خواجہ صاحب: میں شرمندہ ہوں

rais naumman

ہا ں میں بہت شرمندہ ہوں، میں افسردہ بھی ہوں، میں ڈرا ہوا بھی ہوں میں لڑنا چاہتا ہوں کیوں کہ میں دکھی ہوں میرے دکھ کا سبب یہاں کا فرسودہ اور پراگندہ نظامِ انصاف ہے۔ یہاں عیار لوگوں کو سمجھ دار کہا جاتا ہے یہاں بندر کو کھلا چھوڑا جاتا ہے تاکہ وہ خوب اودھم مچا سکے اور جب وہ جی بھر کے توڑ پھوڑ کر چکا ہوتا ہے تب ہم لاٹھی سے ا±س کو مارتے ہیں اور زنجیروں میں جکڑ دیتے ہیں۔ آو مجھے بتاو کون یہاں معتبر ہے؟ کون توقیر والا ہے اور کون بے کار اور زیل ہے؟ ایک پاگل ہے جو کسی کنج گلی سے بھاگتا ہو ایہاں آیا ہے، جو چیتھڑوں میں ہے، اس سے بد تہذیبی کی باس آتی ہے اس کی جہالت عریاں ہے۔ اس کے بدن کی طرح، وہ مجھ پہ ہنس رہا ہے مسلسل ہنسے چلا جا رہا ہے ۔ میں پریشان ہوں لیکن وہ میری بے بسی پہ ہنسے جا رہا ہے۔ مجھے اب اس پاگل پر غصہ آ رہا ہے۔ میرے پاس دو راستے ہیں یا تو میں اس پاگل کو پتھر دے ماروں یا اس کے ہنسنے کی وجہ تلا ش کروں اور وجہ تلاش کرنا زیادہ مقدس عمل ہے بجائے اس کے کہ میں پتھر سے اس کے عریاں جسم کو گھائل کروں۔ کیا کوئی زمینی شرافت باقی ہے؟ کیا اعتبار اور بھروسہ کرنے کے لئے حیوانیت انسانیت سے افضل نہیں ہے؟ کیا مقتدر لوگوں نے مظلوم لوگوں کو جکڑنے کیلئے نئے پھندے نہیں بنا لئے جن پر گمرہ کن قانونِ انصاف کی بے ایمان مہریں ثبت ہیں؟
میں نے ٹی وی آن کیا تو انسانی تہذیب کا اوجِ کمال آن ہو گیا۔ ایک بوڑھا استاد زنجیروں میں جکڑا ہوا ہے۔ میرے دروازے پر دستک ہوئی، میں دروازہ نہیں کھولنا چاہتا، دستک مسلسل تیز ہوتی جا رہی ہے ۔ ٹی وی پر بو ڑھا استاد زنجیروں میں جکڑا ہے اور وہ رو رہا ہے۔ ایک سپاہی نے اس کو پیچھے سے پکڑ رکھا ہے۔ میں دروازہ کھولتا ہوں۔ پاگل تیزی سے اندر آتا ہے اور زمیں پر بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگتا ہے پھر وہ مجھے دیکھتا ہے اور پوچھتا ہے یہاں اس بوڑھے کو زنجیروں میں کیوں جکڑ رکھا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بو ڑھا ایک استاد ہے اور اس نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ پاگل پوچھتا ہے کیا اس نے بہت سے انسانوں کو قتل کر دیا ہے؟ کیا اس نے ملک کے آئین پہ شب خون ماراہے؟ کیا اس نے لوگوں کے ذہن میں انتہا پسندی کا زہر گھول کر پورے ملک کے باسیوں کیلئے ایک خطرہ پیدا کر دیا ہے؟ میں نے کہا نہیں، اس پر کرپشن کا الزام بھی ہے جس میں ابھی تک کو ئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ پاگل زور سے ہنسنے لگااور کہا جس سپاہی نے اس کو پیچھے سے جکڑا ہوا ہے ۔اس سپاہی کو سب سے پہلے پکڑو۔ جو مال نا جائز کھاتا ہے وہ تمھارے سسٹم میں پکڑا ہی نہیں جاتا اور اگر پکڑا بھی جائے تو اس طرح نکل جاتا ہے جیسے دودھ میں سے بال کیوں کہ وہ اس نظام کو پہچان چکا ہوتا ہے ۔تمھارا نظام صرف کمزور کو پکڑتا ہے۔ شریف کو رسوا کرتا ہے۔ میں نے ٹی وی کا چینل تبدیل کیا تو دیکھا کہ ایک خوبرو لڑکی بڑے طمطراق سے عدالت جا رہی ہے۔ اس لڑکی نے بیش قیمت پوشاک زیب تن کر رکھی ہے۔ ایک بزرگ آدمی اس لڑکی کو پھولوں کا ہار پہناتا ہے اور اس کو گلے لگا تا ہے۔ پاگل پھر ہنسنے لگا میں پاگل کے ساتھ نظریں نہیں ملانا چاہتا تھا۔ پاگل میری طرف دیکھ کہ ہنس رہا تھا وہ میری بات کا منتظر تھا۔
میں سوچ رہا تھا کہ ہمارے معاشرے میں ایک استاد سب سے کمزور ترین شخص ہے جس کو جب چاہے، جو چاہے، جہاں چاہے بے توقیر اور رسوا کر سکتا ہے۔ اس کی تذلیل کرنا بہت آسان ہے کیوں کہ استاد کی حیثیت کسی کو کوئی نقصان پہنچانے کی نہیں ہے جب کہ ایک سپاہی سے لو گ اس لئے ڈرتے ہیں کہ وہ آپ کو نقصان پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہے۔ ہو سکتا ہے اس بوڑھے استاد پر لگائے جانے والے الزامات درست ہوں، ہو سکتا ہے اس پر صرف اختیارات سے تجاوز کا جرم ثابت ہو لیکن جو رسوائی اور سزا اس کا جرم ثابت ہونے سے پہلے اس کو دی گئی اس کی تلافی کیسے ہو گی؟ ہمارا قانون کیسے آنکھ سے پٹی سرکا کر ایک بوڑھے لاچار استاد کو پہچان لیتا ہے اور کیسے ایک جنرل کو بچانے کیلئے نظریہ ضرورت گھڑ لیتا ہے۔ کیا اس بوڑھے استاد پر اس سے پہلے بھی کوئی مالی یا اخلاقی بدعنوانی کا الزام رہا ہے۔ ساری زندگی درس و تدریس سے وابستہ رہنے والے انسان کو ہمارا نظام کتنی آسانی سے دھکے مارتا اور ہتھکڑیاں لگاتا ہے۔ کیا منصب استاد اس قدر بے توقیر ٹھہرا کہ سیاسی اشرافیا کے کالے کرتوت چھپانے کوپیشہ استاد کے سب سے اعلیٰ منصب کو ہتھکڑیاں پہنا کر زمانے کے سامنے کردو اور کہوکہ دیکھو انصاف ہو نہیں رہا، ہوتا ہوا نظر بھی آ رہا ہے۔ مذہب کی راگنی الاپنے والے مذہبی ٹھیکے دار جو علامہ قاضی ایاز کی کتابوں میں سے کدو کو کدو شریف نہ کہنے پر قتل کے فتوے جاری کرتے ہیں آج "انما بعثت معلماَ" کی حدیث کو یکسر فراموش کئے بیٹھے ہیں۔ پاگل جو ہنسے جا رہا تھا اچانک ا±ٹھ کر کھڑا ہو گیا اور مجھ سے کہنے لگا کہ تمھارا نظام ِ انصاف ملک اسحاق کا کچھ نہ بگاڑ سکا اور بالآخر دوسرا طریقہ اختیار کر کے انصاف کیا گیا لیکن تمھارا نظامِ انصاف ایک بوڑھے استاد کو سزا دینے میں بڑا مستعد ہے۔ پاگل یہ کہتا ہوا کمرے سے نکل گیا اور مجھے لگا کہ میرا ضمیر مجھ سے رخصت ہو گیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *