کرکٹ تنازع حل کرنے کے لئے بھی ثالث؟

majid siddiquiپاکستان اور انڈیا دونوں ممالک دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ دو آزاد ریاستیں ہیں اور اپنے اپنے فیصلوں میں مجاز ہیں۔ آج کل دونوں کے درمیان کرکٹ سیریز کا تنازع میڈیا کی مہربانی سے سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دونوں ملک گذشتہ تقریباً ایک مہینے سے اسی معاملے کے ساتھ پنگ پانگ کھیل رہے ہیں اور سرحد کے دونوں اطراف اسی معاملے کو ٹی وی چینلز کی ہیڈلائینز میں اولین جگہ مل رہی ہے۔پاکستان میں بھی سب سے بڑا سمجھا جانے والا چینل سارا دن اسی خبر کو پہلی ہیڈلائین بنائے رکھتا ہے، جبکہ باقی چینلز بیوقوف بھیڑوں کی طرح اس کی تقلید میں مصروف نظر آرہے ہوتے ہیں۔
بہرحال خبر کے مطابق، انگلش کرکٹ بورڈ کاسربراہ جائلز کلارک دونوں ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے درمیان دبئی میں تنازع کے حل کے لئے ثالث کا کردار ادا کررہا ہے اور دونوں خودمختار ملکوں کے کرکٹ بورڈز کے سربراہان اس وقت دبئی میں اسی فرنگی کی باتیں سن رہے ہیں اور ہاں ہاں میں سر بھی ہلا رہے ہیں۔قوی امکان ہے کہ گورے کی کاوشیں رنگ لائیں اور دونو ں ممالک آخر کار تنازع حل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔شکریہ گورے بادشاہ۔
سوال یہ ہے کہ خود کو آزاد اور اپنے اپنے فیصلوں میں مجاز ریاستوں کو کرکٹ سیریز کا تنازع حل کرنے جیسے معمولی معاملے کے لئے بھی کسی اور کی امداد اور ثالثی کیوں درکار ہے؟
اصل میں آزادی ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے، جوافرادیا اقوام کو وسعت قلبی، اعتماد اور فیصلے کے قوت عطاکرتی ہے۔ یہ ذہنی کیفیت شاید ابھی تک ہمیں میسر نہیں ہوسکی ہے ورنہ کرکٹ سیریز تو کیا ، کوئی بھی مشکل اور کٹھن فیصلہ ہم خود کرتے اور خود کو صحیح معنوں میں آزاد اور خودمختار کہنے کے مجاز ہوتے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *