سائنس یا روحانیت

1953Yasir Pirzadaمیں دو امریکی سائنس دانوں سٹینلے ملر اور ہیرلڈ یورے نے شکاگو یونیورسٹی میں ایک حیرت انگیز تجربہ کیا۔اس تجربے میں ان سائنس دانوں نے لیبارٹری میں مصنوعی طور پر ایسا ماحول،درجہ حرارت اور مختلف گیسوں کی آمیزش سے وہ مخصوص حالات پیدا کئے جن کے بارے میں سائنس دانوں کا اندازہ تھا کہ آج سے تین چار ارب سال قبل کرہ ارض پر ویسے ہی حالات پیدا ہوئے ہوں گے ۔اس تجربے میں انہوںنے پانی ،متھین ،ایمونیا اور ہائیڈروجن کا استعمال کرتے ہوئے ان کیمیائی اجزا کو وہ مخصوص ماحول فراہم کیا جو زمین پر چار ارب سال پہلے میسر تھا۔دو ہفتوں کے بعد اس تجرے کے حیرت انگیز نتائج برآمد ہوئے اور سائنس دانوں نے مشاہدہ کیا کہ اس مخصوص ماحول میں گیسوں اور کیمیائی اجزا کے ملاپ سے امینو ایسڈ (Amino Acid) پیدا ہو گئے ہیں جو زندہ اجسام میں پروٹین بناتے ہیں اور یوں انہیں زندگی کا بنیادی جزو سمجھا جاتا ہے ،اس تجربے میں 20کے قریب امینو ایسڈ پیدا ہوئے جو ایک غیر معمولی بات تھی اور اس بات نے سائنس دانوں کو ششدر کر دیا،یہ تاریخ کا ایک عجیب و غریب تجربہ تھا ،اس تجربے سے پہلی مرتبہ انسان کو علم ہوا کہ کرہ ارض پر ممکنہ طور پر کیسے زندگی کا ظہور ہوا ہوگا۔
یہ کائنات کیسے وجود میں آئی ،زمین پر زندگی کا ظہور کیسے ہوا،بنگ بینگ سے پہلے کیا تھا ،اس کائنات کی انتہا کیا ہے ،کیازمین کے علاوہ بھی کہیں زندگی ہو سکتی ہے ؟ یہ سوا لات جس قدر دقیق ہیں ان کا جواب تلاش کرنا انسان کے لئے اتنا ہی مشکل اور غالباً سب سے بڑا چیلنج بھی ہے۔ان سوالات کے جواب کے حصول میں یقینا سائنس نے خاصی پیش رفت کی ہے تاہم اب بھی لاتعداد گتھیاں ایسی ہیں جنہیں سلجھانا باقی ہے ۔سائنس دانوں کا خیال ہے کہ یہ کائنات تقریباً 13.7ارب سال قبل بگ بینگ کے نتیجے میں وجود میں آئی ،بنگ بینگ کیسے ہوا اور اسے پہلے زمان و مکان کی کیا کیفیت تھی ،اس کا جواب تاحال سائنس کے پاس نہیں ۔لیکن سائنس دانوں نے بنگ بینگ کا نتیجہ کیسے نکالا ،اس کا احوال بھی دلچسپی سے خالی نہیں ۔شروع شروع میں سائنس دانوں کا خیال تھا کہ کائنات ساکن ہے ،مگر انہیں یہ خیال 1920میں تبدیل کرنا پڑا جب ایڈون ہبل نے اپنی100انچ لمبی ٹیلی سکوپ کی مدد سے ،جو اس نے کیلیفورنیا کے مائونٹ ولسن پر نصب کر رکھی تھی ،دنیا کو یہ ثابت کر دکھایا کہ گیلیکسیزنہایت تیز رفتاری کے ساتھ ایک دوسرے سے دور ہوتی جا رہی ہیں ،اور وہ جتنی دور ہو رہی ہیں اتنی ہی ان کی رفتار بڑھ رہی ہے،حتمی طور پر ہبل نے یہ بات 1929میں ہبل نے ثابت کر دی کہ کائنات پھیل رہی ہے ۔بقول اقبال ’’یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید…کہ آ رہی ہے دمام دم صدائے کن فیکون!‘‘
اب اگر کائنا ت پھیل رہی ہے تو ایک وقت ایسا بھی ہو گا جب اس کائنات کا حجم کم ہوگااور اس وقت کائنات کا تمام مادہ اور توانائی ایک ایسے علاقے علاقے تک محدود ہوگی جو نہایت کثیف اور نا قابل یقین حد تک درجہ حرارت کا حامل ہوگا۔اور اگر ہم اس سے بھی مزید پیچھے چلے جائیں تو ایک لمحہ ایسا آئے گا جسے آج ہم بگ بینگ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں ،شائد وہ تخلیق کائنات کا لمحہ تھا۔کائنات کے پھیلنے کی سب سے دلچسپ مثال ایک ایسے غبارے کی ہے جس پر نقطے ڈال دئیے جائیں اور پھر غبارے میں ہوا بھری جائے ،جوں جوںہوا بھرتی جائے گی نقطے ایک دوسرے سے دور ہوتے چلے جائیں گے ،اس غبارے کو کائنات سمجھ لیں اور نقطوں کو گیلکسیز۔اگر غبارے کا نصف قطر ہر ایک گھنٹے کے بعد دگنا ہو جائے تو پھر غبارے پر موجود دو گیلکسیز کے درمیان فاصلہ بھی ایک گھنٹے کے بعد دگنا ہو جائے گا۔یعنی اگر کسی وقت میں یہ دو گیلکسیز ایک دوسرے سے ایک انچ کی دوری پر تھیں تو ایک گھنٹے کے بعد یہ دوری بڑھ کر دو انچ ہو جائے گی اور یوں ان کی رفتار ایک انچ فی گھنٹہ سمجھی جائے گی ،لیکن اگر غبارے پر موجود دو سری گیلیکسیز ایک دوسر ے سے دو انچ کے فاصلے پر ہوں تو ایک گھنٹے بعد وہ چار انچ کی دوری پر ہوں گی اور یوں ان کی رفتار دو انچ فی گھنٹہ سمجھی جائے گی ،ثابت ہوا کہ جو گیلیکسی جتنی دوری پر ہوگی اس کے پرے ہونے کی رفتار اتنی ہی تیز ہوگی اور یہی ہبل نے ثابت کیا۔
کائنات کی تخلیق کے حوالے سے ایک اور عمل خاصا حیرت انگیز ہے جسے سائنس دان Cosmological Inflationکہتے ہیں ،یہ وہ inflationنہیں جس کا رونا ہم آئے دن روتے رہتے ہیں ،بلکہ یہ کائناتی پھیلائو ہے ۔اس سے مراد یہ ہے کہ بگ بینگ کے فوراً بعد کائنات ایک ناقابل یقین رفتار کے ساتھ پھیلی اور ایک محتاط ترین اندازے کے مطابق کائنات کے پھیلائو کی رفتار یوں تھی جیسے ایک سینٹی میٹر قطر کے برابر سکے کو اگر ہوا میں اچھالا جائے تو یکدم اس کا حجم بڑھ کر ہماری ملکی وے کی چوڑائی سے ایک کروڑ گنا زیادہ ہو جائے ۔واضح رہے کہ ملکی وے کا قطر تقریباً 100,000نوری برس کے برابر ہے اور ایک نوری برس وہ فاصلہ ہے جو اگر روشنی کی رفتار سے طے کیا جائے تو ایک سال درکار ہو اور روشنی کی رفتار تقریباً ایک لاکھ چھیاسی ہزار میل فی سیکنڈ ہے ،اس حساب سے ملکی وے کا قطر تقریباً9.5 x 10 طاقت 17کلومیٹر ہوا۔میرا حساب یہاں ختم ہو جاتا ہے !
ان نا ختم ہونے والے سوالات میں سے ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ ہم جس دنیا میں رہ رہے ہیں وہ دنیا ایسی کیوں ہے جس میں زندگی پیدا ہونے یا اس کے پنپنے کے مواقع ہیں ،سورج ہم سے اتنے ہی فاصلے پر کیوں ہے کہ اس کی تمازت ہمیں پگھلا نہیں پاتی ، سیارے اپنی اپنی جگہوں پر کیسے تیر رہے ہیں کہ زمین کو ان سے کوئی خطرہ نہیں ،کیا ہم خوش قسمت ہیں کہ ہمارا ظہور ایسے سولر سسٹم میں ہوا؟ اس کا ایک سیدھا سا جواب تو یہ ہے کہ اگریہ سب کچھ اس اہتمام کے ساتھ نہ ہوتا تو زندگی کا ظہور ہی نہ ہو پاتا اور ہم پیدا ہو کر یہ سوال نہ کرہے ہوتے کہ اس سارا سیٹ اپ ایسے کیوں ہے جیسے دکھائی دے رہاہے ۔زمین پر زندگی کی پیدائش کے حوالے سے ایک نہایت دلچسپ بات یہ ہے کہ کرہ ارض کے ابتدائی ماحول میں اس قدر شدت تھی کہ اگر ان حالات میں انسان کا بچہ پیدا ہوتا تو اس کا زندہ بچ رہنا نا ممکن ہوتایہی وجہ ہے کہ سائنس دان زمین پر زندگی کی پیدائش سے متعلق نظریہ ارتقا کو حقیقت کے قریب سمجھتے ہیں ۔لیکن نیوٹن کے بقول ہمارا عجیب و غریب سولر سسٹم کسی افراتفری یا بدنظمی کے نتیجے میں محض قدرت کے قوانین کی پیداوار نہیں بلکہ کائنات کا سارا نظم خدا کا تخلیق کردہ ہے جسے اس نے آج کے دن تک اسی حالت میں محفوظ کر رکھا ہے جس حالت میں یہ تخلیق کیا گیا تھا۔
اس لا محدود کائنات میں انسان کی اوقات کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ،جس کائنات میں ایک ملکی وے کا سفر طے کرنے کے لئے ایک لاکھ نوری سال درکار ہوںاور ملکی ویز کی تعداد کا تعین کرنا نا ممکن، اس کائنات کے اسرار جاننا آسان کام نہیں ۔یہی وجہ ہے کہ آئے دن ہم ایسے حیرت انگیز تجربات سے گذرتے ہیں جن کی ہمارے پاس کوئی توجیہ نہیں ہوتی ،کوئی عقلی جواز نہیں ہوتا ،کوئی دلیل نہیں ہوتی ،مگر وہ تمام مشاہدات ہماری زند گی کا حصہ بنتے ہیں۔انسان کو ان تمام باتوں جوابات درکار ہیں ،دیکھنا صرف یہ ہے کہ یہ جوابات اسے کون فراہم کرتا ہے…سائنس یا روحانیت!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *