ہوٹل لندن میں خریدا، لیکن رقم کہاں سے بھیجی

پاکستان کی سینیٹ کی قائمہ کمیٹmoneyی برائے خزانہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرمایہ کار کی جانب سے لندن میں ہوٹل کی خریداری کے لیے رقم کی منتقلی کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے گی۔بدھ کو اسلام آباد میں کمیٹی کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 2012 میں پاکستان کی کاروباری شخصیت نے لندن میں فائیو سٹار ہوٹل سات کروڑ 50 لاکھ ڈالر میں خریدا تھا۔انھوں نے بتایا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پاکستانی سرمایہ کار کو خط ارسال کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ’ایف بی آر کی مصدقہ معلومات کے مطابق نومبر سنہ 2012 میں آپ نے لندن میں نو ارب روپے مالیت سے ہوٹل خریدا ہے۔ اور یہ اثاثہ انکم ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ظاہر نہیں کیا گیا۔‘سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قانون کے تحت کوئی بھی پاکستانی اگر بیرون ملک جائیداد خریدتا ہے یا سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے تو اُسے سٹیٹ بینک آف پاکستان سے منظوری لینا پڑتی ہے۔اسٹیٹ بینک کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ بیرون ملک سرمایہ کاری سے متعلق انھیں پاکستان کے ایک بڑے نجی بینک سمیت کئی صنعتوں کے مالک کی جانب سے کوئی درخواست موصول نہیں ہوئی ہے۔ اس کا مطلب تو یہ ہے سٹیٹ بینک کی اجازت کے بغیر خریداری ہوئی اور رقم بینکنگ سسٹم کے ذریعے منتقل نہیں ہوئی، تو 75 ملین ڈالر پاکستان سے باہر کیسے منتقل کیے گئے۔‘سینیٹ کی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ ’کسی نہ کسی طرح تو یہ رقم باہر منتقل ہوئی ہے اور یہ منی لانڈرنگ ہے۔ ہم اس مخصوص کیس کے ذریعے پاکستان سے غیر قانونی طور پر ڈالر کی بیرون ملک منتقلی کو سامنے لانا چاہتے ہیں۔‘

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *