چیف جسٹس کے عہد پر ایک نظر

babar sattarکسی کو اختتامِ ملازمت پر تنقید کا ہدف بنانا بد اخلاقی ہوتی ہے لیکن عوامی دفتر سے وابستہ ہونے کے ناطے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی کارکردگی اور مستقبل کیلئے وضع کردہ اصولوں کا ذکر نہ کرنا بھی درست نہیں ہوگا۔

افتخار محمد چوہدری کی بطور چیف جسٹس کے عہد کے پانچ ایسے اہم پہلو ہیں جن پر بات کی جاسکتی ہے جن میں عدلیہ کی آزادی، سوموٹو کی قوت، عدلیہ تقرریاں، عدلیہ سے متعلق اصلاحات اور ار سلان افتخار شامل ہیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا تادیر رہنے والا کام یہ ہے کہ اب کوئی بھی عدلیہ کو انتظامیہ کا حصہ بنانے کی جرات نہیں کرے گا۔ آج ، جج حکمرانوں کی حمایت سے دور ہوجانے سے نہیں ڈرتے بلکہ ہم تو اسے بہتر سمجھتے ہیں۔ چیف جسٹس ریٹائر سبکدوش ہوچکے ہیں اور ( آزاد عدلیہ کی )سرگرمی کا پینڈولم دوبارہ گھوم کر ایک ہلکی سی خراش چھوڑ سکتا ہے جسے شاید درست کرنا پڑے لیکن سپریم کورٹ کو ایک طاقت کے مرکز کی حیثیت حاصل رہے گی۔

اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ججوں کو ملنے والے آئینی تحفظ کی جنگ میں چیف جسٹس چوہدری درحقیقت اپنی ملازمت بچانے کی جنگ لڑرہے تھے۔ اورعدلیہ کی آزادی اب بھی عہدِ طفلیت میں ہے۔ ریاست کی طاقت کے سامنے ڈٹ جانے کے ان کے فیصلے کے نتائج یقیناً ان کی ذات کیلئے بہت خطرناک ہوسکتے تھے۔ اس لئے چیف جسٹس کی استقامت نے قانون کی بالادستی کا ایک در کھولا ہے۔

ایگزیکٹو کی جانب سے طاقت کے غلط استعمال پر نظر رکھنے کیلئے ایک آزادانہ عدلیہ کی ضروری کے بارے میں دو رائے نہیں ہوسکتی ۔ لیکن چیف جسٹس چوہدری کے عہد سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عدلیہ میں جانچ کا ویسا ہی اندرونی نظام ہونا چاہئے کہ جو عدلیہ میں وہ غلط کام نہ ہونے دے جن کا ارتکاب دوسرے اداروں میں ہونے پر وہ ایکشن لیتی ہے۔

حکومتی طاقت کے غلط استعمال کو روکنے کیلئے ہمیں مضبوط اور آزاد عدلیہ کی ضرورت ہے اور اس پر دو رائے نہیں ہوسکتی۔ چیف جسٹس چوہدری کے عہد سے ایک بات یہ سامنے آئی ہے کہ عدلیہ کے اندر غلط کاموں پر نظر رکھنے کا ایک نظام ہونا چاہئے اور اس میں وہ خود وہ برائیاں نہیں ہونی چاہیئیں جسے وہ دوسرے اداروں میں تلاش کرتی ہے۔

بیرونی مداخلت سے چھٹکارا حاصل کرنا آزاد عدلیہ کا ایک پہلو ہے۔ دوسرا اہم نکتہ ہے کہ کوئی بھی جج اپنے ہم منصبوں ( خصوصاً سینیئر ججوں) کے اثر سے آزاد ہوکر ذمے داریاں نبھاتا رہے۔ تاریخی طور پر موجود یہ پہلو چیف جسٹس کے عہد میں مزید مضبوط ہوا جنہوں نے کئی فیصلوں پر سخت اثر ڈالا۔

( عدلیہ کی) بحالی کے بعد ججوں کی مشترکہ خواہش تھی کہ وہ ایک ہوکر پی سی او ججوں اور این آر او حکومت سے لڑیں گے۔ پھر ہم نے بڑی بنچیں اورگمنام فیصلے دیکھے۔ غالباً یہ دوستی اس وقت ختم ہوگئی جب اٹھارویں ترمیم کو چیلنج کرنے کا وقت آیا۔ کیونکہ بعض ججوں نے ایک آئینی ترمیم کیخلاف فریق بننے سے انکار کردیا تھا اور یہ معاملہ دوبارہ پارلیمنٹ میں بھیجا گیا۔

دو مواقعوں پر اندرونی اختلافات بڑھے۔ ایک اس وقت جب میمو گیٹ کا معاملہ پیش آیا اور پھر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس پر بھی یہ تناؤ دیکھنے میں آیا۔ آخری سال میں ہم نے چھوٹی بنچوں کی تشکیل کیلئے انتظامی قوت پر بڑھتا ہوا انحصار دیکھا، آزاد ذہن رکھنے والے ججوں کو غیر اہم کیسز کے ساتھ دیگر شہروں میں بھیجا گیا جبکہ سوموٹو اور دیگر مشہور معاملات کورٹ ون کیلئے مخصوص رکھے گئے۔

جہاں تک سوموٹو کیسز اور ججوں کو نامزد کرنے کے اختیارات کا تعلق ہے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سپریم کورٹ اور جوڈیشل کمیشن دونوں کی مجموعی قوت پر اجارہ داری برقرار رکھی۔

عدالتی نامزدگیوں کیلئے خصوصی اختیارات بھی انہوں نے خود اپنے پاس رکھے۔ پھر ان تقرریوں کی جانچ پر پارلیمانی کمیٹیوں کے کردار کو بھی محدود کردیا گیا۔ چونکہ سپریم کورٹ ایگزیکٹو میں تقرریوں اور ترقیوں پر نظر رکھتا ہے اور اگر یہی اصول چیف جسٹس کی نگرانی میں عدلیہ تقرریوں پر لاگو کیا جائے تو بہت سی تقرریاں نہیں ہوسکتی تھیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے سوموٹو کا عمل بھی ایک مسئلہ ہی رہا۔ چونکہ اس کا تعلق ایک شخص کی خواہش اور عمل سے ہوتا ہے اس لئے یہ اس کے مطابق نہیں جس کیلئے اسے وضع کیا گیا تھا۔ مثلاً چینی کی قیمت بڑھانے پر ازخود نوٹس لینا سمجھ سے بالاتر ہے جبکہ ایئرپورٹ پر کسی کے سامان سے دو بوتلیں شراب کی برآمد ہونا بھی کوئی عوامی نوعیت کا معاملہ نہیں اور سوائے معروف ہونے کے اس کا کوئی مصرف نہیں۔ اس میں میڈیا کا بھی رول رہا اور چیف جسٹس کے آفس سے جاری ہونے والے سوموٹو عدلیہ کے اصولوں کے تحت نہ تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *