فوٹیج چوری کا واقعہ، نئے چیف جسٹس کا پہلا از خود نوٹس

supreme_court_new_670x3501_convertedچیف جسٹس آف پاکستان جسٹس تصدق حسین جیلانی نے سپریم کورٹ سے فوٹیج چوری کے واقعہ کا از خود نوٹس لے لیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کیلئے ایڈشنل رجسٹرار محمد علی انکوائری آفیسر مقرر کر دیا گیا ہے۔ واضع رہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کیلئے فل کورٹ ریفرنس کی فوٹیج تک صرف ایک چینل کو رسائی دی گئی تھی۔ سرکاری ٹی وی سمیت دیگر تمام چینل فوٹیج سے محروم رہے۔ اس طرح پسندیدہ ایک چینل کے سوا کوئی اور ٹی وی چینل سابق چیف جسٹس کی اختتامی تقریر نہ دکھا سکا اور قوم کو جسٹس افتخار چوہدری کی اختتامی تقریر سننے سے محروم رکھا گیا۔ اس اقدام کے ذریعے سپریم کورٹ انتظامیہ نے آئین کے آرٹیکل 25 کی دھجیاں بکھیر دیں۔ آئین کے اس آرٹیکل میں بنیادی انسانی حقوق کی ضمانت دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ انتظامیہ کے اس امتیازی سلوک پر دیگر ٹی وی چینلز کے نمائندے سراپا احتجاج بن گئے۔ صحافیوں کے احتجاج پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے سٹاف آفیسر باہر آئے اور وضاحتیں کرتے رہے لیکن تسلی بخش جواب نہ ملنے پر صحافیوں نے بائیکاٹ بائیکاٹ کے نعرے لگاتے ہوئے ان کی بات سننے سے انکار کر دیا جس پر وہ واپس چلے گئے۔ میڈیا نے مطالبہ کیا تھا کہ نئے چیف جسٹس اس تعصب کا از خود نوٹس لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *