قومی وطن پارٹی اور کامیابی کے تقاضے

longeen Yousafzaiسلامتی و خودمختاری، ترقی و خوشحالی، جمہوی قدروں کی بقا اور تسلسل اور انسانی حقوق کی آزادی و تحفظ ایسے عوامل ہیں جو کسی معاشرے میں سیاسی سوچ کی لہروں کو متحرک کرتے ہیں۔ ملکی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے لوگ سیاسی عمل کا حصہ بنتے ہیں کبھی کارکن کی شکل میں تو کبھی لیڈر کی شکل میں۔ ہم خیال کارکن اپنی سیاسی منزل کا تعین کرنے اور مقاصد کے حصول کے لئے متحد ہوکراپنی سیاسی تنظیم تشکیل دیتے ہیں جوایک دستور کے تحت وقت اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنا منشور ترتیب دیتی ہے اور پھر اپنے اہداف کے حصول کے لئے عملی جدوجہد کرتی ہے۔ پاکستان کی تاریخ سیاسی تنظیموں کے کردار سے بھری پڑی ہے۔ آزادی کے جدوجہد سے لے کر جوہری طاقت بننے اور صوبائی خودمختاری تک سیاسی تنظیموں کا کردار انتہائی اہم رہا ہے۔ قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ، جمعیت علمائے پاکستان اور پاکستان کمیونسٹ پارٹی سے لے کر موجودہ دور کی متعدد سیاسی تنظیموں کی موجودگی پاکستان میں سیاسی عمل اور جمہوری جدوجہد کی عملی عکاسی ہے۔
پاکستان کے سیاسی منظر نامے پر قومی وطن پارٹی کا ظہور بھی اسی سلسلے کی ایک کھڑی ہے۔ پارٹی کی تشکیل کے ساتھ اس کے رہنماو¿ں اور کارکنوں پر عوامی خدمت کی انتہائی اہم ذمہ داری آن پڑی ہے۔ مئی 2013ءکے عام انتخابات میں قومی وطن پارٹی ایک متوازن سیاسی جماعت کے طور پر ابھری۔ پارٹی نے قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی دس نشستیں حاصل کی۔ پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ قومی وطن پارٹی کے اتحاد کا پہلا تجربہ انتہائی تلخ تھا۔ تاہم ایک نئی سوچ اور مناسب منصوبہ بندی کے تحت دوسری بار صوبائی حکومت میں شمولیت قومی وطن پارٹی کا دانشمندانہ اقدام ہے جس سے صوبے کی ترقی و خوشحالی پر کافی مثبت اثرات پڑسکتے ہیں۔ اس بار قومی وطن پارٹی کے حصے میں سینئر صوبائی وزارت کے علاوہ ایریگیشن، سوشل ویلفیئر، معدنیات، صنعت اور ٹیکنیکل ایجوکیشن کی وزارتیں آئی ہیں۔ بظاہر تو یہ عام سی وزارتیں ہیں لیکن اٹھارویں ترمیم کے خاتمے کے بعد صوبے کے لئے ان کی اہمیت اورافادیت مزید بڑھ گئی ہے۔
قومی وطن پارٹی کے چند دوستوں سے ملاقاتوں کے بعد ذہن میں خیال آیا کہ پارٹی کی قیادت اور کارکنوں کو پارٹی کے اہداف کے حصول کے لئے چند تجاویز پیش کی جائے۔ دیرپا امن و پائیدار ترقی، معاشی خوشحالی، اچھی طرز حکمرانی کا فروغ، آزاد و خودمختار خارجہ پالیسی، توانائی بحران کا خاتمہ اور پختونوں کے اصل شناخت کی بحالی قومی وطن بارٹی کے ترجیحات میں شامل ہیں۔ قومی وطن پارٹی کیلئے لازم ہوگا کہ اپنے اہداف کے حصول کی خاطر کوئی بھی حکمت عملی وضع کرنے سے پہلے داخلی اور خارجی حالات و واقعات کا تفصیلی جائزہ لے۔
گزشتہ دس بارہ برسوں کے دوران پورے ملک میں امن و امان کے مسائل مختلف شکلوں میں جنم لیتے رہے ہیں۔ تشدد، انتہا پسندی اور دہشت گردی نے پاکستان کے دیگر علاقوں کے ساتھ ساتھ خیبر پختونخواہ اور قبائلی علاقوں کو اپنے حصار میں لیے رکھا۔ امن وامان کی کشیدہ صورتحال کے پیچھے مختلف اندرونی و بیرونی عوامل کار فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ امن اور ترقی کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے۔ جس طرح امن کی غیر موجودگی میں ترقی کا کام کٹھن ہو جاتاہے بالکل ایسے ہی ترقی کئے بغیر امن وامان کو یقینی بنانا بھی ایک مبہم عمل ہے۔ غربت، بیروزگاری، تعلیم کی کمی، بنیادی سہولتوں کا فقدان، انصاف کا نہ ہونا اور وسائل تک رسائی کا مسئلہ ایسے عناصر ہیں جو کشیدگی اور امن و امان کی غیر یقینی صورتحال کو جنم دیتے ہیں۔ دیرپا امن کے لئے ضروری ہے کہ صوبہ بھر میں پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کی جائے۔
آزاد و خود مختار خارجہ پالیسی قومی وطن پارٹی کے اہداف میں شامل ہے۔ خارجہ پالیسی چونکہ وفاقی مضمون ہے اس لئے پارٹی کو ثابت کرنا ہوگا کہ اس میں ایک مستحکم وفاقی جماعت بننے کی تمام صلاحیتیں موجود ہیں۔ اپنی موجودگی تمام صوبوں بشمول گلگت بلتستان، آزاد جموں و کشمیر اور قبائلی علاقوں میں ثابت کرنا ہوگی تب ہی پارٹی مو¿ثر انداز میں آزاد و خودمختار خارجہ پالیسی کی وکالت کرسکے گی۔ پارٹی کے اندر پڑھے لکھے تجربہ کار لوگ موجود ہیں جن کے علم اور تجربے کا موزوں اور بروقت استعمال کرنا ہوگا۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے قابل اور ذہین لوگوں کو تیار کرنا ہوگا۔ اس ضمن میں نوجوانوں کی تیاری مستقبل کے لئے قابل ذکر انوسٹمنٹ ثابت ہو گی۔ پارٹی کارکنوں، ماہرین، اساتذہ، صحافیوں، وکلا اور نوجوانوں پر مشتمل ایک ”تھنک ٹینک“ قائم کرنے کی ضرورت ہے جو خارجہ پالیسی کے حوالے سے متحرک ہو اور اس کے مختلف پہلوو¿ں کا باقاعدہ جائزہ لے کر اپنی سفارشات مرتب کرے۔
موروثی سیاست ہمیشہ سے جمہوریت کے رستے میں رکاوٹ رہی ہے۔ قومی وطن پارٹی کو یہ تاثر غلط ثابت کرنا ہوگا ورنہ دیگر سیاسی جماعتوں کی طرح یہ پارٹی بھی روایتی سیاست کا شکار ہو جائے گی۔ پارٹی کے اندر جمہوری قدروں اور فیصلوں کو فروغ دینا ہوگا۔ پارٹی کو اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کے لئے اپنی صفوں میں نئے لوگوں کو سامنے لانا ہوگا جو تعلیم یافتہ، مخلص، اور دیانت دار ہوں۔ ان کی سیاسی تربیت کرنا ہو گی اور پارٹی کے اندر تکثریت کو فروغ دینا ہو گا۔ اس کے علاوہ بہتر طرز حکمرانی اور جمہوری قدروں کے فروغ کے لئے پارٹی میں دوہری ذمہ داریاں رکھنے کی روایت کو ختم کرنا ہو گا۔ پارٹی کے جن عہدہ داروں کے پاس کوئی سرکاری ذمہ داری بھی ہے انہیں پارٹی کے بہترین مفادات میں کسی ایک عہدے سے رضاکارانہ طور پر مستعفی ہو کر نئی قیادت کو موقع دینا چاہیئے۔
خیبر پختونخواہ کی اکثریتی آبادی پڑھے لکھے نوجوانوں پر مشتمل ہے جو کہ بد قسمتی سے بے روزگار ہیں۔ وسائل کی کمی اور ھنر کی عدم دستیابی کی وجہ سے زیادہ تر نوجوان پردیس میں معمولی نوکریاں کرکے مشکل سے گزر بسر کرتے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے بعد بسا اوقات شدید نفسیاتی دباو¿ کا شکار ہو کر یا پھر تنگ آمد بہ جنگ آمد کی مانند تباہ کن راستوں پر چل پڑتے ہیں۔ کوئی طالب بن جاتا ہے تو کوئی جہادی۔ نوجوان نسل کی تباہی اصل میں پوری قوم کی تباہی ہے۔ ان کو تعلیم، روزگار اور تحفظ دینا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ ٹیکنیکل ایجوکیشن کی وزارت کے ذریعے قومی وطن پارٹی نہ صرف دیرپا امن اور پائیدار ترقی کےاہداف کو حاصل کر سکتی ہے بلکہ نوجوانوں کے ساتھ ساتھ پورے خیبر پختونخواہ کی عوام کو معاشی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔
تکنیکی تعلیم و تربیت کے ادارے صوبہ بھر میں جہاں بھی قائم ہیں ان کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ضروری ہے۔ مشنری، آوزار وآلات کی فراہمی اور جدید بنیادوں پر تعلیم و تربیت کے علاوہ ان اداروں کا دائرہ کار صوبے کے پسماندہ علاقوں تک پھیلانا انتہائی اہم ہے۔ ہر تحصیل کی سطح پر ایک بڑے ٹیکنیکل سکول یا کالج کا قیام اور اس میں تعلیم کی مفت فراہمی کافی حد تک غربت اور بیروزگاری کے خاتمے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ تکنیکی تعلیم و تربیت کے حوالے سے موجود قوانین کو دیکھنے کی ضرورت ہے اور جہاں ضروری ہو وہاں اصلاحات بھی کی جانی چایئے۔ اس ضمن میں خیبر پختونخواہ کی ایک واضح اور جامع پالیسی ہونی چاہیے جو جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ کارخانے اور صنعتیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے بہترین ذرائع ہیں ان کے قیام سے جہاں لاکھوں بیروزگار نوجوان برسرروزگار ہوسکتے ہیں وہاں امن و امان کو قائم رکھنے میں مدد بھی مل سکتی ہے۔
توانائی بحران کے حل کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخواہ کے کئی دیگر مسائل بھی جڑے ہوئے ہیں۔ نئے ڈیموں کی تعمیر اور توانائی کے متبادل ذرائع پر کام کرنا ہوگا جس سے نہ صرف توانائی کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے گا بلکہ زراعت، صنعت و حرفت، معدنیات کی ترقی اور ٹیکنیکل ایجوکشن کے شعبوں میں بھی خاطر خواہ بہتری آئے گی۔
افغانستان میں گذشتہ کئی دہائیوں سے جاری لڑائی جھگڑوں کا براہ راست اثرافغانستان اور پاکستان میں مقیم پختونوں پر پڑا۔ پختون قوم کی ثقافت، اقدار اور روایات بری طرح متاثر ہوئیں اور پختون تشخص کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا۔ اپنی تشخص اور عزت کی خاطر محنت کرنا زندہ قوموں کی نشانی ہے۔ تاہم قومی وطن پارٹی کو پختون تشخص کی بحالی کا کام نہایت احتیاط سے کرنا ہوگا کیونکہ پختون تشخص کے ساتھ پختون قومیت کا مسئلہ جڑا ہوا ہے جو جغرافیائی اعتبار سے اہم اور حساس ہے۔
مستحکم جمہوری اور مثبت سیاسی عمل کے فروغ کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی تعلیم و تربیت اور بحث ومباحثے کو تقویت دی جائے۔ سیاسی تعلیم و تربیت کے بغیر سیاست کے میدان میں اترنا ہوا میں محل بنانے کے مترادف ہے۔ پارٹی قیادت کے ساتھ ساتھ تمام کارکنان کے لئے ضروری ہے کہ وہ داخلی و خارجی سیاست سے پوری طرح باخبر ہوں۔ خارجہ تعلقات ہو یا دفاعی معاملات، معیشت، زراعت، صنعت و حرفت، صحافت، صحت، تعلیم ،انسانی حقوق، امن و ترقی غرض ہر شعبہ زندگی کے متعلق معلومات کا ہونا ایک کامیاب سیاسی کارکن کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ پارٹی کے تمام کارکنان کو اپنے منشوری اہداف، ان کے حصول کے لائحہ عمل اور طرز عمل کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہیئے۔ تمام داخلی و خارجی امور کو سمجھنے اور انکے حوالے سے اپنا واضح اور قابل عمل مو¿قف پیش کرنے کیلئے قومی وطن پارٹی کو مختلف تھنک ٹینک تشکیل دینے چاہیئے۔ جو نہ صرف پارٹی کی کامیابی اور مقبولیت کا سبب بنیں بلکہ حکومتی سطح پر بہتر طرز حکمرانی کے فروغ میں بھی کارآمد ہوں۔
ذوالفقارعلی بھٹواور بینظیر بھٹو کی لکھی ہوئی کتابیں جیالوں کو رہنمائی فراہم کرتیں ہیں۔ خان عبدالغفار خان، ولی خان اور غنی خان کی لکھی ہوئی کتابیں عوامی نیشنل پارٹی کے کارکنوں کی کام آتی ہیں اسی طرح جمعیت علمائے اسلام مولانا مفتی محمود اور جماعت اسلامی مولانا مودودی کے افکار سے فیضیاب ہوتی ہیں۔ قومی وطن پارٹی کو اپنا سیاسی لٹریچر لکھنا اور ترتیب دینا ہو گا۔ پارٹی کی سیاسی تاریخ، جدوجہد، کامیابیاں، ناکامیاں اور درپیش مسائل کو تحریر اور شائع کرنے سے نہ صرف پارٹی کی نوجوان قیادت کو رہنمائی ملے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لئے سیاسی تاریخ کا ایک قابل غور پہلو میسر ہوگا۔ پارٹی کے اندر پڑھے لکھے لوگوں کی کمی نہیں اور وہ اس ضمن میں انتہائی اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ بہتر منصوبہ بندی کیلئے ہمیشہ تحقیق کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ قومی وطن پارٹی کو مو¿ثر نتائج کے حصول کے لئے سیاسی تحقیق پر توجہ دینی ہوگی۔ اس مقصد کے لئے پارٹی کا ایک 'ریسرچ اینڈ ڈاکومینٹیشن' یونٹ کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے جوایک طرف پارٹی کیلئے لٹریچر ترتیب دینے کا کام کرے تو دوسری طرف پارٹی کی مختلف کارروائیوں کو تحریری طور پر ریکارڈ کرکے سال کے آخر میں 'سالانہ کارکردگی رپورٹ' بھی شائع کرے۔ جس کی بدولت پارٹی کی شفافیت بڑھے گی اور عوام کا اعتماد قائم رہے گا۔
قومی وطن پارٹی کواپنے زیرانتظام تمام وزارتوں اور محکموں کی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے تاکہ ان کی کارکردگی، وسائل، مسائل اور ضرورتوں کا تجزیہ کیا جائے۔ اس حوالے سے صوبائی سطح پرایک جامع مشاورتی عمل شروع کرنے کی ضرورت ہے جسمیں صوبہ بھر کے عالم فاضل اور ماہر شخصیات کو مدعو کیا جائے اور مذکورہ وزارتوں اور محکموں کی بہتری و فعالیت کے ساتھ ساتھ بہتر عوامی مفاد میں حکومتی ترجیحات کو ترتیب دیا جائے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *