مکانوں کی قیمتوں میں تیز رفتا اضافہ، دبئی سرِ فہرست

Dubaiائٹ فرینک کی ایک نئی رپورٹ میں انکشاف کیا گیاہے کہ اس سال کے شروع سے ستمبرکے اختتام تک دنیا بھر میں دبئی کی پراپرٹی مارکیٹ میں قیمتیں سب سے زیادہ تیزی سے بڑھی ہیں۔
نائٹ فرینک گلوبل ہاؤس انڈیکس کے مطابق، 2012ء کی تیسری سہ ماہی سے متحدہ عرب امارات میں قیمتوں میں دنیا بھر کی 55پراپرٹی مارکیٹوں میں اوسطاً 4.6فیصد اضافے کے مقابلے میں 28فیصد سے زیادہ اضافہ ہو چکا ہے۔
انڈیکس ظاہر کرتا ہے کہ دبئی کی پراپرٹی کی قیمتیں گزشتہ 6ماہ میں 12 فیصد بڑھ چکی ہیں اور صرف پچھلی سہ ماہی سے اب تک ان میں 4.5فیصد اضافہ ہو چکا ہے۔
لندن میں قائم پراپرٹی کی مشاورتی کمپنی کی ایسوسی ایٹ کیٹ ایورٹ ایلن کے مطابق ’’انڈیکس کا تیزی سے بڑھناصرف یہ شہ سرخیاں نہیں لا رہا کہ دبئی، چین اور ہانگ کانگ میں قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے،بلکہ ان کے ساتھ ساتھ کئی دوسری پراپرٹی مارکیٹیں بھی ابھر رہی ہیں۔‘‘
دبئی کے بعد ایشیاء کی پراپرٹی کی مارکیٹ کی غالب قوتوں میں چین، ہانگ کانگ اور تائیوان طاقتور عاملین کی حیثیت رکھتے ہیں۔جنوبی یورپ کی کمزور معیشتیں ، انڈیکس کی نچلی سطح پرہیں ، جہاں کروشیا، سپین اور یونان میں گھروں کی قیمتیں تیزی سے گررہی ہیں۔ ایوریٹ ایلن نے مزید کہا، ’’ابھی بھی 17ممالک ہیں جہاں گھروں کی قیمتیں سال کے شروع سے لے کر ستمبر تک مسلسل گرتی رہی ہیں ۔۔ ان سترہ میں سے تین کو چھوڑ کر باقی سب یورپ کے ممالک ہیں۔ نچلی سطح پر صرف جاپان، جنوبی کوریا اور نیو زی لینڈیورپ کی برتری کو منقطع کرتے ہیں۔‘‘
دبئی میں قیمتوں میں حالیہ اضافہ، قیمتوں کے ایک اورہمہ وقت زوال کے خدشے میں گھرے ہوئے عرج کو جنم دے چکا ہے۔لیکن گزشتہ ماہ، محمد العبر، دبئی کی سب سے بڑی تعمیراتی کمپنی کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت 2020ء کی امارات کی نمائش کی میزبانی جیتنے کی آڑ میں قیمتوں میں اضافے کی ایک نئی لہر کو پروان چڑھانے کے لئے پراپرٹی کے کرایوں میں ’’نامنصفانہ‘‘ اضافے کی اجازت نہیں دے گی۔تحفظات موجود ہیں کہ نمائش کی میزبانی جیتنا تعمیراتی کمپنیوں کو متعدد رہائشی اور تجارتی منصوبے تعمیر کرنے پراور سرمایہ کاروں کو پراپرٹی کے شعبے میں بہت زیادہ پیسے لگانے پر آمادہ کرے گا ، جس سے قیمتوں میں ایک شدید نوعیت کا ایسا مصنوعی اضافہ ہو جائے گاجو آخر کار کسی بھی وقت اچانک نہایت تیزی سے زوال پذیر ہو جائے گا۔ایسا ایک مصنوعی اضافہ 2008ء سے 2010ء کے درمیان بھی ہوا تھا۔جس کے بعد عالمی معاشی بحران کے سبب دبئی کی پراپرٹی کی قیمتیں 50فیصد سے زیادہ گر گئیں اور ساری دنیا کی پراپرٹی مارکیٹ میں اس زوال کا ارتعاش محسوس کیا گیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *