فیض کے نام پر ایک مذموم ادبی جعل سازی

asghar nadeemکینیڈا سے فیض احمد فیض فیسٹیول میں شرکت کے لیے اشفاق حسین آئے ہوئے ہیں۔ طالب علمی کے زمانے سے ترقی پسند ہیں اور فیض دوستی کی سکہ بند مثال ہیں۔ کم سے کم دس کتابیں فیض صاحب پر لکھ کے فیض شناسی میں اپنا حصہ ڈال چکے ہیں۔ سبط حسن نے تربیت کی۔ پھر کراچی سے تعلیم پانے کے بعد باہر چلے گئے۔ آج ملے تو ایک کتاب مجھے تھما دی اور کہا یہ ضرور پڑھنا۔ کتاب پاکستان سے ابھی چھپ کے آئی ہے۔ کتاب کا نام ہے ”فیض بیروت میں۔ حقیقت یا فسانہ“۔ جب کتاب کو کھولا تو اندر سے شعلے برآمد ہوئے۔ پوری کتاب پڑھ ڈالی اور معلوم ہوا کہ ایک صاحب جو کبھی جدہ میں تھے اور پھر معلوم نہیں کہاں کہاں تھے۔ آج کل کینیڈا میں ہیں۔ نام ان کا تسلیم الٰہی زلفی ہے، نے ایک فرضی اور خیالی کتاب ”فیض احمد فیض بیروت میں“ 2011 ءمیں لکھی اور اکادمی ادیبات کو ماموں بنا دیا اور فیض کے نقادوں اور فیض فیملی سب کو ٹوپی پہنا دی اور 2011 ءسے 2015 ءتک کسی کو پتہ نہ چلا کہ یہ ایک جعل سازی ہے اور مکمل طور پر مہارت کے ساتھ پوری دنیا کو بیوقوف بنا دیا گیا ہے۔ اس وقت اکادمی ادبیات کے چیئرمین فخر زمان صاحب تھے جو پاکستان میں ذرا کم ہی رہتے تھے۔ میں اگر کچھ اور بولوں گا تو ان کے جیالے میری سرکوبی کو آجائیں گے۔ ویسے وہ بالکل نہ جیالے تھے اور نہ ہیں۔
معلوم نہیں فخر زمان کو کس طرح تسلیم الٰہی زلفی نے شیشے میں اتارا کہ اکادمی ادیبات نے وہ کتاب شائع کر دی جس کے بیک ٹائٹل پر ایک تصویر تھی۔ اکادمی کا کوئی بھی افسر اس تصویر کی صداقت کو نہ پہچان سکا۔ اس لیے کہ اکادمی ادبیات سرکار کی جانب سے تقرریاں کرتی ہے۔ اس میں اچھے افراد بھی ہوتے ہیں لیکن ضروری نہیں وہ پیشہ ورانہ صلاحیتوںکے حامل ہوں۔ خیر وہ تصویر جسے آج کی ٹیکنالوجی سے تبدیل کر دیا گیا وہ اصل میں یہ تھی کہ وہ تصویر 1979 ءمیں لوٹس کے دفتر کی افتتاحی تقریب کے موقع پر لی گئی تھی جس میں یاسر عرفات اور فیض صاحب آنے والے مہمانوں کا مسکراتے ہوئے استقبال کر رہے ہیں۔ تسلیم الٰہی زلفی نے بڑی آسانی سے اس تصویر میں یاسر عرفات جن صاحب کا استقبال مسکراتے ہوئے کر رہے ہیں وہاں اپنی تصویر لگا دی اور اکادمی ادیبات کی کتاب پر وہ تصویر چسپاں کر دی۔ جس سے یہ لگتا ہے کہ یاسر عرفات اور فیض صاحب مسکراتے ، ہنستے ہوئے تسلیم الٰہی زلفی کا استقبال کر رہے ہیں۔ میں تو حیران بلکہ پریشان رہ گیا کہ میں نے فیض صاحب کے ساتھ آخری سال اور کئی سال گزارے ہیں۔ فیض صاحب ایک نامعلوم شخص کے استقبال میں اس طرح کیسے یاسر عرفات کے ساتھ کھڑے ہو سکتے ہیں۔ اس لیے کہ فیض شناسی کی میں بے شمار کتابیں پڑھ چکا ہوں۔ میرا فیض کے خاندان 12279109_10153161679245496_1137364041167288170_nسے لڑکپن کا واسطہ ہے۔ کبھی ان صاحب کا نام نہ کہیں پڑھا نہ سنا۔ تو پھر فخر زمان نے کس طرح انہیں دریافت کیا اور پوری ایک کتاب کے لیے ان پر بھروسہ کر دیا۔ ایک بات تو واضح ہے کہ فخر زمان صاحب نے فیض صاحب کو نہ پڑھا ہے نہ جانا ہے نہ ہی فیض صاحب کے ساتھیوں مثلاً عبداللہ ملک، حمید اختر، سبط حسن، سجاد ظہیر، احمد ندیم قاسمی، حسن عابد، کشور ناہید کی لکھی ہوئی یادوں کا مطالعہ کیا ہے۔ ورنہ وہ بڑی آسانی سے یہ جعل سازی پکڑ لیتے۔لیکن ہو سکتا ہے انہوں نے کتاب سرے سے پڑھی ہی نہ ہو۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اکادمی ادبیات نے کوئی ایڈیٹر نہیں رکھا ہوا جو شائع ہونے والی کتاب کی حقیقت پر رپورٹ دے۔ بہرحال تسلیم الٰہی زلفی بہت پہنچے ہوئے جعل ساز نکلے ہیں کہ دیدہ دلیری سے اکادمی سے کتاب شائع کرائی اور پھر اس کا دوسرا ایڈیشن بھی جعلی طور پر شائع کر دیا۔ پرنٹ لائن اکادمی ادیبات کی بحیثیت پبلشر شائع کر دی۔ جب اشفاق حسین نے موجودہ اکادمی ادبیات کے چیئرمین قاسم بگھیو سے پوچھا کہ دوسرا ایڈیشن کب شائع ہوا تو انہوں نے تحریری جواب دیا کہ ابھی تو پہلا ایڈیشن موجود ہے تو دوسرے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ قاسم بگھیو صاحب تسلیم الٰہی زلفی کو نوٹس بھیج رہے ہیں کہ جعلی ایڈیشن کیوں شائع کیا۔ مزید برآں فخر زمان کی طرف سے شائع ہونے والی کتاب ”فیض احمد فیض بیروت میں“ کے پہلے ایڈیشن کو جعلی ہونے کی وجہ سے ضبط کر رہے ہیں۔
دیدہ دلیری دیکھیں کہ زلفی نے کینیڈا میں خبریں لگوائیں کہ انہیں حکومت پاکستان نے ستارہ امتیاز سے نوازا ہے۔ اس کے بعد اپنے اعزاز میں کئی دعوتیں بھی وصول کر لیں۔ جب وہاں کے ادیبوں نے افتخار عارف اور دوسرے سرکاری ذرائع سے معلومات لیں تو معلوم ہوا یہ ایک جھوٹی اور بے بنیاد خبر ہے کیونکہ سرکاری نوٹیفکیشن کا ریکارڈ جھوٹ سچ بتا دیتا ہے۔ اب ذرا کتاب کی طرف آئیں تو جو بھی فیض صاحب کے مزاج سے واقف ہے وہ پلک جھپکتے میں جان سکتا ہے کہ تمام واقعات سفید جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ پھر بھی اشفاق حسین نے ایک ایک واقعے کو جھوٹ ثابت کرنے کے لیے دستاویزی ثبوت اور دلائل کا سہارا لیا ہے۔ جذباتی اور سطحی انداز اختیار نہیں کیا۔ موصوف تسلیم الٰہی زلفی بتاتے ہیں کہ ان کی عمر اس وقت اکتیس سال کی تھی او وہ 1978ءسے 1982 ءتک کے عرصے میں فیض صاحب کے ساتھ رہے۔ کہیں کہتے ہیں وہ وہاں پڑھنے آئے تھے ۔ کہیں کہتے ہیں وہ ایئر لائن کی ملازمت کر رہے تھے۔ اشفاق حسین کی تحقیق یہ ہے کہ 1978 ءمیں فیض صاحب بیروت میں نہیں تھے۔ بہرحال ایک اکتیس سال کے نوجوان کے ساتھ فیض صاحب کا اس حد تک بے تکلفانہ انداز چار سال تک ایسے رہا جیسے وہ میاں افتخار الدین ہوں۔ مظہر علی خان ہوں۔ عبداللہ ملک ہوں یا حمید اختر ہوں۔ واضح رہے کہ یہ فیض کے آخری سال ہیں جب وہ حالات سے کافی حد تک دل شکستہ تھے۔
اگر میں اس کتاب کے دوسرے جعلی ایڈیشن کے بیک پر شائع تصویر کو دیکھتا ہوں تو ہنسی چھوٹ جاتی ہے۔ اس صفحے پر اکادمی آف لیٹرز اسلام آباد پاکستان درج ہے اور تصویر کے نیچے لکھا ہے۔
”بیروت 1978 ءیاسر عرفات اپنے پی ایل او آفس میں فیض احمد فیض اور تسلیم الٰہی زلفی کا استقبال کر رہے ہیں“۔
tasleemتصویر میں یوں لگتا ہے جیسے زلفی جس کی عمر صرف اکتیس سال ہے کسی ملک کا سربراہ ہے جس کے سامنے ستر ستر سال کے دو عظیم انسان بچھ بچھ جا رہے ہیں اور جھک کر استقبال کر رہے ہیں۔ زلفی نے مسلسل ایسے واقعات درج کیے ہیں جس سے فیض ایک مجبور اور لاچار جلاوطن کے طور پر ابھرتے ہیں جو ہر وقت زلفی کی رفاقت، دوستی اور توجہ کے لیے ترستے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ زلفی اپنی گاڑی بھی منگوا لیتا ہے جو فیض صاحب کے کام آتی رہتی ہے۔ حالانکہ یاسر عرفات نے انہیں گاڑی دے دی تھی اور اس بات کا ذکر ایک خط میں فیض صاحب نے کیا ہے۔ فیض سے بے تکلفی کی ایک جھلک دیکھیں ۔ لکھتے ہیں۔ فیض صاحب نے ان کی ایک رومانی نظم سننے کے بعد بے ساختہ یہ خواہش ظاہر کی کہ وہ انہیں بھی کسی دن بیروت کی نائٹ لائف دکھلانے لے چلیں۔ فیض صاحب نے وہ طویل رومانوی نہیں ’رومانی‘ نظم سنی جس کا ایک شعر آپ کے ذوق کی نذر ہے۔
شارع حمرا پہ ڈھایا نوجوانوں نے غضب
مہوشوں سے جب ہوئے سینہ بہ سینہ لب بہ لب
فیض صاحب نے اس پر کہا ۔ ”بھئی نظم کی اٹھان تو اچھی ہے۔ جب مکمل ہو جائے تو ہمیں ضرور سنائیے گا۔ لیکن اس نظم میں آپ نے جن مقامات کا ذکر کیا ہے اور نقشہ کھینچا ہے تو کبھی ہمیں بھی ان کی سیر کروائیں“۔
فیض صاحب کو جاننے والے سمجھ سکتے ہیں کہ فیض صاحب کا برتاﺅ ایک نامعلوم لونڈے کے ساتھ اس طرح کا ہو سکتا ہے؟
زلفی میاں کے بے شمار واقعات اشفاق حسین نے درج کیے ہیں ۔ ایک مختصر کالم میں اس کی گنجائش نہیں لیکن ایک بیان جو فیض صاحب کی زبانی ہے نقل کرتا ہوں تاکہ اندازہ ہو جائے کہ ایسا لب و لہجہ فیض صاحب کا ہو ہی نہیں سکتا۔
”زلفی میاں ہمیں آپ کی عربی دانی پر رشک آتا ہے کہ آپ نے شہر جدہ کے ایک عربی سکول ”مدرستہ الفلاح“ سے محض پرائمری پاس کی ہے لیکن عربوں کی طرح فر فر عربی بولتے، پڑھتے اور لکھتے ہیں جبکہ ہم نے تو عربی میں ماسٹرز کیا ہے .... لیکن مولوی مدن جیسی بات کہاں“۔
زندگی کے آخری برسوں میں فیض کسی نوجوان کو اس طرح مخاطب کر کے کیا ایسی بات کر سکتے ہیں؟ یہ بول چال کی اور فیض صاحب کی بول چال کی زبان تو ہرگز نہیں ہے۔ ہم حیران ہیں کہ پاکستان کے ایک اہم قومی ادارے نے یہ کتاب چھاپی ہے۔ اکادمی ادبیات کو اس پر اپنی صفائی دینی چاہیے۔ یا تو اشفاق حسین کی کتاب کا مدلل جواب دینا چاہیے یا پھر اپنی شائع شدہ کتاب کے جعلی ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے اپنی ساکھ بچانے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔ اتنی بڑی جعل سازی کے ذمہ داروں کا تعین ہونا ضروری ہے۔ ادبی اداروں اور ادیبوں کو ایسے شخص سے خبردار رہنا چاہیے۔

فیض کے نام پر ایک مذموم ادبی جعل سازی” پر بصرے

  • نومبر 24, 2015 at 5:07 AM
    Permalink

    میں نے قیام بیروت کے دوران وہ جگہ دیکھی ہے جہاں لوٹس کا دفتر اور فیض صاحب کی قیام گاہ تھی. اسے اسرائیلی حملے کے دوران ڈھا دیا گیا تھا اور اب وہاں کوئی اور عمارت ہے. اتفاق سے یہ جگہ بیروت کی "نائٹ لائف" کے مرکز کے تقریبا وسط میں ہے. نجانے فیض صاحب کی نظر آتے جاتے اس پر کیوں نہ پڑ سکی اور کیونکر انہیں اس باب میں زلفی صاحب کی خدمات درکار ہوئیں. جبکہ ان کے پسندیدہ "یونس کافی شاپ" سے گھر آتے جاتے اس علاقے سے ہر روز گزرنا پڑتا تھا.

    Reply
  • نومبر 24, 2015 at 9:29 AM
    Permalink

    تسلیم الہی زلفی صاحب کے اس حوالے سے بڑے کا رنامے ہیں ۔ کسی بڑے شا عر کی نظم ا س کے بیٹے کے سا منے اپنی نظم کہہ کے سنا سکتے ہیں ۔ جگجیت کی گا ئ کسی غزل کو اپنے نا م سے سنا سکتے ہیں ۔ کا فی معصوم ہیں وہ اس معا ملے میں ۔۔ لیکں ان سے ذیا دہ معصوم وہ ادارہ ہے جس نے اس کتاب کو چھا پا ۔۔۔۔۔ اشفا ق حیسن کی دلیری کی قدر ہے

    Reply
  • نومبر 25, 2015 at 3:24 AM
    Permalink

    یہ ایک اہم مضمون ہے،تسلیم الہی زلفی صاحب اس معاملے پر حسب معمول خاموشی اختیار کرکے ہمارے خدشات دور نہیں کرسکتے۔ اس کی ایک ہی صورت ہے کہ مدلل انداز میں اس کا جواب دیا جایے تاکہ دوددھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو۔ اصغر ندیم سید جیسی شخصیت کی طرف سے اس بات کا کہا جانا ایسے ہی نہیں ہوسکتا۔ وضاحت بہت ضروری ہے تاکہ میرے جیسے اور بہت سے اشخاص کی تسلی ہوسکے جو زلفی صاحب کا ہرجگہ ساتھ دیتے رہے ہیں۔

    Reply
  • دسمبر 3, 2015 at 6:44 AM
    Permalink

    بہت تعجب کی بات ہے کہ تسلیم الٰہی زلفی صاحب نے ایسی تلبیس اور دجل کو روا رکھا، جن حضرات نے اس کا نوٹس کیا اور اس مکر و فریب کا پردہ چاک کیا، ان سب کا شکریہ
    یہ بات وہم و گمان میں بھی نہ تھی کہ ایسے لوگ بھی ہو سکتے ہیں اور کذب و افتراء اور مکر و تزویر کے ایسے دام بھی بچھائے جا سکتے ہیں،،، بیسویں صدی کی کسی ادبی شخصیت سے متعلق سب سے بڑا گھپلہ اور فریب شاید یہی ہے،،،
    جناب اصغر ندیم سید صاحب نے 'فیض کے نام پر ایک مذموم ادبی جعلسازی' مضمون لکھ کر ایک جامع تبصرہ فرمایا ہے، جس سے تمام تلبیسات اور مکر و دجل و فریب کا ایک مختصر اندازہ لگایا جا سکتا ہے، مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب اشفاق حسین صاحب نے بہت اہم کام کیا ہے اور اپنی کتاب میں ایک ایک بات کا رد کرکے آنے والی نسلوں پر احسان کیا ہے،
    ...... چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد.؟
    وصی بختیاری

    Reply
  • نومبر 27, 2017 at 10:19 PM
    Permalink

    یہ جھوٹ اور دجل اس وقت اور واضح ہوا جب جناب زلفی صاحب نے دبستان انٹرنیشل کے بینر تلے اس کتاب کی رونمائی کروا دی اور اس وقتانکا جھوٹ ابھر کر باہر آ گیا۔اس تقریب میں سابق سفیر غوری صاحب نے انکے جھوٹ کو بے نقاب کیا اور اس موقعہ میں ہونے والی اختلافی بحث ہی اس مبینہ جھوٹ کو بے نقاب ہونے کا پیش خیمہ بنی۔ اس بات کا بہت افسوس ہے کہ ایک فیض صاحب سے منسوب ہو کر اتنے مبینہ جھوٹ بولیں جائیں۔ گر کیا کہا جائے۔ اشفاق حسین کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ ایک تاریخی واقعہ کی درستی پر ایک خوبصورت اور اہم کتاب تحریر کی ہے

    Reply

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *