کیا یہ کھلا تضاد نہیں

farnood alamداعش اپنے طور پہ سرخرو ہوکر لوٹ گئی۔ جو خون میں نہلائے گئے وہ تہ خاک دفنا دیئے گئے۔ بے سمت مباحثوں کی دھول بھی تقریبا بیٹھ چکی۔ اب بات کرلیتے ہیں۔ بس یونہی۔ ویسے ہی۔ سن لینے میں حرج کیا ہے۔ انسان مثال سے سمجھتا ہے۔ تجربے سے سیکھتا ہے۔ یہ سچائی البتہ اپنی جگہ کہ سامنے کی سچائی کو جھٹلا بھی دیتا ہے۔ جھٹلا دیجئے۔ سن تو لیجئے۔ بات چلے گی، اور چلے گی دورتک۔ کہیں سے تو آغاز کرنا ہے۔ کینیڈا سے کرتے ہیں۔ چلئے چلتے ہیں۔
کینیڈا میں ایک مسلم خاتون شہری کو ریاستی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔ حکم ہوا کہ حجاب اتار دیجئے۔ جواب آیا کہ آپ میرا حجاب اتروانے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ دو سوال پیدا ہوگئے
۱۔کیا ریاست کے پاس اپنے کہے کا کوئی قانونی اخلاقی یا منطقی جواز ہے۔؟
۲۔کیا مسلم لڑکی کے پاس اپنے جواب پہ کوئی قابل فہم استدلال ہے۔؟
تجزیہ کرتے ہیں!
جواز بھی ہے اور جوابی استدلال بھی۔ ریاست سیکورٹی رسک کو بنیاد بناکر حجاب اتارنے کا حکم صادر کر رہی ہے۔ خاتون بنیادی انسانی حق کو بنیاد بنا کر حجاب پہ اصرار کر رہی ہے۔ موازنہ کرنا پڑے گا کہ ریاستی جواز طاقتور ہے کہ جوابی استدلال؟ میری نظر میں وہ استدلال زیادہ طاقتور ہے، جو مسلم خاتون نے پیش کیا۔ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہی یہ ہے کہ وہ انسانی حقوق کی فراہمی کو یقینی بنائے۔ بنیا دی حقوق میں نمایاں حق مذہب کی آزادی ہے۔ مشکل مگر یہ ہے کہ اس باب میں قدامت پسند سیاسی جماعتوں کی دلچسپیاں اپنے نعروں سے مختلف ہوتی ہیں۔ وہ انسانوں کے بجائے اپنے اپنے خداﺅں کی خدمت کرنا چاہتی ہیں۔ اب کیا کیجئے کہ ’خدائی خدمت گاروں‘ کی ان خد متوں کی قیمت حضرتِ انسان کے خون کو ادا کرنی پڑتی ہے۔
یہ طے ہوا کہ مسلم شہری کا استدلال زیادہ علمی اور زیادہ منطقی ہے۔ لیکن شہری پھر شہری ہوتا ہے۔ وہ نظم ِ اجتماعی کو متاثر کئے بغیر میسر راستوں میں پناہ تلاش کرے گا۔ ایسے میں عقل وفہم اور جذبات و احساسات کی مرکب خاتون کے سامنے چار راستے ہیں
۱۔عدالت سے انصاف مانگا جائے۔
۲۔انصاف نہ ملنے پہ اپنے آبائی ملک کو لوٹا جائے۔ سنا ہے یہ ایمان کا تقاضا بھی ہے۔
۳۔ کچھ آوازیں مزید ساتھ ملاکر ریاست کے خلاف بغاوت کردی جائے۔ اس کے لئے القاعدہ اور داعش ہی مناسب اور ہول سیل پلیٹ فارم ہیں۔
۴۔ اس دن کا انتظار کیا جائے کہ جب انتخابات کا طبل بجے گا اور خلقِ خدا اپنا فیصلہ سنائے گی۔
ہوا کیا؟
عدالت نے مسلم خاتون شہری کو مایوس کردیا۔ قانون ساز ادارے سے آس نہ رکھیئے کہ وہاں تسلط ہی کنزرویٹو پارٹی کا ہے۔ ایمان بچانے کے لئے ملک نہیں چھوڑا، حالانکہ اسلامی ممالک کی کمی نہیں تھی۔ وقت کے کسی محمد بن قاسم کو خط بھی نہیں لکھا، حالانکہ کمی ان کی بھی نہ تھی۔ وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے، اسی کا انتظار کیا۔ انتظار کا یہی دورانیہ ہے جو تہذیب کی آزمائش ہے۔ یہ میرے اور آپ کے صبر اور دانش کی امتحان گاہ ہے۔ اسی دورانئے میں مستقبل کے خطوط سنورتے اور بگڑتے ہیں۔ اس وقفے میں دو کام ہوتے ہیں۔ رائے عامہ کو ہموار کیجئے، جو در اصل مکالمہ ہے۔ یا پھر گریبان ادھیڑیئے، جو کہ مجادلہ ہے۔ پہلے کا نتیجہ ایک مستحکم اور مہذب سماج ہے۔ دوسرے کا نتیجہ الٹے قدموں کا ایک سفر ہے، جو بند گلی پہ جا کر ختم ہوتا ہے۔ پہلا کام جگر آزما لوگوں کا نصیب ٹھہرا۔ دوسرا سہل پسندوں کا کہ تشدد کا راستہ نسبتاً آسان راستہ ہے۔ مسلم خاتون اور اس کے ہمنواوں نے فطرت کی آواز پہ کان دھرا اور پہلا کام ہی کیا۔ آپ جانتے ہیں کہ کینیڈا کی اس مسلم خاتون نے صرف اپنے اینڈر وائیڈ سیٹ کی مدد سے ایسی مدلل آواز اٹھائی کہ پاکستان کے شہر مظفر گڑھ میں بھی سنائی دی۔ کینیڈا میں بسنے والے مسلمانوں اور دیگر مذاہب و مکاتب سے وابستہ لوگوں کو کیونکر سنائی نہ دیتی۔ میڈیا میں موجود قدامت پسند عنا صر نے تکنیکی چال بازیوں کا سہارا لے کر اس خاتون کے گرد گھیرا مزید تنگ کرنے کی اپنی سی کوشش ضرور کی ہوگی، مگر میڈیا ہی کا ایک بڑا حصہ خاتون کو اپنی بات کہنے کا بہتر سے بہتر موقع فرا ہم کررہا تھا۔ پھر دلیل کو ٹھکرایا تو جا سکتا ہے، جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ بات کہی گئی، بات سنی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ کنزرویٹو پارٹی کو فیصلے والے دن اپنی غلطی کا حساب دینا پڑ گیا۔ خلق خدا نے رنگ ونسل اور مذہب سے اوپر اٹھ کر فیصلہ سنا دیا۔ قرعہ فال لبرل پارٹی کے نام نکلا۔۔ جسٹن ٹروڈو اقتدار کے سنگھاسن پہ بیٹھ گیا۔ آتے ہی پہلا بول محبت کا بولا۔ کہا
’میں اپنی اس مسلمان بہن کو مخاطب کرتا ہوں، جس نے انتخابی مہم میں مجھ سے کہا تھا کہ مسٹر ٹروڈو تم نے میرے حقوق کی نگہبانی کرنی ہے۔ میری وہ بہن سنے کہ کینیڈا میں آپ کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی حاصل ہے‘۔
بجا طور پر کینیڈا کے مسلمانوں نے جشن بپا کیا۔ منہ میٹھا کرنے والوں میں باحجاب خواتین، باریش بزرگ اور مساجد کے آئمہ کرام بھی تھے۔ ایک نمائندہ مسجد کی انتظامیہ نے نو منتخب وزیراعظم کو مسجد میں مدعو کیا۔ وزیراعظم نے نہ صرف ’رزقِ حلال‘ نوش جاں کیا بلکہ محراب میں کھڑے ہوکر مسلمانوں سے مفصل خطاب بھی کیا۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں مسلمان آباد تھے، انہوں نے بھی فرط جذبات میں دیر تک ڈھول پیٹے۔ کینیڈا میں بسنے والے مسلمانوں کو مبارکباد دی۔ خاص طور سے ان مسلمانوں نے، جو میرے ملک پاکستان میں بستے ہیں۔
اک ذرا سوچیئے!
لبرل پارٹی کوئی مسلم جماعت نہیں ہے۔ وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کوئی مسلم راہنما بھی نہیں۔ مگر ان کے برسر اقتدار آنے پر آپ طیب اردووان کی کا میابی سے زیادہ کیوں خوش تھے؟ ٹروڈو بھی تو اسی مذہب سے تعلق رکھتا ہے، جس مذہب سے تعلق رکھے والے کنزرویٹو پارٹی مین اکثریت میں ہیں۔ پھر ٹروڈو کی جیت آپ کی جیت کیسے ہوئی۔ ہم جانتے ہیں کہ اس جیت کو بھی آپ نے مسلمانوں کی جیت سے تعبیر کیا، مگر مت بھولیے کہ آپ کی یہ تعبیر ہی در اصل انسانیت کی جیت ہے۔ وہ انسانیت جو دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہے، اور یہ کہ محبت اس کی کلیدی عبادت ہے۔ آپ دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کینیڈا کی قدامت پسند جماعت کیا ہماری مسلم قدامت پسند جماعتوں سے زیادہ بنیاد پرست ہے۔ کیا ان کے رہنما ہمارے اہل مذہب سے زیادہ عصبیت کا شکار ہیں؟ کیا وہ ہندو ستان کے نریندر مودی سے زیادہ سخت گیر ہیں؟ کینیڈا کی ریاست مذہبی شناخت نہیں رکھتی۔ صرف کنزر ویٹو پارٹی کے ہونے سے انتہا پسندوں کو محدود پچ پہ کھیلنے کا ماحول میسر آگیا۔ اندازہ کیجئے کہ کینیڈا اگر مذہبی شناخت پہ اصرار کر بیٹھے، تو نظم اجتماعی کی صورت کیا ہوگی۔ تب کیا ہوگا کہ جب وہاں کا آئین بھی دیگر مذاہب کے پیروکاروں کی حیثیت کا کوئی ثانوی تعین کرنے لگے۔ ہم کیوں نہ سمجھ پائے کہ کینیڈا میں ہمیں فیصلے کا حق جمہوریت نے اور مذہب کی یکساں آزادی سیکولر ازم نے مہیا کی۔ اگر ایسا نہیں، تو پھر بتلا دیجئے کہ آپ کے درد خانہ خراب کو اماں ملی تو کہاں ملی؟ ظاہر ہے کہ لبرل پارٹی میں ملی۔ جب ایک جست میں آپ کو وہیں لپکنا پڑا تو کیا یہ اس بات کا اعلان نہیں تھا کہ نظم اجتماعی کی بقا کے لئے مذہب کی بنیاد پر کوئی معاہدہ عمرانی تشکیل نہیں پا سکتا؟ کیا یہ ایک تناظر اس بات کو سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ مذہب کی بنیاد پر قوم تشکیل نہیں دی جا سکتی؟ کیا سمجھنے کو اتنا بھی کافی نہیں کہ جب کسی ریاست میں ہم خود کنزرویٹو پارٹی کا کردار ادا کر رہے ہوتے ہیں، تو وہاں بسنے والے دیگر مذاہب کے پیروکار کس کرب سے گزرتے ہیں۔؟ اگر کافی نہیں، تو اگلے کالم میں ہندوستان اور فرانس کی طرف چلتے ہیں۔ چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ۔

کیا یہ کھلا تضاد نہیں” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 20, 2015 at 2:23 PM
    Permalink

    بہت خوب فرنود صاحب۔ اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ۔ آپ نے ہم غیر فاشسٹ دیسی لبرلوں کا دل خوش کر دیا۔

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *