اجازت کی ضرورت نہیں

muhammad Shahzadعام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سیاستدان حضرات سچ نہیں بولتے۔ سچ عوام کو اچھا بھی نہیں لگتا۔ (دراصل کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا)۔ مگر جس طرح پانچ انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اسی طرح تمام سیاستدان بھی عادی یا پیدائشی جھوٹے نہیں ہوتے۔ ابھی دنیا میں کچھ سچے سیاستدان باقی ہیں جن کے جیتے جی سیاست کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکنا ممکن نہیں۔ نواز شریف کے سبھی ’رتن‘ جگ راتا کاٹ کاٹ کے قوم کو یہ باور کروانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آرمی چیف کا دورہ امریکہ جمہوریت کی روح کے منافی ہے۔ اس دورے سے جمہوریت کی گرتی ہوئی صحت کو نئے روگ لگ جائیں گے۔ یہ دورہ (یہاں مراد یاترا ہے، دل کا دورہ نہیں !) جان لیوا بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ ارے کوئی روکے چیف کو! ابھی ابھی تو وزیر اعظم امریکہ کی یاترا کر کے آئے ہیں۔ کم از کم جیٹ لیگ سے تو باہرآجائیں۔ افسوس کہ آرمی چیف نے تمام سرکاری، نیم سرکاری اور غیرسرکاری رتنوں کی سنی ان سنی کر دی۔ اللہ بھلا کرے ایک رتن کا جس نے سچ بول کر باقی رتنوں کی کھٹیا کھڑی کر دی۔ یہ وکھری ٹائپ کے رتن جناب خواجہ آصف ہیں جنہوں نے چیف کے دورے کے تیسرے دن یہ بیان دیا کہ انہیں امریکہ کا دورہ کرنے کے لئے کسی اجازت کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ بیان سن کر دلی خوشی ہوئی اور دل پہ رکھا بھاری بوجھ بھی دور ہو گیا۔ ہم یہ بات مان ہی نہیں سکتے۔ آخر کیسے ایک اسلامی ملک کی فوج کا سپہ سالار خلیفہ وقت (آج کی جدید زبان اور حالات میں اس کا ترجمہ وزیر اعظم کیا جائے)کی اجازت کے بغیر امریکہ یا کسی بھی ملک کا دورہ کر سکتا ہے۔انہوں نے یہ بھی فرما دیا کہ بھائی یہ دورہ تو پندرہ دن پہلے سے طے شدہ تھا۔کیا ہی اچھا ہوتا اگر خواجہ صاحب کا مذکورہ بیان پندرہ دن پہلے نہ سہی کم ازکم دورے سے ایک دن پہلے ہی آجاتا۔ بہت دیر کی مہربان آتے آتے۔ لیکن اچھا ہے پھربھی آئے تو!
ویسے ہمارا ہمیشہ سے یہ عقیدہ رہا ہے کہ قدرت کے ہر کام میں بہتری ہوتی ہے۔ اگر خواجہ صاحب کا بیان وقت سے پہلے یہ بروقت آ جاتا تو رتنوں کی فوج کو جمہوریت کا ڈھول پیٹنے کا موقع کہاں سے ملتا۔ اور ہم بھی یہ بلاگ کیسے لکھ پاتے؟یقینا اللہ بہت مسبب الاسباب ہے۔ بخدا ہم خواجہ صاحب کی نیت پر شک نہیں کر رہے مگر یہ ضرور سمجھتے ہیں کہ اس بیان میں کوئی کمی رہ گئی ہے۔ ایک اچھا رتن وہ ہوتا ہے جو مستقبل میں بھی جھانک سکے اور آنے والے برے وقت سے نمٹنے کیلئے مناسب حکمت عملی پیش کر سکے۔ اس سے پہلے کے حاسدین وزیرِ اعظم کوآرمی چیف کے بارے میں مزید بدظن کریں خواجہ صاحب کو اپنے بیان پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے۔ ہماری ناقص رائے میں اس بیان میں اختصار خوبصورتی اور سچ موجود ہونے کے باوجود تشنگی ہے۔ گو کہ اس نے دریا کو کوزے میں بند کرنے کی سعی ضرور کی لیکن پیکنگ میں کہیں جھول ہے اور ہمیں یہ خدشہ ہے کی کہیں کوزہ رسنے نہ لگے۔ ویسے بھی زلزلوں اور سیلابوں سے نمٹنے کی ہماری صلاحیت ہمیشہ صفر ہی رہی ہے۔
کیا خیال ہے اگر اس بیان کو اس طرح باندھا جائے کہ ہر خاص و عام کو مطلع کیا جاتا ہے کہ آرمی چیف کوبیرونِ ممالک دورہ کرنے کے لیئے کسی بھی جمہوری ادارے کی کوئی ضرورت نہیں ۔ نہ صرف یہ بلکہ انہیں کچھ بھی کرنے کیلئے کسی کی اجازت کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں۔اگر کسی فرد یا گروہ کو اعتراض ہے تو پاکستان کی تاریخ کا مطالعہ کر لے۔یہ گواہ ہے کہ کسی بھی ڈکٹیٹر نے سول حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے کسی سے اجازت نہیں لی۔ اس گواہی کو جھٹلانے والے کسی اچھے معالج سے اپنے دماغ کا علاج کروائیں۔ مارشل لا برحق ہے پر کہنے والا کافر!

اجازت کی ضرورت نہیں” پر بصرے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *