چودھری نثار اور غریب الوطن پاکستانی

jamil abbasiآج کی شام ایک بہتر بیان اس طرف سے سننے میں آیا جہاں سے ویسے ہم نے کلمہ خیر کم ہی سنا۔اب کسی کی زبان تو نہیں پکڑی جا سکتی۔کہنے والا اعتراض دھر سکتا ہے کہ یہ حب علی میں نہیں بلکہ بغض معاویہ کی طرح کا بیان ہے مگر پھر بھی ۔ ہمارے وزیر داخلہ چودھری نثار فرماتے ہیں یورپ سے پاکستانیوں کے ڈی پورٹ کیے جانے کے طریقے پر اعتراض ہے۔ڈی پورٹ کیے جانے والوں کی عزت نفس کا خیال نہیں رکھا جاتا۔بیان کچھ یوں ہے
”پاکستانیوں کو ڈی پورٹ کرنے کا طریقہ کار انسانیت کی تضحیک اور پاکستانیوں کی توہین ہے “۔
درست ہے صاحب۔ تری آواز مکے مدینے! اس سے کوئی صاحب عقل انکار نہیں کر سکتا۔انسانی تہذیب یہی درس دیتی ہے کہ ہر ملک و انسان پر لازم ہے کہ وہ دوسرے کو اسی عزت و احترام اور حقوق سے نوازے جو وہ اپنے لیے خاص رکھتا ہے۔مجھے خوشی ہوئی کہ چودھری صاحب والا تبار سے کچھ اچھا بر آمد ہوا۔ عمدہ بات۔ اب اس بات کو صرف طاق پر رکھ کر پاکستانی میڈیا اور عوام کے لئے خاص نہ کیا جائے بلکہ مخاطبین تک پر اثر انداز میں پیغام پہنچنا چاہئے تا کہ کچھ نتیجہ بر آمد ہو۔مگر چودھری صاحب محترم نے جب غریب الوطن پاکستانیوں کی عزت نفس،حقوق اور توہین کی بات کی تو ہمیں کچھ یاد آیا۔
قبلہ چودھری صاحب جب اب پاکستانیوں کے بارے فکرمند ہوئے ہی ہیں تو موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں کچھ اور بھی یاد دلادیا جائے۔ یاد یہ دلایا جائے کہ اے وزیر با تدبیر ! جب عرب ممالک میں تلاش معاش کے لئے جانے والے بے یار و مددگار پاکستانی ذلت و رسوائی سے دوچار کیے جاتے ہیں ان کے بارے میں تو کبھی گوہر افشانی نہیں فرمائی جناب نے۔ کیا فرماتے ہیں قبلہ بیچ اس مسئلے میں کہ مزدور پیشہ پاکستانیوں سے ان کا پاسپورٹ چھین کر بے دست و پا کر کے کفیل کو ان کا”خدا“ بنا دینا کس اصول کی رو سے جائز ہے ؟ ایک مظلوم و مسکین پاکستانی جس کرب ناک طریقے سے اپنی اجرت تک رسائی پاتا ہے اس تکلیف دہی تک آپ کے احساس ذمہ داری اور خیال کی رسائی کب ہوگی؟اور عرب ممالک میں جو پاکستانیوں کو عربوں کے اونٹوں جتنے حقوق بھی حاصل نہیں تو اس پر کس نا خلف نے آپ کو زبان بندی کے تعویذ گھول کر پلادیے ہیں؟ اس پر کچھ خامہ فرسائی فرمائیں گے آپ یا اس نازک صورتحال پر سکوت فرمالینا کار ثواب ہے؟ حضور والا مجھے آپ کے بیان پر کوئی اعتراض نہیں۔ آپ جی جان سے بولیے۔زور سے بولیے۔ دل ما شاد! صرف دو معروضات پیش کرنے کی جسارت ہے۔ ایک یہ کہ جس طرح آپ غیر قانونی طریقے سے پناہ کے لیے یورپ پہنچنے والے پاکستانیوں کے حق میں کفن پھاڑ کر دردمندی اور انسانیت سے لبریز ہو کر بولے ہیں اسی طرح کبھی کبھار قانونی طریقے سے عرب ممالک میں جا کر مزدوری کرنے والے غریب الوطن پاکستانیوں کے لیے بہی لب کشائی فرما دیں۔ دوسرا یہ کہ عربوں سے پاکستانیوں کے حق میں حق گوئی فرماتے وقت بھی یہی گھن گرج والا لہجہ ہوجو ہمیں لگتا ہے آپ نے مولانا طاہرالقادری سے مستعار لیا ہوا ہے۔یوں نہ ہو کہ صرف سننے کو یہ ملے ”اب میں بولوں کہ نہ بولوں؟“

چودھری نثار اور غریب الوطن پاکستانی” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *