مستقبل میں خوش آمدید

Future dressکیا کبھی آپ نے خواہش کی کہ کچھ ایسا طریقہ ہو کہ آپ کے دفتر کا یونیفارم بوقت ضرورت پارٹی ڈریس میں تبدیل ہو جائے، یا کوئی ایسا آلہ جو آپ کی رہنمائی کرتے ہوئے آپ کو سیدھا آپ کے نئے دوستوں تک لے جائے؟ میساچُوسٹس انسیٹیوت آف ٹیکنالوجی (MIT) کی میڈیا لیب میں تحقیق کرنے والے ایک محقق کوئلہو ایک ایسی پہنی جانے والی یا ویئر ایبل ڈیوائسز پر کام کر رہے ہیں جو اس شخص سے زیادہ اسمارٹ ہو سکتی ہیں جس نے انہیں پہن رکھا ہو گا۔ لباس کے حوالے سے سب سے امید افزا بات یہ ہے کہ ان میں ایسے کمپیوٹرز نصب کیے جا سکتے ہیں جو خود سے سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ کوئلہو کے مطابق، ’’آپ اپنی شرٹ کو پروگرام کر سکتے ہیں کہ وہ اپنا رنگ تبدیل کر لے یا مختلف شکل اختیار کر لے۔ مثال کے طور پر آپ کام پر ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کی شرٹ مخصوص طرح کی دکھائی دے مگر رات میں آپ ایک پارٹی میں جاتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہی شرٹ مختلف دکھائی دے۔‘‘

MIT Dressایک اور تخلیق ایک ایسا لباس ہے جس کا گھیرا خود ہی اوپر، نیچے ہوتا ہے۔ یا ایک اور لباس جسے ایسے پھولوں سے سجایا گیا ہے جو نہایت آہستگی سے کھِلتے اور بند ہوتے ہیں۔ 35 سالہ کوئلہو بدھ 18 نومبر کو ریو ڈی جنیرو میں ہونے والی EmTech کانفرنس کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ اس دو روزہ کانفرنس میں دنیا بھر میں مستقبل کی ٹیکنالوجیز پر کام کرنے والے ماہرین مستقبل کے پراجیکٹس کے بارے میں اپنے تجربات شیئر کرتے ہیں۔ اس طرح کی تحقیق سے پیغام یہ ملتا ہے کہ سائنس فکشن فلموں میں دکھائی جانے والی چیزیں اب بہت جلد حقیقت کا روپ دھارنے والی ہیں اور یہ حیران کن ترقی ڈرونز سے لے کر طب کے شعبے تک میں ہو رہی ہے۔

کوئلہو نے ایک ایسی ڈیوائس بھی پیش کی جو ایسے لوگوں کا پتہ لگا سکتی ہے جس سے آپ بات کر سکتے ہیں، فلرٹ کر سکتے ہیں یا پھر ان سے بچنا چاہیں گے۔ یہ ڈیوائس ایک عام گھڑی کی شکل کا کمپیوٹر ہے جس میں آپ کا ذاتی ڈیٹا موجود ہوتا ہے، یہ ڈیٹا آپ کے فیس بُک یا دیگر ذرائع سے لیا جا سکتا ہے۔ یہ ڈیوائس کمرے میں موجود دیگر افراد کی ڈیوائس سے رابطہ کرتی ہے۔ اس ڈیوائس کے بارے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کوئلہو کا کہنا تھا، ’’آپ کسی ایونٹ میں جاتے ہیں اور آپ کی کلائی پر بندھا یہ بینڈ کسی دوسرے کے بینڈ سے رابطہ کرتا ہے۔ اگر آپ میں اور اس اجنبی کے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں ہے تو اس پر سُرخ لائٹ جلنے لگے گی اور اگر مشترک ہے تو سبز روشنی۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *