داعش، اسلام اور مغرب

ahmad ali kazmiگذشتہ روز پیرس میں مبینہ طور پر داعش کی جانب سے مختلف مقامات پر دہشت گردی کے حملوں میں سو سے زائد بے گناہ لوگ مارے گئے۔ ایک پاکستانی کی حیثیت سے مجھے ایسے واقعات کی ہولناکی کا اندازہ ھے اور فطری انسانی ہمدردی کے ناطے مرنے والوں کے لواحقین سے بالخصوص اور فرانس بھر سے بالعموم دکھ کا اظہار کرنا بھی ضروری ھے۔
اس طرز کے حملے جن میں مسلم دہشت گرد تنظیمیں ملوث ہوتی ہیں دنیا میں کسی بھی مقام پر ہوں ایک بحث چھیڑ دیتے ھیں جس میں بنیادی امر متنازعہ یہ ہوتا ہے کہ ان دہشت گرد تنظیموں کا محرک اصلی اسلام ہے یا سیاسی حقائق۔ مزید یہ کہ ایسے واقعات کو کس حد تک رد عمل کی نفسیات کے حوالے سے سمجھا جا سکتا ھے اور کس حد تک ان کا تعلق رد عمل سے ھٹ کر ایک دقیانوسی فلسفہ و فکر سے ھے۔ مزید مغرب کی پالیسیز بھی زیر بحث آتی ھیں جن کے متعلق عمومی خیال یہ کیا جاتا ہے کہ وہ بجائے دہشت گردی کو کم کرنے کے آگ پر تیل پھینکنے کے مترادف ہیں۔ چونکہ ھمارے ہاں یہ بحث اب کافی پرانی ھو چکی ہے اور جیسا ہر پرانی بحث میں ہوتا ہے کہ دلائل اور مقدمات پر مکاتب فکر اپنی اجارہ داری قائم کر لیتے ھیں اور اکثر ایسی بحثیں سیاہ و سفید دائروں میں قید کر دی جاتی ھیں اور ان کے متعلق کسی قسم کے گرے ایریا کا امکان ختم کر دیا جاتا ھے۔
پیرس حملوں کے بعد بھی ایسا ہی ھوا۔ ایک خاص حد سے بڑھ کر فرانس سے ہمدردی جتلانے اورفرانس کے قومی پرچم کو اپنی فیس بک پروفائل پکچر بنانے والوں کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ جے یو آئی کے ایک کارکن نے ایسا کیا تو ان کو دوستوں نے فرینڈ لسٹ سے خارج کرنے کی دھمکی دی۔ فلسطین، عراق اور شام کی مثالیں دے کر ایسا کرنے والوں کو طعنہ دیا گیا کہ وہ مسلمانوں پر ہونے والے مظالم بھول چکے ہیں اور ان مظلوم ممالک کے ساتھ ایسی ھمدردی جتلانے کا خیال انھیں کیوں نہ ھوا۔ دوسری جانب وہ افراد جنھوں نے حملے پر افسوس کے ساتھ دبے لفظوں اور محتاط لہجے میں مغرب کی خارجہ پالیسی کے خطرناک عواقب و نتائج کی جانب اشارہ کرنا چاھا ان کو فورا ھی دھشت گردوں کے معذرت خواہ کا لقب عطا کر دیا گیا۔
دراصل ہم یہاں دو چیزوں کے مابین فرق نہیں کر پاتے۔ پہلا اصول یہ ہے کہ ایک معصوم انسانی جان کی قیمت اس کے مذہب، رنگ، نسل اور قومیت کا لحاظ کیے بغیر قائم ہوتی ہے اور اس سلسلے میں تمام انسان برابر ھیں۔ اس لیے جب بھی کوئی معصوم انسان موت کے گھاٹ اتارا جائے تو اس پر ھمدردی، کیسے ھی غیر معمولی درجے اختیار کر لے، جائز ھے اور اس عمل پر تنقید کا حق کسی کو حاصل نہیں اور نہ ہی ہمیں یہ تاثر دینے کی ضرورت ھے کہ جو لوگ ایسی ہمدردی جتلاتے ھیں وہ مغرب کے اسلام مخالف پروپیگنڈا سے مرعوب ھو کر مسلم ممالک پر مغربی فوج کشی کو بھول چکے ھیں۔ دوسرا اصول یہ ہے کہ جب ہم ایسے واقعات کے اسباب اور عوامل کا جائزہ لینے بیٹھتے ہیں تو باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ مدلل طریقے سے مغرب کی ایسی ریاستی پالیسیوں کو ہدف تنقید بنانا جن سے دہشت گردی کے خاتمے کی بجائے مسلسل اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ بالکل درست ھے۔ سانحہ پشاور کے بعد ھمارے ہاں لبرل طبقے نے جہاں ایک جانب جماعت اسلامی وغیرہ کو دھشت گردوں کی معذرت خواھی پر شدید جلی کٹی سنائیں وہیں فوجی اسٹیبلشمنٹ کی ضیاالحق اور مشرف دور میں اختیار کردہ پالیسیز جن سے اول دھشت گردی کا آغاز اور بعد ازاں اس میں اضافہ ہوا پر بھی کھل کر تنقید کی۔
اس مثال سے قطع نظر خود مغربی دنیا میں بھی کثیر تعدادمیں ایسے دانشور موجود ھیں جو مغربی خارجہ پالیسی میں جارحیت کو حاصل مرکزی مقام کو دھشت گردی میں مسلسل اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے ھیں اور ایسی سوچ رکھنے والے افراد کا تعلق ذیادہ تر لبرل طبقے سے ھے۔ عراق جنگ کے حوالے سے مغرب میں جس طبقے کو زاوردار ا?واز حاصل ھے اس کے خیال میں یہ بےمقصد جنگ داعش کی افزائش اور مسلم معاشروں میں ایسی تنظیموں کے لیے پائے جانے والے ایک سافٹ کارنر کا بڑا سبب ھے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسظی میں ایک نہ ختم ھونے والی ا?گ اور اس خطے کو دھشت گردوں کے لیے جنت بن جانے کی وجوھات میں امریکی و برطانوی پالیسیز کو اھم مقام دیتے ھیں۔
تاھم اس کا مطلب یہ ھرگز نہیں کہ داعش یا القاعدہ کا وجود محض سیاسی وجوھات کی بنا پر ھے اور نہ ھی ھمیں محض ایسی پالیسیز کی طرف اشارہ کر کے اپنے جھوٹے احساس طمانیت کو تھپکی دینے پر اکتفا کر لینا چاھیے۔ داعش کا تعلق اسلام سے اتنا ھی ھے جتنا کسی بھی مسلمان کا اسلام سے ھو سکتا ھے۔ داعش کے تمام تر عزائم، منصوبے، حکمت عملی، اصطلاحات اور مستقبل کے امکانات خالص مذھبی تناظر میں مقرر کیے گئے ھیں اور اپنے ھر عمل کی مذھبی توجیہ ان کے ھاں موجود ھے۔ دور کیون جائیے ھمارے اپنے ھاں پشاور میں بچوں کے قتل عام پر ھمیں احادیث کی مدد سے اس عمل کے جائز ھونے کے دلائل دیے گئے۔ اسلیے یہ کہنا کہ داعش یا دھشت گردوں کا اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں یا تو محض سادہ لوحی ھے یا پھر عوام کو گمراہ کرنے کی سازش۔ ھمیں یہ بات تسلیم کرنی چاھیے کہ ھمارے ھاں اسلام کی جو تشریح خاص طور پر گزشتہ صدی میں کی گئی ھے وہ اس تمام دھشت گردی کے سلسلے کی بڑی بنیاد بنتی ھے۔
ان تمام گذارشات کی روشنی میں میرا خیال ھے کہ اس طرز کی بحثوں میں ھمیں سیاہ سفید دائروں سے ھٹ کر سوچنے اور مدلل اختلاف کرنے کی وسعت ضرور رکھنی چاھیے۔ دھشت گردوں سے اعلان برا?ت کرتے ھوے ھمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاھیے کہ دھشت گرد یہ سب کچھ اسلام کے نام پر ھی کرتے ھیں اور ھو نہ ھو ھمارے فہم اسلام میں بنیادی نوعیت کی خرابی موجود ھے۔ ھمیں دھشت گردوں سے بے زاری کے ساتھ ساتھ ایسے اسلام سے بھی بےزاری کا اعلان کرنا ضروری ھےجو دھشت گردی کی تبلیغ و ترویج کا ذریعہ بن رھا ھے
اس کے ساتھ ساتھ ہمیں مغربی خارجہ پالیسی کا معذرت خواہ بننے کی ضرورت بھی نہیں اور صاف طور پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ جب تک مغرب اپنے سیاسی و معاشی فوائد کے حصول کے لیے دوغلی پالیسیز پر عمل پیرا رھے گا داعش جیسے مگرمچھوں کو تیرنے کے لیے پانی ملتا رھے گا۔ نیز ہمیں یہ بھی سمجھنا ضروری ھے کہ چاہے فطری وجوھات کی بنا پر ایک بے گناہ فللسطینی مسلمان کے اسرائیلی حملے میں مارے جانے کا دکھ ہمیں زیادہ ہو، خالص انسانی پہلو سے اس مسلمان اور کل پیرس میں مرنے والے ایک ’عیسائی‘ میں کوئی فرق نہیں۔

داعش، اسلام اور مغرب” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *