اشتیاق احمد۔ ہماری نسل کی ایک خوشگوار یاد

saleem pashaیہ ان دنوں کی بات ہے جب ہمارے معاشرے میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو کتابوں سے لگاﺅہوتا تھا۔وہ نصابی کتب کے علاوہ ادھر ادھر سے رسائل، کہانیوں کی چھوٹی موٹی کتابیں اور ناول وغیرہ پڑھنے کیلئے وقت نکال پاتے تھے۔اس زمانے میں ٹی وی بہت کم گھروں میں ہوتا تھااور وی سی آر جیسی وبا ابھی عام نہیں ہوئی تھی بلکہ صرف خواص کا چونچلا سمجھا جاتا تھا۔ مجھے یاد ہے ان وقتوں میں ہمارے پورے محلے میں ایک رنگین ٹی وی تھا جو ہمارے دور کے رشتہ دار دبئی سے لائے تھے۔لیکن وہ ٹی وی ہمیں ان کے گھر میں کبھی کبھار دکھائی دیتااور زیادہ وقت میوزک سینٹرز کی ڈیمانڈ پوری کرنے کیلئے کرائے پر جانے میں مشغول دکھائی دیتا۔ بہر حال باتوںسے بات نکل آئی ورنہ ہمارا آج کا موضوع تواشتیاق احمد مرحوم ہیں جن کو ان کی زندگی میں اپنی جاندارتحریروں کے باوجود بھی وہ نام یا مقام نہ مل پایا جو آجکل کے معمولی لکھاری ایک ہی جست میں حاصل کرلیتے ہیں۔انہوں نے ہجرت سہی، محنت مزدوری کی، فیکٹریوں میں کام کیالیکن جب لکھنے کی جانب آئے تو اپنے زمانے کے بڑے بڑے جاسوسی کہانیاں لکھنے والوں کے درمیان پورے قد سے ان کے برابر جا کھڑے ہوئے۔ ابن صفی کے بعدان کے کرداروں کو چوری کرکے بہت سے اصحاب از قسم مظہر کلیم نے نام اور پیسہ کمایا لیکن جو نیک نامی اشتیاق احمد کما گئے وہ صرف انہیں کا خاصہ تھی۔
مذہب کی جانب بہت زیادہ رحجان رکھنے والا یہ درویش صفت انسان جس نے صفر سے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا،واقعی اپنی تحریروں کے باعث ہمارے دل ودماغ پر یوں چھایا کہ میں ایک دن میں اشتیاق احمد کے چار پانچ ناول کرائے پر لاکر پڑھنے کے بعد واپس کرکے دوسرے دن نئی کھیپ لے آتا۔ان کے ہر ناول کا آغاز ایک حدیث شریف سے ہوتا اور چند باتیں بھی ایک پیرے کی شکل میں لکھتے۔ پہلے پہل اپنے ناولوں کی پشت پر تصویر بھی لگواتے تھے لیکن بعد میں یہ سلسلہ ختم کردیا۔اشتیاق احمدنے جب لکھنا شروع کیا تو انہوں نے اپنے کردار تخلیق کئے۔انسپکٹر جمشید،محمود فاروق فرزانہ سے انہوں نے جاسوسی سلسلہ شروع کیا اور پھر ملک کے مغربی حصے کے دوسرے کردار انسپکٹر کامران، آفتاب وغیرہ کے بعد شوکی برادران، خان رحمان، پروفیسر داﺅد سب ان کے تخلیق کردہ جاندار کردار تھے۔ انہوں نے ولن کے لئے جو نام چنے، قارئین ان کے ساتھ بھی ہیروز جیسی محبت کرتے تھے۔جیرال،کالی آنکھ،سلاٹر،رے راٹا وغیرہ ان کے مستقل ولن تھے۔ان میں سے ہر ایک اپنی ذاتی خوبیوں اور خامیوںسے لیس تھا جو کسی اور کے ساتھ میچ نہیں کرتی تھیں۔ ذاتی طور پر میں جیرال کا بہت بڑا فین تھا اور جب اشتیاق احمد نے ابھی خاص نمبر لکھنے کی روایت نہیں اپنائی تھی،جیرال سیریز کے چار حصوں کو میں نے کئی بار محلے کی سب رنگ لائبریری سے کرائے پر لا کرپڑھا۔جیرال ایک بااصول مجرم جو اپنے دشمن کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں کرتا اور اپنی زبان سے کہے ہوئے الفاظ کو ہمیشہ پورا کرتا،جبکہ اس کے مقابلے میں کالی آنکھ ایک مکار اور دغاباز ولن تھا جو ہر کمینی حرکت کرنے میں کوئی عار نہیں سمجھتا تھا۔ اشتیاق احمد نے اس زمانے میں جاسوسی ادب کے قارئین کے دلوں کو مٹھی میں کررکھا تھا۔ بچوں کا رحجان اپنی نصابی کتب سے ہٹ کر اشتیاق احمدکے ناولوں کی طرف جاتا دیکھتے ہوئے کچھ والدین نے اپنے بچوں پر کڑی نظر رکھنا شروع کردی لیکن یہ اشتیاق احمدکی تحریروں کا جادو تھا کہ ایک دفعہ ناول ہاتھ میں پکڑ کر اسے ختم کئے بنا نہیں رہا جاتا تھا۔ ہرماہ اشتیاق احمدکے تین ناول آتے جن میں دو تو انسپکٹر جمشید اور ایک کامران سیریز کا ہوتا تھا۔ جب خاص نمبر آتا تو یہ سب کردار اس میں اکٹھے ہوجاتے۔ ایک وقت آیا لائبریری سے اشتیاق احمد کے پرانے سب ناول میں نے پڑھ ڈالے تو پھر اس کے نئے ناولوں کیلئے پورا مہینہ انتظار کی سولی پر لٹکے رہنا پڑتا۔اس کا حل یہ نکالا کہ میں نے اشتیاق احمد کے ناول کرائے پر لینے کی بجائے خریدنے شروع کردئیے۔ میں ان دنوں سکول پڑھنے کے ساتھ ساتھ فروٹ منڈی میں کام پر لگ چکا تھا اس لئے ناول پلے سے خرید کر پڑھ لیتا اور پھر لائبریری کو دے دیتا۔
اشتیاق احمدنے خوب پیسہ بھی کمایا ،اپنا مکتبہ کھولا،اس طرح پبلشروں کی بلیک میلنگ سے نجات حاصل کی۔اب انہوں نے بڑوں(بالغوں) کیلئے لکھنے کی کوشش کی ۔اس سلسلے کا پہلا ناول ” لوہے کی لڑکی“ پڑھنے کو ملا۔ناول کیا تھا،میںتو خود حیران ہواکہ اتنا بہترین پلاٹ اور کہانی کہ کیا کہنے۔ اگر اشتیاق احمد اس میدان میں بھی آتے تو یقین ہے کہ وہ عمران سیریز لکھنے والے چور لکھاریوں کے چھکے چھڑا دیتے۔اس ناول میں اشتیاق احمدکو مجبوراً کچھ بوس وکنار کے سین لکھنے پڑے جو ان کی درویشی طبیعت سے میل نہیں کھاتے تھے، شاید اسی بناءپر انہوں نے ایک ہی ناول کے بعد یہ سلسلہ موقوف کردیا۔ ان کی دیکھا دیکھی اشتیاق احمد کے چھوٹے بھائی آفتاب احمد نے بھی لکھنا شروع کیا لیکن اس پر اپنے بڑے بھائی کی چھاپ اتنی زیادہ تھی کہ وہ دوتین ناول لکھنے کے بعدمارکیٹ سے غائب ہوگیا۔
اشتیاق احمد کا زوال تو ہر گز نہ کہیں گے لیکن ان کی تحریروں کی شام ذرا جلدی آگئی،وہ بھی انٹرنیٹ،سوشل میڈیا کے ہاتھوں۔میں نے ان کا ایک ہی انٹرویو پڑھا جب وہ اس کیفیت میں سے گذر رہے تھے اور زمانے کی چال کو اپنے خلاف چلتے ہوئے محسوس کررہے تھے۔انہوں نے کس کرب سے یہ جملہ بولا ہوگا کہ” میرے ناولوں کو انٹر نیٹ اور موبائل فون کھا گیا“۔ وہ اشتیاق احمدجس کے ناولوں کا پڑھنے والے پورا مہینہ انتظار کرتے تھے،اب ان کے ہاتھوںمیں سمارٹ فون اور ان پر کھلی ہوئی فیس بک نے مطالعے کا ذوق شوق چاٹ لیا۔بے شک ٹیکنالوجی میں ناگزیر طور پر تبدیلی آتی رہتی ہے ۔جیسے کہ وی سی آر اب قصہ پارینہ بن چکا،لیکن مغرب جس نے یہ سب ’خرافات‘ ایجاد کرکرکے دنیا میں پھیلائی ہیں،وہاں تو ابھی بھی کتابوں سے عشق قائم ودائم ہے۔میں روزانہ پبلک ٹرانسپورٹ پر اپنے دفتر جاتا ہوں اور مرد وخواتین کو اپنے ہاتھوں میں کتابیں کھولے پڑھتے دیکھتا ہوں تو حیرت ہوتی ہے۔ کیا ان لوگوں کے پاس کمپیوٹر،موبائل وغیرہ نہیں ہیں؟ بلکہ مجھے یاد آیا میرے دوست طاہر اسلم گورا صاحب نے مجھے پہلی بار ٹورانٹو کی زیر زمین ٹرین یعنی Subwayکے سفر کا تجربہ کرایا تو بولے”پاشا جی یہ بہت مزے کا سفر ہوتا ہے،سکون اور پرامن ماحول میں بیٹھ کر میں نے اپنی زندگی کے اچھے ناول اسی میں پڑھے ہیں“۔ جن کے پاس کتاب نہیں وہ ٹیبلٹ پر ای بک کھولے پڑھ رہے ہوتے ہیں۔ ہماری نسل کے طالبعلم اگر اشتیاق احمد سے پڑھنا شروع کرتے کرتے آگے بڑھتے ہوئے منٹو،عصمت چغتائی،بیدی،میکسم گورکی، چیخوف،ٹالسٹائی تک پہنچ کر اب خود قلم سے کھیلنے لگے ہیں تو اس میںہمیں لفظ اور قلم سے محبت پیدا کرنے میں اشتیاق احمد کا پورا حصہ ہے ۔ ان جیسے لکھاریوں کے نام سے ادارے بننے چاہئیں جہاں ان کے نام اور کام سے نئی نسل کو آگاہ کیا جائے۔

اشتیاق احمد۔ ہماری نسل کی ایک خوشگوار یاد” پر ایک تبصرہ

  • نومبر 24, 2015 at 1:51 AM
    Permalink

    ایک ایسے معاشرے میں جہاں لکھنا پڑھنا معدودے چند لوگوں کا شوق ہو، ہر طرح کے لکھنے والے کا دم غنیمت سمجھا جاتا ہے لیکن مرحوم کی یاد میں لکھے جانے والے مضامین میں کہیں اس جہالت کا ذکر نہیں ملتا جو وہ دھڑلے سے اپنے ناولز کے ذریعے نوجوان ذہنوں میں انڈیلتے رہے ۔۔۔ یہ بات قابل افسوس ہے کہ ہم ان کی تحریروں کے اس پہلو پر بات کرنے سے گھبراتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اگر پاکستان جیسے پسماندہ معاشرے میں محض کتاب لکھ لینے کا مطلب ہی نوجوانوں میں ذوق مطالعہ پیدا کرنے کی کلغی کسی کے سر پر سجا سکتا ہے تو پھر "وہی وہانوی" کی خدمات کا بھی اعتراف کیا جائے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *