یہ فساد ہے .... جہاد نہیں

syed Mujahid Aliدنیا بھر میں پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے حوالے سے غم و غصہ کا اظہار کرنے کے ساتھ یہ بات بھی کہی جا رہی ہے کہ فرانس میں ہونے والے حملوں کو آخر کیوں اتنی اہمیت دی گئی ہے۔ جبکہ محض ایک روز پہلے ہی لبنان میں دولت اسلامیہ کے حملہ میں درجنوں افراد لقمہ اجل بنے تھے۔ پاکستان سمیت متعدد مسلمان ملکوں میں ہر دوسرے تیسرے روز دہشت گرد حملوں میں انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں لیکن ان پر اس شدت سے نہ تو اظہار مذمت سامنے آتا ہے، نہ ہی اسے تیسری جنگ کا نقطہ آغاز قرار دیا جاتا ہے اور نہ ہی اسے انسانیت کے خلاف اعلان جنگ کہا جاتا ہے۔ کیا اس طرح پیرس کے مظلومین کا سوگ منا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں یا غریب ملکوں کے شہریوں کی زندگی مغربی ممالک کے شہریوں کے مقابلے میں کم تر ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے لیکن اس کا جواب ان رویوں میں پنہاں ہے، جن کا اظہار پیرس حملوں کے بعد یورپ و امریکہ کے علاوہ پاکستان ، عرب و دیگر اسلامی ملکوں میں کیا جا رہا ہے۔ اگر اس فرق پر غور کر لیا جائے تو مسلمانوں کو یہ اندازہ ہو سکے گا کہ ان کی بے توقیری کوئی دوسرا نہیں، وہ خود ہی کرتے رہے ہیں۔
یہ بات شاید پاکستانی یا عرب میڈیا میں اتنی شدت سے زیر بحث نہیں ہے جتنی قوت سے متعدد مبصروں نے مغربی ممالک میں اس سوال کو اٹھایا ہے کہ فیس بک کے علاوہ باقاعدہ مغربی میڈیا آخر کیوں غیر یورپی ملکوں میں ہونے والی خوں ریزی پر اتنا ہی پریشان اور ہراساں نہیں ہوتا جس کا اظہار پیرس میں ہونے والی دہشت گردی کے بعد کیا جا رہا ہے۔ یہاں اس بات پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس بحث اور نکتہ چینی کا آغاز عین اس وقت ہو گیا تھا جبکہ پیرس کی گلیاں انسانی خون سے شرابور تھیں، مرنے والوں کی پہچان بھی مکمل نہیں ہوئی تھی اور کسی کو اس بات کی خبر نہیں تھی کہ اس کا کون سا عزیز یا دوست اس دہشت ناک کارروائی میں ہلاک ہو چکا ہے۔ گویا انصاف کے حوالے سے مو¿قف اختیار کرتے ہوئے مغربی دانشور اور عام لوگ دیر نہیں لگاتے۔ وہ یہ دلیل نہیں دیتے کہ ابھی تو ہمارے ہاتھوں میں ہمارے پیاروں کے لاشے ہیں، اس لئے اس موقع پر یہ فضول بحث اور تکرار بے مقصد ہے۔ بلکہ وہ پوری تندہی سے عقلی و فکری جواز تلاش کرنے اور انسانوں کے بیچ استوار تعلق کے حوالے سے معاملات کو سمجھنے اور غلط کو غلط کہنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اس کے برعکس پاکستان جیسے کسی ملک میں دہشت گردی کے کسی واقعہ کے فوری بعد سب سے پہلے سازش ، دشمن کی کارروائی ، درپردہ امریکی و یہودی ہاتھ یا بھارتی خفیہ ایجنسی ”را“ کا سراغ لگانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بدنصیبی سے مرنے والوں پر افسوس کا اظہار کرنے کے لئے بھی یہ طے کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے کہ وہ کون لوگ تھے۔ ان کا عقیدہ یا مسلک کیا تھا اور کیا اس ہلاکت پر اظہار افسوس جائز رویہ ہو گا یا اسے ناجائز اور خلاف شریعت سمجھا جائے گا۔ اہل مغرب کے برعکس ترقی پذیر مسلمان ملکوں کے شہریوں کا عمومی رویہ تذبذب یا غیر یقینی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ایسے کسی سانحہ کو اپنی غلطی ماننے اور مرنے والے انسانوں کے بارے میں بیک آواز دکھ کا اظہار کرنے کی بجائے یہ حجت لانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ حملہ آور کون تھے۔ انہیں گمراہ سماجی عناصر اور مذہبی انتہا پسند قرار دے کر ان رویوں سے نبرد آزما ہونے کی بات کرنے کی بجائے، اوّل تو دشمن کو اس کا الزام دیا جاتا ہے یا یہ بتانے اور جتانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ اس قسم کے حملے دراصل ردّعمل کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ ایسی دلیل لاتے ہوئے گویا دہشت گردی کے فعل میں بے گناہ اور غیر متعلقہ لوگوں کو مارنے والے ظالم کو مظلوم سمجھنے یا سمجھانے کی کوشش کرنا معمول بن چکا ہے۔ اس طرح نہ دین کی غلط تفہیم پر بحث ہوتی ہے، نہ خونخوار مولویوں کے اشتعال انگیز اور نفرت پر مبنی مواعظ اور اسباق کو مسترد کرنے کی کوشش ہوتی ہے، نہ ملکی انتظام میں نقائص اور عدالتی طریقہ کار کی کمزوری کا احساس کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ بلکہ دلیل اور جواب دلیل کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
اسی رویہ اور مزاج کا نتیجہ ہے کہ پاکستان سمیت کسی بھی اسلامی ملک میں عقیدے کے نام پر قتل و غارت گری کو مکمل طور سے مسترد نہیں کیا جاتا۔ یہ امر باعث افسوس و شرم ہے لیکن ہمارے بیچ ہر مرحلہ پر، ہر سانحہ کے بعد ایسے لوگ موجود ہوتے ہیں جو ظالموں کو مظلوم قرار دے کر نظام بدلنے اور نئی پالیسیاں لانے کا تقاضا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ دسمبر میں پشاور آرمی پبلک اسکول پر حملہ آور معصوم طالب علموں کے بہیمانہ قتل کے سانحہ کے بارے میں بھی ملک میں دو آرا پائی جاتی ہیں۔ ایسے لوگ ہر گلی، محلہ اور طبقہ میں مل جائیں گے جو درحقیقت ان دہشت گردوں کو درست قرار دیں گے اور بعض انہیں ” مجاہدین “ کا درجہ دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ باقی ماندہ میں سے اکثر اب بھی اس سانحہ کو ایک یا دوسرے دشمن کی سازش قرار دیں گے۔ بدنصیبی سے سرکاری مشینری ، میڈیا اور مذہبی و سماجی رہنما بھی اس قسم کے رویوں کو فروغ دینے کا سبب بن رہے ہیں۔
انسان جہاں بھی قتل ہو، اسے ظلم ہی کہا جائے گا اور اسے مسترد کرنا ضروری ہے۔ لیکن کیا ہم بطور پاکستانی قوم اور بطور مسلمان اس اصول پر متفق ہیں۔ دنیا دو دہائیوں سے اسلام کی ایک یا دوسری قسم کی توجیہ کی بنا پر برپا کئے جانے والے فساد یا قتل و غارتگری کا سامنا کر رہی ہے۔ اس صورتحال میں مسلمان آخر کب تک یہ کہہ کر کندھے اچکاتے رہیں گے کہ قرآن کا حکم ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ بلاشبہ قرآن برحق ہے لیکن دنیا کی غیر مسلم آبادی اس سچ کی دلیل مسلمانوں کے عمل اور اطوار میں ہی تلاش کرے گی۔ جب تک مختلف ملکوں میں آباد مسلمان ایسے لوگ پیدا کرتے رہیں گے جو اس برحق کلام الٰہی کو مسترد کرتے ہیں بلکہ اس کے برعکس عمل کرتے ہوئے اپنے اس فعل کے لئے شریعت ہی سے دلیل لاتے ہیں اور مین اسٹریم مسلمانوں کے نمائندے فکری ، عملی اور نظریاتی طور پر اسے مسترد کرنے کے قابل نہیں ہوتے .... غیر مسلموں کے لئے یہ حکم نامہ بے مقصد اور بے معنی رہے گا۔
جو دینی رہنما اس وقت مسلمانوں کی رہنمائی کرنے کا فریضہ ادا کر رہے ہیں وہ خود گومگو کا شکار ہیں یا دو ٹوک اور واضح مو¿قف اختیار کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اس کے برعکس ایسے نام نہاد عالموں اور خطیبوں کی کمی نہیں ہے جو کسی نہ کسی عذر پر جہاد کرنے اور کفر کو مٹانے کی بات کرنے کو عین دینی فریضہ سمجھتے ہیں۔ جن مدارس کو اس وقت ملک میں انتہا پسندی پھیلانے کا بنیادی سبب سمجھا جا رہا ہے، ان سب مدرسوں میں جہاد کو اہم ترین جزو ایمان کے طور پر ازبر کروایا جاتا ہے۔ لیکن کوئی مدرّس یہ واضح نہیں کرتا کہ جہاد کا لفظ کن مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے اور اس اصطلاح کے ذریعے صرف خود سے اتفاق نہ کرنے والے انسانوں کو قتل کرنا مطلوب ہے یا اس مفسد انسان سے نبرد آزما ہونا بھی جہاد کہلاتا ہے جو ہر شخص میں برائیوں اور حرص و لالچ اور دنیاوی جاہ و جلال کی طمع کی صورت میں قوت پکڑتا رہتا ہے۔ یہ عالمان دین یہ بھی نہیں بتاتے کہ جہاد فرض ہے لیکن اس کا فیصلہ صرف حکومت وقت کے اختیار میں ہے اور عام شخص نہ تو جہاد کے نام پر جنگ جوئی کا مجاز ہے اور نہ اس کی تبلیغ کر سکتا ہے۔ ایسا کرنے والا ہر شخص گمراہ ہے اور فساد کا موجب ہے۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ جہاد کے نام پر فساد برپا کرنے والے کتنے ملا مسلمان ملکوں کی مساجد اور مدارس پر قابض ہیں اور نہایت ڈھٹائی سے گمراہی کا یہ سبق لوگوں کو ازبر کرواتے اور اسے اپنی کامیابی اور اسلام کی نصرت قرار دیتے ہیں۔ جب حکومتیں ان فسادیوں کے سامنے بے بس ہوں تو ایسی قومیں دوسروں سے اپنے مرنے والوں پر نوحہ نہ کرنے کا گلہ کیوں کر کر سکتی ہیں۔
پیرس کا سانحہ جہاد، عقیدے اور انصاف کے نام پر بے گناہ اور غیر متعلقہ انسانوں کے قتل عام کا معاملہ ہے۔ اس پر اظہار افسوس کے لئے اگر مگر کا اضافہ نہیں کیا جا سکتا۔ ایک مقتول کو دوسرے مقتول کے مقابلے پر رکھ کر دی جانے والی ساری دلیلیں بے سود اور بے وقعت ہیں۔ ایسے سارے مباحث اس انتہا پسند مزاج کا شاخسانہ ہیں جو بوجوہ مسلمانوں میں فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اور جن میں عام ، سادہ لوح اور لاعلم مسلمان کو یہ بتایا جاتا ہے کہ انہیں متحد ہو کر عالم کفر کے خلاف جہاد کرنا ہو گا۔ انہیں تسلسل سے عقیدے کی یہ مجہول تفہیم ماننے کے لئے تیار کیا جا رہا ہے کہ یہ کائنات صرف خود کو مسلمان کہلوانے والوں کے لئے بنائی گئی ہے۔ باقی ماندہ سارے لوگ کفار ہیں۔ انہیں یا تو پیغام حق ماننا ہو گا یا انہیں صفحہ ہستی سے مٹنا ہو گا۔ لیکن ایسے سارے لوگ یہ سمجھنے اور سمجھانے سے قاصر ہیں کہ دنیا کے 7 ارب لوگوں میں مسلمان ڈیڑھ ارب کے قریب ہیں۔ اگر انسانوں کا ہر گروہ دوسرے گروہوں کو ختم کرنے کا ایسا ہی تصور اختیار کر لے گا تو فساد ، خوں ریزی اور جنگ کے سوا کیا ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔
یہ درست ہے کہ پیرس کی دہشت گردی یا کسی قسم کی خوں ریزی اسلام میں ناجائز ہے۔ لیکن اس پیغام کو ماننے اور عام کرنے والے مسلمان کم اور جہاد کے نام پر فساد برپا کرنے والے زیادہ ہو رہے ہیں۔ ایسے میں مسلمان نہ اسلام کی حفاظت کر سکتے ہیں اور نہ خود کو الزام تراشی سے بچا سکتے ہیں۔ دوسروں کی ناانصافی کا گلہ کرنا جائز مگر پہلے انصاف اور مساوات کا بنیادی سبق یاد کرنا ضروری ہے۔ مسلمانوں کو بلا تخصیص یہ سبق سیکھنے، عام کرنے اور اسے تسلیم کرنے کی ضرورت ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *