس کے ماتحت بددیانتی سے ٹکرا تے ہوئے، صحافی نے کسی کو نہ چھوڑا۔
جب بھی میں نے اسے اوپن میں پڑھا، میں اس کی خاص مہارتوں پر عش عش کر اٹھا۔وہ یہ کس طرح کرتا تھا؟بہرحال،آج متعدد دیگرطباعتوں اور نیوز چینلز کی طرح، اوپن بھی نہایت غیر متزلزل کاروباری مفادات کا حامل ایک بڑے کارپوریٹ ہاؤس کی ملکیت ہے۔ میگزین کی انتظامیہ، اس سے کچھ زیادہ خوش نہ تھی جو کچھ بال کرتا رہا تھا۔ہر ہفتے، اسی ثابت قدمی کے ساتھ۔
اونٹ کی پشت پر آخری تنکا، وہ دلچسپ تحریر ثابت ہوئی، جس میں اس نے نریندرا مودی اور راہول گاندھی کا تقابلی جائزہ پیش کیا تھا۔ان کے عوامی بیانات اور طرزِ قیادت کا موازنہ کرتے ہوئے، اس نے نتیجہ نکالا کہ دو مرکزی جماعتوں کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدواروں کا دنیا کے بارے میں نقطہء نگاہ یقیناً ایک ہی ہے۔’’اپنی خواہشات کے سرد مہر مقاصد اور ذاتی اہداف میں محو، یا تحفظات کی حامل قومی حکمتی عملی کی ضروریات سے آزاد،وہ اپنے ظاہر کی نسبت،بہت زیادہ مماثل ہیں۔
اپنے بل بوتے پر ترقی کرنے والے فرد اور کسی شاہی خاندان کے ایک نااہل اور بازاری قائد کے درمیان اختلافات کو سمجھنا بہت آسان کام ہے، ایک آدمی سامنے آکر قیادت کرتا ہے اور دوسرا براہ راست کوئی ذمہ داری لینے کے لئے تیار نہیں ہے، لیکن اس کے باوجود دونوں میں بے انتہاء مماثلتیں موجود ہیں۔
مودی اور راہول دونوں کو اپنی سیاسی جماعتوں کے مفادات سے بالا تر ہو کر سوچنا چاہئے،مگر طاقت کی یہ دونوں متحرک قوتیں، ایک ہی راہ پر رواں دواں ہیں، ان میں سے کوئی دوسرے کو جوابدہ نہیں ہے۔کسی بھی جانب سے تنقید کو پارٹیاں خوش آمدید کہتی ہیں۔اس کے باوجود نہ تو کوئی اپنی چھوٹی یا بڑی غلطی تسلیم کرنے کے لئے تیار ہے،نہ کوئی کسی ایسے مشاہدہ کرنے والے سے سوال کرنے پر آمادہ ہے جو ان کی اپنی پارٹی سے متعلق نہ ہو۔مودی اور گاندھی دونوں مرد ہیں لہٰذادونوں اپنی اپنی شخصیت کے گرویدہ ہیں اور یہ واحد حقیقت ہے جو انہیں قائم رکھے ہوئے ہے۔وہ محسوس کرتے ہیں کہ ہر شخص جو ان کی پارٹی کے مؤقف سے اختلاف رکھتا ہے، ان کا دشمن ہے۔‘‘
بلاشبہ، سنجیو گوینکاجو ’اوپن‘ اور اس کے علاوہ ایک بڑی کاروباری سلطنت رکھتا ہے،میگزین کی 3اکتوبر کی اشاعت کے مضمون ، ’ہیرو اور شہزادہ‘پر آگ بگولا ہو گیا۔ اس کا جلا ل قابل فہم ہے کیونکہ وہ کانگرس کے قریب ہے(اس کا باپ کانگرسی ایم پی اے تھا)۔
گوینکاحزبِ مخالف بی جے پی ، بالخصوص اعلیٰ ترین نشست کے لئے اس کے ایسے امیدوارکو جو اپنی کم ظرفی کے لئے مشہور ہے، اپنا مخالف بنانا بھی برداشت نہیں کر سکتا۔
آخرکار وہ ہندوستان بھر میں پھیلے ہوئے تحفظ کے محتاج8مختلف شعبوں پر مبنی 16000کروڑ مالیت کی ایک عظیم کاروباری سلطنت کا مالک ہے۔
یہ حیران کن نہیں کہ بال کو کسی وضاحت کی پیش کش کئے بغیر انتظامیہ نے اس ہفتے برخواست کر دیا ہے۔ صحافی کو ایک معقول الوداعی پیکج کا لالچ دیا گیا بشرطیکہ وہ خاموشی سے غائب ہوجاتا۔مگر اس نے نیو یارک ٹائمز کو اپنے انٹرویومیں ایسا کرنے سے انکا کر دیا، اور کسی دوسری جگہ پر اپنے اچانک نکالے جانے کی وضاحت، اس کے صحافتی پروفائل کو مزید مشکلات میں مبتلا کر دے گی۔
اوپن کے ایڈیٹرمنو جوزف نے بال کو یقین دلایا کہ اس کی معزولی میں اس کا کوئی دخل نہیں ہے۔لیکن کسی خود دار ایڈیٹر کوا نتظامیہ کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئے کہ اس سے بالاہی بالااس کی ٹیم کے کسی فرد کو باہرنکال پھینکے۔
یہ کہانی مجھے چند برس پہلے کا میرا ایک ذاتی تجربہ یاد دلاتی ہے۔خلیج کے ایک نمایاں اخبار میں 9بھرپور برس گزارنے کے بعد، ان میں سے کوئی جو اس کی سرکردگی کر رہا تھا،نے مجھے نہایت آرام سے باہر نکا ل پھینکا۔نیا مالک ، جس نے میری ’دنیا کو بچانے کی خواہش مند‘ قسم کی صحافت سے اپنی ناپسندیدگی کوکبھی راز نہیں بنایاتھا، اپنے مؤقف کی وضاحت میں زیادہ شاطر تھا۔

ایک رات تمام سٹاف کو ایک عمومی ای میل بھیجی گئی، جس میں درج تھا، ’’ہمیں اعجاز کو رخصت کرنا ہو گاکیونکہ ہم مندی سے نبردآزما ہونے کے لئے ، اخراجات کو کم کرنے پر مجبور ہیں۔‘‘
لہٰذا جب میرے نکالے جانے کی خبر ، فطری طور پر مجھے سنسناہٹ میں مبتلا کر گئی تویہ انکشاف کہ معمولی تنخواہ کے ساتھ میرا عاجزانہ وجود، کسی نہ کسی طرح بین الاقوامی مالیاتی بحران کے اثرات کے ساتھ دست و گریبان ہو چلاتھا،میری راحت کا باعث بنا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *