مندر میں جانا ہے تو ساڑھی پہننا ہوگی

Varanasi_davidبھارت میں سکول اور کالجوں کے بعد اب مندروں میں بھی ’ڈریس کوڈ‘ کا نفاذ عمل میں آنے لگا ہے۔ وارانسی یا بنارس کے مشہور کاشی وشووناتھ مندر کی انتظامیہ نے غیر ملکی زائرین کے لیے مخصوص لباس پہننے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ بی بی سی کے ساتھ بات چیت کے دوران کاشی وشوناتھ مندر کی ایگزیکٹیو آفیسر پی این دویدی نے کہا کہ ’یہ قوانین سنیچر سے ہی نافذ کر دیے گئے۔‘ دویدي کے مطابق عقیدت مند زائرین کی شکایات کے بعد ہی نئے ضابطے نافذ کیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ غیر ملکی مردوں اور خواتین کے لیے دھوتی اور ساڑھی کا انتظام کیا گیا ہے جو مندر کے احاطے میں موجود کاؤنٹر پر دستیاب ہوں گے۔ انتظامیہ کے مطابق نئے ’ڈریس كوڈ‘ سے مندر میں آنے والے تمام زائرین کے پاؤں مکمل طور ڈھکے ہوں گے اور اسے پہننے میں کوئی دقت نہیں ہوگی۔ تاہم انھوں نے کہا کہ یہ شرائط بھارت کے شہریوں پر نافذالعمل نہیں ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انتظامیہ کا کہنا تھا کہ بھارتی باشندے پہلے سے ہی پورے بدن کو ڈھکنے والے کپڑوں میں مندر آتے ہیں۔ کاشی وشوناتھ مندر کی انتظامیہ کے اس فیصلے پر حیرت انگیز طور پر غیر ملکی سیاح ناراض نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس وہ پرجوش اور خوش نظر آ رہے ہیں۔

Rehan Jaiswal Photographپولینڈ کی سیاح روسا کہتی ہیں: ’مجھے اس کے لیے ساڑھی پہننا قبول ہے۔ بھارتی خواتین کا ساڑھی پہن کر مندر جانا یقینی طور پر قابل احترام عمل ہے. میں بہت خوش ہوں کہ مجھے ساڑھی پہننے کا موقع ملے گا۔‘ وہیں سویڈن کے ڈیوڈ کو بھی اس ڈریس کوڈ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔ ان کے مطابق ’یہ عزت و احترام ظاہر کرنے کا طریقہ ہے۔‘ جبکہ ٹوئٹر پر بعض لوگ مندر میں داخلے کے لیے کسی قسم کے ڈریس کوڈ کے خلاف نظر آئے۔ کاشی وشوناتھ مندر میں تقریبا 50 ہزار افراد روزانہ زیارت کے لیے پہنچتے ہیں جن میں بیرون ملک کے سیاحوں کی بھی قابل ذکر تعداد ہوتی ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *